برطانیہ، روپرٹ مرڈوک اور ڈیوڈ کیمرون

میگھناد دیسائی
برطانوی وزیر اعظم ہیرالڈ میک ملن سے جب پوچھا گیا کہ آپ کو اپنی مدت کار میں سب سے زیادہ خوف کس بات کا ہوتا تھا تو انہوں نے جواب دیا کہ وارادت سے انہیں سب سے زیادہ ڈر لگتا تھا۔ وزیر اعظم کی شکل میں ان کے نویں جانشیں ڈیوڈ کیمرون بھی اس بات سے بہت حد تک اتفاق رکھتے ہوں گے۔ حال ہی میں برطانیہ کو جس واقعہ نے سب سے زیادہ پریشان کیا ہے، اس کی شروعات روپرٹ مرڈوک والے واقعہ سے نہیں ہوئی، بلکہ اس کی شروعات ہوئی ملی ڈاؤلر کے قتل کے مقدمہ کی جانچ اور اس کے بعد اس کے اہل خانہ کو ہوئی پریشانی سے۔ اس کے والد کے بارے میں ایسا کہا گیا کہ انہوں نے اس فحش ویڈیو کو دیکھا، جس میں ملی کو دکھایا گیا تھا ا

Read more

اوسلو کے اندو ہناک واقعہ سے کیا ہندوستانی انٹیلی جنس ایجنسی کوئی سبق لے گی؟

عابد انور
دنیامیںجس طرح انسانی حقوق کے تئیں بیداری آئی ہے اور جس طرح انسانوںکو ازمنہ قدیم اور وسطیٰ کے نظریہ سے الگ ہٹ کر دیکھا جارہا ہے اسی طرح مسلمانوں کے لیے دنیا میں زمین تنگ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس وقت جانوروں کے حقوق کے لیے بھی پوری دنیا میں تحریکیں چل رہی ہیں، یہاں تک کہ ترقی پسند ممالک کی خواتین برہنہ ہوکر جانوروں کے تحفظ کے لیے مظاہرے کررہی ہیں،لیکن مسلمانوں کے حقوق کے لیے کوئی سامنے نہیں آرہا ہے کوئی یہ بتانے کے لیے تیار نہیں ہے کہ ان کے بھی حقوق ہیں اور انہیں دنیا میں اپنی پسند اور اپنے مذہب کے اعتبار سے جینے کا حق ہے ۔پوری دنیا میں کسی نہ کسی طرح انہیں خلفشار میں مبتلا رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔کہیں عورتوں کے پردہ کرنے پر پابندی لگائی جارہی ہے تو کہیں سر پر اسکارف باندھنے پر قدغن ہے تو کہیں حلال گوشت کھانے پر پابندی لگادی

Read more

اے انسانو!’’روزہ ‘‘ متقی و پرہیز گار بننے کا ذریعہ ہے

اسحاق گورا
ارشاد ربانی ہے کہ ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہوتم پر روزے فرض کر دیے گئے ہیںجس طرح تم سے پہلے والی قوموں پر فرض کیے گئے تھے۔امید ہے کہ اس سے تمارے اندر تقو یٰ کی صفات پیدا ہوں گی۔‘‘(البقرہ:183)
ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ’’ روزہ ‘‘اسلام کا ایک اہم رکن ہے جو بر صغیر ہند،پاک اور بنگلہ دیش وغیرہ میںروزہ ہی کہلاتا ہے جبکہ یہ فارسی زبان کا لفظ ہے۔قرآن و حدیث اور رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی زبان،عربی میں اس کو ’صوم‘ کہتے ہیں جس کی جمع ’صیام‘ ہے۔قرآن کریم میں یہی الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ہندی اور سنسکرت میں اسے ’ورت ‘ا

Read more

الہ آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا فیصلہ :کسانوں کے حوصلے بلند

ششی نارائن سنگھ
عوامی ترقی کے نام پر کسانوں کی زمین ہتھیانے کے سرکاری منصوبوں پر پانی پھرتا نظر آ رہا ہے۔الہ آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے گریٹر نوئیڈا کے کسانوں کی زمین کے بارے میں جوفیصلے آئے ہیں، وہ انصاف کی تاریخ میں میل کا پتھر ثابت ہونے کی طاقت رکھتے ہیں۔ ملک کے عام آدمی کو لگنے لگا ہے کہ آج جبکہ ہر طرف بدعنوانی کا راج ہے، ایسے میں جو کام سیاسی جماعتوں کو کرنا چاہیے، وہ انصاف کی نگہباں عدالتوں نے کر دکھایا۔اتر پریش حکومت نے گریٹر نوئیڈا کے کسانوں کی زمین زبردستی چھین لینے کی کوشش کی تھی، اس پر الہ آباد ہائی کورٹ نے لگام لگا دی ہے اور ملک کی سب سے بڑی عدالت نے اس فیصلہ کو صحیح قرار دیا ہے۔سپریم کورٹ کے حکم سے

Read more

سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں سے مانگیں حساب

حق اطلاعات قانون کو نافذ ہوئے تقریباً چھ سال ہونے کو ہیں۔ان چھ سالوں میں اس قانون نے عام آدمی

Read more

بات سے بات چلے

انجم عثمانی
یہ اور بات ہے کہ جدا ہے مری نماز
اللہ جانتا ہے کہ کافر نہیں ہوں
یہ شعر اردو ، ہندی کے مشہور معتبر شاعر راجیش ریڈی کا ہے جو ان کے تازہ مجموعہ ’’وجود‘‘ کے پہلے صفحہ پر درج ہے۔ راجیش ریڈی ان شاعروں میں سے ہیں جنھوں نے شاعری میں گلے گلے ڈوب جانے کے بعد اردو باقاعدہ سیکھی ہے اور ہمارے ان کامیاب شاعروں اور نایاب دوستوں میں سے ہیں جن کا نامہ اعمال ابھی سے دائیں ہاتھ میں ہے۔
راجیش ریڈی کا تازہ مجموعہ کلام ’’وجود‘‘ ہم تک پہنچا تو اشعار کے تیور دیکھ کر ہمیں ان کے ساتھ گزاری ہوئی بہت سی شامیں یاد آ گئیں۔ یادش بخیر: تقریباً تین دہائیاں پہلے جب ہم یونین پبلک سروس کمیشن (

Read more

موجودہ اخلاقی بحران اور اردو صحافت

عبد الحمید حاکم
صحافت و ابلاغ بڑا ہی مبارک مشن اور ایک مسلسل ترقی پذیر معزز فن ہے۔ ساتھ ہی اس کا میدان عمل بشمول اپنی تمام تر وسعتوں کے نہایت ہی حساس ذمہ داریوں اور پیہم قربانیوں کا طالب ہوا کرتا ہے اور ایک کامیاب صحافی وہ ہوتا ہے جو نہایت جرأت مندی کے ساتھ کسی دبائو کو قبول کیے بغیر باطل کے خلاف سینہ سپر رہتا ہے۔ قوم و ملت کی ملکی اور سیاسی رہنمائی ہویا تہذیبی و اخلاقی محاذ، علمی و ادبی میدان ہو یا تعلیمی، ثقافتی و معاشی چیلنجز، غرض ہر زمان و مکان میں ایک کامیاب صحافی کا اشہب قلم گامہ فرسائی کرتا نظر آتا ہے۔
ان تمام پہلوئوں سے ماضی کی اردو صحافت کا جائزہ لینے پر بڑی ہی روشن تاریخ سامنے آتی ہے۔ مختلف اوقات میں مختلف ناموں سے بے شمار اخبارات منصہ شہود پر آ ت

Read more

بیڑی کے دھوئیں میں پھنسا بیچارہ غریب

گیتا شری
اگر سب کچھ ٹھیک ٹھاک رہا اور سرکار کسی دبائو میں نہیں آئی تو ماہ اگست میں بیڑی کے خلاف بہت پر اثر اشتہاری مہم شروع ہوجائے گی۔ اندرونِ خانہ اس کی تیاری مکمل ہوچکی ہے۔بس ہری جھنڈی ملتے ہی تمام چینلوں ، سنیما گھروں اور اخباروں میں سرکاری اشتہار دکھائی دینے لگے گا۔ ابھی تک صرف سگریٹ کے اشتہار دکھائے جارہے ہیں جو کافی حد تک پر اثر ہورہے ہیں۔ ایسے اشتہار ٹی وی چینلوں پر مسلسل دکھائے جانے کی وجہ سے بڑوں سے زیادہ بچوں پر اثر دکھائی دیتا ہے۔ یہاں ایک واقعہ کا ذکر بہت ضروری ہے۔ ممبئی کے مشہور اِنفینیٹی مال کے باہر ایک جینٹل مین سگریٹ پی رہے تھے۔ ادھر سے ایک چار سالہ بچی اپنے ماں باپ کے ساتھ گزر رہی تھی۔ وہ بچی سگریٹ پینے والے انکل کو دیکھ کر وہیں ٹھٹھک جاتی ہے۔ اس کے والدین آگے

Read more