حضرت خواجہ غریب نواز ہندوئوں اور مسلمانوں میں جذباتی یکجہتی کے پل

فیروز بخت احمد
جہاں تک چشتیہ ، نقشبندیہ ، قادریہ وغیرہ سلسلوں کا تعلق ہے ، ان تمام صوفیائے کرام کی خانقاہوں و جماعت خانوں میں ہر مذہب کے لوگ جاتے تھے اور بلا کسی قوم و فرقہ کی تفریق کے ، سبھی کے لیے لنگر تقسیم ہوا کرتا تھا۔ اجمیر میںحضرت خواجہ شیخ معین الدین چشتیؒ،دہلی میں خواجہ حضرت نظام الدین اولیائؒ، حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ، حضرت خواجہ چراغ دہلویؒ،اجودھن میں حضرت بابا فرید ؒ ، کشمیرمیں نند رشی نور الدین ولی ؒ ، گلبرگہ میں حضرت خواجہ گیسو دراز ؒ وغیرہ سبھی وہ صوفیائے کرام تھے کہ جن کی خانقاہوں میں خیر سگالی کے پر سکون ماحول میں تعلیمات کا سلسلہ چلتا تھا اور جہاں صوفیوں ، قلندرو

Read more

ایک ڈال کے پنچھی

فاطمہ حسین
جون کی چلچلاتی دھوپ میں ہر گوشہ چمک رہا تھا۔لوگ اس شدید گرمی سے بچنے کے لئے ٹھنڈے مشروبات کی دکانوں پر مجمع کی صورت میں جمع تھے۔ لو کے تھپیڑوں سے بچنے کے لئے فٹ پاتھ پر بسیرا کرنے والوں نے بھی وہاں سے ہٹ کر پیڑوں کی ٹھنڈی چھائوں تلے پناہ لے لی تھی لیکن اس جھلسا دینے والی دھوپ میں ایک نوجوان پتھر کے تپتے فٹ پاتھ پرسرجھکائے کہیں سوچوں میں گم آگے بڑھ رہا تھا۔ اس نے اپنی میلی سی پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک تہہ کیا کاغذ نکالا اور اسے دیکھ کر زیر لب تلخ سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا’’دس بجے انٹرویو سینٹر پر پہنچنا ضروری ہے۔ وقت کی پابندی تو ایسے کراتے ہیں جیسے سروس فوراً مل جائ

Read more

میں بھی حاضر تھا وہاں۔۔۔۔۔۔

اتحاد ملّت کانفرنس
نئی دہلی: عالم اسلام میں عوامی بیداری اور اسلام پسندی کی لہر سے مغرب خوف زدہ ہے اور انہیں یہ تشویش لاحق ہے کہ جمہوریت کے نتیجہ میں منتخب ہونے والے حکمراں اس کے اشاروں کے غلام ہوں گے یا نہیں؟ انقلاب ایران کا تلخ تجربہ مغربی طاقتوں کے سامنے ہے۔ ایران دنیا کے منظر نامہ پر واحد ایسا ملک ہے، جو امریکہ جیسے سپر پاور کو چیلنج کرتے ہوئے پوری شان سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور خود کفیل بن کر اسلام دشمن طاقتوں کو للکار رہا ہے؛ ان خیالات کا اظہار دمشق کے معروف عالم دین آیت اللہ حسینی نے غالب اکیڈمی دہلی میں آل انڈیا متحدہ ملی محاذ کے زیر اہتمام منعقد اتحاد ملت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے

Read more

پاکستانی فوج کا ڈرامہ

مبین ڈار
اسامہ بن لادن کی ہلاکت ایک ایسی بات تھی جس کے ذریعے پاکستان کے سیکورٹی ایسٹبلشمنٹ کی ناکامی کا پردہ فاش ہوا اس لیے پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسی بطور خاص تنقید کا نشانہ بنی اور یہ ایک قدرتی بات بھی ہے۔ ظاہر ہے اس صورتِ حال نے پاکستانی فوج کو عجیب وغریب صورتحال سے دو چار کردیا ہے اور بظاہر اس کے حوصلے پست ہوئے ہیں۔ ایسی صورتحال 1991 میں اس وقت سامنے آئی تھی جب ڈھاکہ میں اسے زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس میں پاکستان کا مشرقی بازو بھی ٹوٹ گیاتھا لہٰذا لوگوں کا غم وغصہ شباب پر تھا۔ اس کے بعد دوبارہ فوج اور آئی ایس آئی کی بدترین ناکامی اور نااہلی کا منظر پاکستان کے لوگوں نے اس وقت دیکھا جب 2مئی کو اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈوز نے مار گرایا۔ پاکستان میں بلاشبہ آئی ایس آئی کی چوکسی اور اہلیت پر طرح طرح کے سوال اٹھائے

Read more

منیشا کی غلطی

کانس فلم فیسٹیول میں حصہ لے کر واپس آ رہیںمنیشا لانبا کو ایئر پورٹ سے باہر میڈیا والوں کو کانس کے تجربات کے بجائے اپنی گرفتاری کے بارے میں بتانا پڑ رہا تھا۔ دراصل ، ان کے پاس سے 50لاکھ روپے کی جویلری برآمد ہوئی تھی، لیکن منیشا کا کہنا ہے کہ ان کے کاغذات میں کچھ کنفیوژن تھی، اس وجہ سے ایئر پورٹ اتھارٹی نے انہیں روک لیا تھا۔ ایسا ہونے سے ایک بار تو وہ خود

Read more

پہلی اپیل کیا ہے

اس کالم کی شروعات میں ہم نے آپ کو پہلی اپیل، دوسری اپیل اور شکایت کے بارے میں بتایا تھا۔

Read more

ہاشم پورہ۔ملیانہ فساد : اب کیا انصاف ملے گا؟

سدھارتھ رائے
ہندوستانی سیاست میں ناپاک اور پاک صاف میں فرق نہیں ہے۔ ہندوستان کے لیڈروں میں بیوقوفی اور دور اندیشی کا فرق نہیں ہے۔ ہندوستان کی سرکاروں میں اچھی حکومت اور خراب حکومت کا بھی فرق نہیں ہے۔ فرق صرف ایک ہے اور یہی فرق اولین ہے اور پارٹیوں کی تشریح کرتا ہے۔ بی جے پی فرقہ پرست ہے، آر ایس ای

Read more

ہاشم پورہ: یو پی پولس کی تاریخ کا ایک سیاہ باب

وبھوتی نارائن رائے
زندگیکے کچھ تجربے ایسے ہوتے ہیں، جو زندگی بھر آپ کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ ایک برے خواب کی طرح وہ ہمیشہ آپ کے ساتھ چلتے ہیں اور کئی دفعہ تو قرض کی طرح آپ کے سر پر سوار رہتے ہیں۔

Read more

مرکز بہار پر مہربان مگر نتیش پھر بھی پریشان

اشرف استھانوی
ہندوستانی جمہوری نظام میں مرکزاور ریاستوں کا ٹکرائو یا اختلاف عام بات ہے۔ خاص کر اس صورت میں جب مرکز اور ریاست میں دو مختلف پارٹیاں یا اتحاد بر سر اقتدار ہوں۔ایسے میں تو بلا وجہ بھی اختلافات سامنے آتے رہتے ہیں اور ہر دن ایک نیا بہانہ بنا کر دونوں ایک دوسرے کو ہدف تنقید بناتے رہتے ہیں۔ لیکن اس معاملے میں بازی اکثر ریاستوں کے ہاتھ لگتی ہے کیوں کہ اولاً تو مرکز کے پاس ریاستوں کو نشانہ بنانے کے مواقع کم رہتے ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ اس کے ٹارگٹ کئی ہوتے ہیں۔ جب کہ ریاست کے پاس مواقع بھرمار ہوتے ہیں اور اس کا نشانہ صرف ایک یعنی مرکزی حکومت ہوتی ہے۔کچھ ایسے ہی حالات فی الوقت بہا

Read more