انصاف کے لئے درد در بھٹکتے فاربس گنج کے متاثرین

عابد انور
ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے حصول انصاف کتنا مشکل امر ہے اس کا اندازہ فاربس گنج کے بھجن پور میں پولس فائرنگ میں ہلاک ہونے والے متاثرین کو دیکھ کر اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔3 جون کو پولس فائرنگ میں ایک چھ ماہ کا بچہ ایک خاتون سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے لیکن میڈیا نے، جس میں اردو میڈیا بھی شامل ہے، اسے مکمل طور پرنہیں تو مجموعی طور پر ضرور نظر انداز کردیا ۔ یہ بات ہم نہیں کہہ رہے ہیں اخبارات پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے، جہاں پٹنہ سے شائع ہونے والے ہندی کے اخبارات دینک ہندوستان، جاگرن اور پربھات نے اس واقعہ کو کوئی اہمیت نہیں دی بلکہ ایک دو دن کے علاوہ اس واقعہ کے بارے میں اس میں کوئی خبر نہیں

Read more

سماج واد: ایک ادھین کتاب کا اجراء

نئی دہلی : ایم آر مورارکا فاؤنڈیشن اور پرگیا سنستھان کے ذریعہ گزشتہ 19 جون کو تین مورتی بھون میں منعقدہ ایک پروگرام میں مہاویر پرساد آر مورارکا کی کتاب ’سماج واد : ایک ادھیین‘ کا اجراء کیا گیا۔ کتاب کا اجراء ڈاکٹر نامور سنگھ نے کیا۔ پروگرام کی صدارت ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک نے ک

Read more

کئی چراغ بجھ گئے

منظر عباس
سیما اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی۔ بچپن سے ہی وہ لاڈو پیار سے پلی تھی۔ اپنے خاندان میں اکلوتی لڑکی تھی۔بہت ذہین تھی، عقل و شعور والی تھی ۔صوم و صلوٰۃ کی پابند تھی۔ ساری باتیں تھیں، لیکن بدنصیب تھی۔ علم حاصل کرنے میں کافی تیز تھی۔ مڈل اسکول سے لے کر ہائی اسکول تک تمام امتحان میں اچھے نمبر سے کامیاب ہوئی تھی۔ میٹرک کے امتحان میں تو اس نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔ پھر اس کاداخلہ کالج میں ہوا۔ وہاں بھی اس نے خوب محنت کی اور فرسٹ ڈویژن سے آئی اے کا امتحان پاس کیا۔ والدین نے پڑھائی کا سلسلہ نہیں روکا اور سیما نے بی اے میں بھی داخلہ لیا۔ وہ بی اے کے تین سال کافی لگن سے پڑھتی رہی۔ کسی طرف دھیان نہیں لگائی ۔ اس کا کوئی دوسرا مشغلہ بھی نہ تھا ۔ اسے کسی چیز سے الفت نہیں تھی ۔ اور پھر اس کی محنت رنگ لائی۔ آج اس کا بی اے کا ریزلٹ آنے والا تھا۔ اور جب ریزلٹ آیا

Read more

میرے زمانہ کی دلی

سید ضمیر حسن دہلوی
دلّی کے دکانداروں کی بھی عجیب شان تھی۔ صبح نو دس بجے تو گھر سے نکل کر دکان جاتے تھے۔ ذرا دوپہر ہوئی اور سورج نے سر اٹھایا تو انہوں نے نوکر سے کہہ کے پردے چھڑوا دیے۔ سفید براق چاندنی پر گاؤ تکیہ اور بغلی تکیہ لگائے مزے سے بیٹھے رہے۔ جو کوئی اللہ کا بندہ ان کی روزی کا فرشتہ بن کر آتا اسے بٹ لیتے تھے۔ یہ نہیں کہ آتے جاتے لوگوں کو بیسواؤں کی طرح اشاروں سے بلا رہے ہیں۔ پڑوسی دکانداروں کی ٹوہ میں لگے بیٹھے ہیں۔ یہی کوشش کرتے ہیں کہ بس ایک

Read more

اسلام اور تکثیری معاشرے میں بقائے باہم کا مسئلہ

وارث مظہری
اس وقت غیر مسلم ممالک میں اقلیت کی حیثیت سے مقیم مسلمانوں کی تعداد تقریباً چالیس فیصد ہے۔ اس اعتبار سے ان ممالک میں دوسری قوموں کے ساتھ مسلمانوں کے بقائے باہم (co-existance) کا مسئلہ نہایت اہمیت اختیار کرلیتا ہے۔ اس وجہ سے عرصے سے اس پر مسلم اور غیر مسلم حلقوں میں بحثیں جاری ہیں، جن میں پچھلے چند سالوں میں کافی تیزی آگئی ہے۔ یہ مسئلہ جتنا مسلم اقلیت کے لیے اہم ہے، اسی قدر ان ممالک کی اکثریت کے لیے بھی کیوں کہ دونوں ایک ملک کے شہری یاباشندے ہیں۔ مختلف سطحوں پر دونوں ایک دوسرے کی ضرورت ہیں۔ اگر دونوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں، باہمی اعتماد میں کمی آتی ہے تو اس کانقصان دونوں فری

Read more

ہند پاک مذاکرات : چھوٹے قدم بڑھائے جا سکتے ہیں

سدھارتھ رائے
آج بھی پاکستان تاریخ کے اس حادثہ، جسے ملک کی تقسیم کہتے ہیں، سے نکل نہیں پایا ہے۔پاکستانی سوچ آج بھی 1947 میں ہی پھنسی ہوئی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ ہندوستان کی مخالفت کو ہی اپنی زندگی کا نصب العین ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان آج بھی ہندوستان کو ایک پڑوسی ملک کی طرح نہ دیکھ کر ہندو راشٹر کی طرح دیکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان آج بھی اپنی مخالف ذہنیت سے نکل نہیں پایا ہے۔ در اصل، پاکستان خود کو ایک اسلامی ملک کی حیثیت سے دیکھتا ہے اور س

Read more

پاکستان میں صحافت

سہیل انجم
صحافت یوں تو متاع حیات کو ہتھیلی پر لے کر چلنے کا نام ہے ۔ لیکن اگر حالات سازگار نہ ہوں اوراس متاع حیات کے قدم قدم پر لٹنے کے خطرات موجود ہوں تو ان حالات میں صحافت کا چراغ جلائے رکھنا کوہکن کے جوئے شیر نکالنے سے بھی کہیں زیادہ خطرناک اور مشکل ہے۔ لیکن آفریں ہے پاکستان کے ان صحافیوں کو جو کوچہ قاتل میں بھی شاہانہ انداز میں نقد جاں لے کرچلنے اور اپنے خون سے شمع مقتل کی لوکو تیز کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔ پاکستان جس قسم کی اندرونی وبیرونی سازشوں کا شکار ہے اور جس نوعیت کی جنگوں میں ملوث ہے وہ نہ تو کسی تعمیری کاز کے لیے سازگار ہیں اور نہ ہی صحافتی فرائض کی ادائیگی کے لیے معاون۔ لیکن ا

Read more

سیاست کا فریبی اور بناوٹ چہرہ

میگھناد دیسائی
کہتے ہیں، جنگ کے وقت سب سے زیادہ نقصان سچ کا ہی ہوتا ہے۔ ہندوستانی سیاست میں سچ کی شمولیت نہیں رہی۔اس لیے ہم اسے لے کر زیادہ فکر مند بھی نہیں رہتے، لیکن گزشتہ دنوں ہمیں زبردست طور پر فریب، بناوٹی پن، الزام در الزام اور تشہیری باتیں دیکھنے سننے کو ملیں۔ یہ پہلا موقع تھا جب رام دیو ایشو پر حکومت نے پلٹی ماری۔ پہلے وزیر خوشامد کرنے اور بابا رام دیو کے دیدار کرنے ایئر پورٹ پہنچے۔ جس کسی نے بھی بابا رام دیو کی کارگزاریوں کو نزدیک سے دیکھا اس

Read more

پاکستان کی بقا کے لئے دہشت گردوں پر لگام کسنا ضروری

راجیو رنجن تیواری
پہلے القاعدہ سربراہ اسامہ بن لا دن ، پھر اس کے ایک اہم ممبر الیاس کشمیری کا مارا جانااوراب پاکستان میں یکے بعد دیگرے ہو رہے بم دھماکے نے سب کو سکتے میں ڈال دیا ہے۔ پتہ نہیں پاکستان کو اب بھی اس بات کا احساس ہے یا نہیں کہ اس نے جو برسوں پہلے ہند مخالف دہشت گردی کی فصل بوئی تھی، اب وہی پھل پھول رہی ہے۔ وہاں کے سیاست دانوں کو کم سے کم اب تو سمجھ ہی جانا چاہیے، تاکہ پاکستان کا مستقبل بہتر ہو سکے۔ ویسے موجودہ حالات کو دیکھ کر یہ نہیں لگتا کہ وہاں کے حالات اتنی جلدی بدلنے والے ہیں، کیوں کہ خون خرابے کی جڑیں پاکستان

Read more