روزہ تقویٰ حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے

محمد رضوان خان
رمضان المبارک اسلامی سال کا ایک عظیم اور جلیل القدر مہینہ ہے، نبی پاکؐ نے اس مہینے کو شہر مبارک اور شہر عظیم کہا ہے، اگر اس مقدس ماہ مبارک کو کامل شعور، جذبۂ اخلاص اور احمد مجتبیٰؐ کے رہنما خطوط کے مطابق گزارنے کی کوشش کی جائے تو آدمی کی زندگی میں یہ ایک ماہ انقلاب لانے کے لیے کافی ہے۔ اس ماہ عظیم کے حسنات و برکات کے ایک فرد کی زندگی پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ یقینا من جانب اللہ ہیں، اسی ماہ صیام میں قرآن مجید نازل ہوا۔ رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس میں ہر عمل کا ثواب ستر گنا یا اس سے بھی زیادہ ہے۔ اس مہینے کے روزے خدا کے لیے ہیں جس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے۔ وہ خالق کون و مکان جت

Read more

راجکمار سنتوشی: سسٹم سے بے اطمینانی کا سنیمائی سفر

سشما گپتا
سلیم جاوید کے بعد اگر کسی نے نوجوانوں کے غصیل اور ان کے باغی تیور پر توجہ مرکوز کرکے فلمیں بنائیں تو وہ ہیں راجکمار سنتوشی۔ حالانکہ راجکمار سنتوشی نے نہ صرف ایکشن فلمیںبنائیں بلکہ انہوں نے کامیڈی اور رومانٹک کامیڈی بھی پردۂ سیمیں پر پیش کرکے داد تحسین لوٹی۔ لیکن گزشتہ کچھ دنوں سے سنتوش کی قسمت ساتھ نہیں دے رہی ہے۔ ان کی دو فلمیں لٹکی ہوئی ہیں۔ ملٹی اسٹارر فلم ’’پاور‘‘ کے بارے میں اندیشہ جتایا جارہا ہے کہ یہ فلم ٹھنڈے بستے میں چلی گئی۔ وہیں ابھیشیک ایشوریہ رائے کی فلم ’ لیڈیز اینڈ جینٹل مین‘‘ ایشوریہ کے حاملہ ہونے سے لٹک گئی ہے۔ سنتوشی فلم انڈسٹری کے ان گنے چنے فلم سازوں میں سے ہیں جو سماجی مدعوں کو اپنی فلموں کے ذریعہ اٹھاتے رہتے ہیں۔ کئی بار یہ مدعے جب فلموں پر غالب ہوئے تو ان کی فلمیں

Read more

ہندوستان غریب یا ہندوستانی غریب

اعجاز احمد سیتا پوری
ہندوستان میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ غربت وافلاس کا ہے۔ غربت و پسماندگی کو دور کرنے کے لیے حکومت مختلف اسکیمیں نکالتی رہتی ہے اور تقریباً ہر ریاستی حکومت اپنے عوام کی فلاح وبہبود اور غربت وبے روزگاری کے نام پر ووٹ بینکنگ کرتی رہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہندوستان میں غربت کامسئلہ ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔بے شک ملک میں حکومت ہویا غیرسرکاری تنظیمیں سبھی افلاس وتنگدستی دور کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں، پھر یہ ملک روبہ ترقی بھی ہے، آئندہ دنوں میں اس کی معیشت بھی مستحکم ہوسکتی ہے اورہندوستان ترقی یافتہ ممالک سے مسابقہ کی دوڑمیں ہے، یقینا اس میں بھی اس کو ترقی حاصل ہوجائے گی اور وہ دن دورنہیں جب ہندوستان ترقی یافتہ ممالک میں شمار کیاجانے لگے گا، لیکن کیا ان تمام سرگرمی

Read more

میرے زمانہ کی دلی

سید ضمیر حسن دہلوی
دلی کی تعمیر کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔ناصر نذیر فراق نے لکھا ہے کہ جب لال قلعہ اور جامع مسجد بن کر تیار ہوگئے تو شاہجہاں نے حکم دیا کہ امراء اور رئوساء کی حویلیاں شہر کے بیچوں بیچ اور کاریگر ، صنعت کاروں کے کوچے کنارے کنارے بسائے جائیں۔دلی گیٹ سے جٹواڑے، قصاب پورے، گھونسیوں کے محلے، کھٹیکوں کی بستی،کونڈے والان، نیاریان،رود گران، چابک سواران اور فراش خانے سے گزر کر آپ مسجد فتح پوری پہنچ جائیں گے۔چاندنی چوک میں جو گلیاں اور کوچے ہیں وہ نوابین، رئوساء اور جوہریوں سے آباد تھے۔جامع مسجد کے قریب کوچہ چیلان میں علماء اور صلحاء رہتے تھے۔بنگش کے کمرے کے پاس نواب مصطفیٰ شیفتہ کی حویلی، صدر الصدور کی حویلی ، نواب دوجانے کا مکان ، نواب عزیز آبادی کا پھاٹک، ش

Read more

لوگ ریت پر گھر بنا کر فخر کرتے ہیں

محمد اصف ریاض
ایک آدمی زمین پر نیکی اور بھلائی کا کام شروع کرتا ہے۔وہ ایک عرصہ تک اس کام میں لگا رہتا ہے۔رات کی تاریکی میں اٹھتا ہے اور اپنے رب کو یاد کرتا ہے،رمضان کا مبارک مہینہ آتا ہے تو اس کے دن فرائض کی ادائیگی کے بعد تلاشِ معاش میں گزرتے ہیں اور راتیں عبادت و ریاضت میں، لیکن اسے کوئی دنیوی فائدہ نہیں دکھائی دیتا۔نہ ہی سماج میں وہ پہچانا جاتا ہے اور نہ ہی اسے کوئی مقام حاصل ہوتا ہے۔وہ گمنامی کی زندگی گزارتا رہتا ہے، یہاں تک کہ گھر اور سماج والے اسے نااہل قرار دے کر مسترد کرنے لگتے ہیں۔اسی کے ساتھ ایک دوسرا آدمی اپنا دنیوی کاروبار شروع کرتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے زمین پر پھیل جاتا ہے۔ وہ دنیا کما کر سماج اور قبیلہ میں اونچا مقام حاصل کرلیتا ہے۔ وہ ہر مقام پر آگے دکھائی دیتا ہے۔ اس کا اپنا ایک حلقہ بن جاتا ہے

Read more

دیہی کشمیر میں خود کشی کے بڑھتے رجحانات

شاہ جہاں افضل
عام دنیا میں کشمیری معاشرے کوایک ایسے قدامت پسند معاشرے سے تعبیر کیا جاتاہے جہاں عمر کے لحاظ سے چھوٹے اور نوجوان لوگوں نے ہمیشہ ہی اپنے بڑوں، بزرگوں کی عزت کی ہے، انہیں تعظیم کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ لیکن ان دنوں کشمیر کا جو منظرنامہ ہے وہ کوئی اور ہی داستاں بیان کرتا ہے۔اپنے علاوہ کسی اور کے نظریے کے تئیں کسی قسم کا صبر، قوت برداشت اور اسے سہہ لینے جیسی خصوصیات معاشرے سے بالکل ختم ہوتی جارہی ہیں۔ نئی نسل کی لڑکیاں اور لڑکے چیلنجوں کو قبول کرنے کے بجائے یہ محسوس کرتے ہیں کہ اپنی زندگیوں کو ختم کرلینا ہی تمام مسائل کا حل ہے اور اسی وجہ سے وہ خودکشی جیسا انتہائی خطرناک قدم اٹھاتے ہیں۔چنانچہ موصولہ اطلاعات کے مطابق صرف جنوری 2011 سے اب تک شمالی ک

Read more

اسکول چلیں ہم کا نعرہ تو اچھا ہے،مگر۔۔۔۔

خلیل احمد خلش
یکم جولائی سے نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوتے ہی اسکولوں کی رونق لوٹ آئی ہے۔ حسب سابق امسال بھی تعلیمی سیشن شروع ہوتے ہی ’’ سَرو شکشا ابھیان‘‘ کے تحت اسکول کے بچوں بچیوں نے اس نعرے کے ساتھ ریلیاں نکالیں۔’’ آدھی روٹی کھائیں گے اسکول پڑھنے جائیں گے‘‘۔تعلیمی نعرے دینے اور دلوانے والے سبھی علم پرور اور علم دوستوں کا اس بات پر زور تھا کہ غریب امیر سبھی بچے پڑھیں،سبھی آگے بڑھیں۔انہی تعلیمی سرگرمیوں کے درمیان سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی اداروں میں داخلوں کے لیے مارا ماری کا سلسلہ شروع ہوا۔ گلی کوچوں میں پرچون کی دکان کی طرح کھلنے والی تعلیمی دکانوں کے دکانداروں نے نونہالوں کا مستقبل سنوارنے کے لیے معیاری تعلیم ، اعلیٰ تعلیم یافتہ استادوں کے ذریعہ دینے کے خوبصورت اشتہار اخباروں م

Read more

سرکاری سے بھروسہ اٹھ رہا ہے

میگھنا دیسائی
چھبیس نومبر، 2008 کے المیہ کو ممبئی کے لوگ ابھی بھول بھی نہیں پائے تھے کہ 13 جولائی، 2011 کو پھر سے دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آگیا۔ مہاراشٹر میں کانگریس کی سرکار ہے، اس لیے کون وہاں کے قانون اور نظم و ضبط کی صورت حال پر تنقید کر سکتا ہے۔ ممبئی والوں کو بغیر کسی سرکاری مدد کے اس پریشانی سے باہر نکلنے کے لیے خود اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا پڑے گا۔ امریکی صدر براک اوبامہ نے بھی ہماری مدد کرنے کی پیش کش کی۔ دراصل، جس دن امریکی فوجیوں نے اسامہ بن لادن کو موت کے گھاٹ اتارا تھا، اسی دن ہمیں سمجھ لینا چاہیے تھا کہ ایسا واقعہ ہندوستان میں بھی پیش آ سکتا ہے۔ القاعدہ اور لشکر اس کا بدلہ لینے کے لیے ہندوستان کو اپنا نشانہ بنائیں گے، کیوں کہ اس کے لیے انہیں آئی ایس آئی کا تعاون بھی آسان

Read more

میں بھی حاضر تھا وہاں

مدرسہ قادریہ میں جلسۂ دستار بندی کا انعقاد
ہماچل پردیش: ’’جب حشر کے میدا ن میں اولین و آخرین کا اجتماع ہوگا، حضرت آدم ؑ سے حضرت محمدصلے اللہ علیہ وسلم تک تما م انبیا ء و اولیاء اور ساری مخلوق خداکے سامنے حاضر ہوگی اس وقت حافظ قرآن کے والدین کو بلا یا جائے گا، رب کائنات حافظ قرآن کے والدکی تاج پوشی کرے گا، جس کی روشنی عر ش اعظم کی روشنی سے زیا دہ ہو گی ۔‘‘اس فکر کا اظہار مدرسہ قادریہ، مسروالا، ہماچل پردیش کے نا ظم حضرت مولانا کبیر الدین فاران مظاہری نے جلسۂ دستار بندی کے موقع پر ہماچل پردیش ،پنجاب

Read more