دارالعلوم ندوۃ العلماء علم و ہنر کا درخشاں ستارہ

دار العلوم ندوۃ العلماء کا ذکر آتے ہی ذہن میں ایک تصویر ابھر کر آتی ہے، وہ یہ کہ دینی تعلیم کی دنیا میں اہم درجہ رکھنے والا ایک مدرسہ، جہاں قرآن پاک اور حدیث کی روشنی میں علم حاصل کرنے والوں کو مولوی، مفتی، قاری و حافظ کی ڈگری دی جاتی ہے، فتوؤں پر غور فرمایا جاتا ہے۔ ندوہ یعنی اسلام کے سماجی، تعلیمی اور دیگر ضروری پہلوؤں کا اہم مرکز۔ یہ اس کا ایک پہلو ہے جو دنیا کو دکھائی دیتا ہے۔ اس کا دوسرا پہلو بھی ہے جو قریب جا کر اسے سمجھنے کے بعد ہی نظر آئے گا۔

Read more

کمزور پڑ رہی ہے مرکزی حکومت

میگھناد دیسائی
جدیدہندوستان کی تعمیر کی بنیاد انگریزوں کی اس دلیل میں تلاش کی جا سکتی ہے، جس میں انھوں نے ہندوستان کوایک ملک ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ انگریزوں کا دعویٰ تھا کہ ہندوستان ایک ملک نہیں بلکہ الگ الگ ریاستوں، مذاہب،زبانوں اور ذاتوں کا ایک گروپ ہے۔پہلی گول میز کانفرنس میں یہ فیصلہ لے لیا گیا کہ ہندوستان ایک کمزور مرکز اور طاقتور ریاستوں والا ملک ہوگا۔موجودہ دور میں ملک کی سیاست میں ہم جو ڈرامائی انداز دیکھ رہے ہیں وہ انہی پرانے دنوں کی یاد دلاتا ہے، جب آزاد ہندوستان کا نیا آئین تیار کیا گیا تواس میں مرکز کو طاقتو

Read more

تہواروں کے موسم میں الیکشن ،کہرے میں لپٹی پردیسیوں کی امیدیں

فرزانہ پروین
وطن سے دور، بیوی بچوں سے الگ، ماں بہنوں کی نظروں سے اوجھل ایک پردیسی کیلئے اپنی مٹی پر تہوار منانے کی خوشی کچھ اورہی ہوتی ہے، وہ بھی ایسے وقت جب جمہوریت کا عظیم تہوار یعنی انتخاب ساتھ ساتھ ہو۔ نومبر کا مہینہ آخری پڑاؤ پر ہے ، شبنم گرنا شروع ہوگئی ہے، دسمبر کے کہرے نے دستک دے دی ہے، دیوالی، چھٹھ اور عید قرباں کا جشن یکے بعد دیگر ختم ہوچکا ہے۔ بہار اسمبلی انتخاب کی دھول بھی بیٹھ چکی ہے۔ نتائج کا اعلان ہونے والا ہے ،جس وقت یہ تحریر آپ کے ہاتھوں میں ہوگی سب کچھ صاف ہوچکا ہ

Read more

بی جے پی کا مشن 2012

وجے یادو
یہ بات 1991کی ہے، جب اترپردیش میں بھگوا لہر چل رہی تھی اور ریاست کی انتخابی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ بی جے پی نے اکثریت کے ساتھ اپنی حکومت بنائی تھی۔ تمام لیڈران اور کارکنان خوش تھے، کہیں کوئی گروپ بندی نہیں تھی۔ اختلافات تھے، لیکن دل صاف تھے۔ وقت کی تبدیلی کے ساتھ بی جے پی پر اقتدار کا نشہ چڑھا، سونیا-راہل کی سرزنش کرتے کرتے کانگریسی ثقافت حاوی ہوئی۔ آج بی جے پی اتر پردیش میں چوتھے پائیدان کی پارٹی بن گئی ہے۔ وجوہات اور بھی ہیں، لیکن مرکزی و ریاستی قیادت کے حالات پر قابو پانے کی دلچسپی نہیں نظر آتی ہے۔ اخبارات میں بیان بازی جاری رہ

Read more

اتر پردیش میں دہشت گردی کا خطرناک سایہ

شترونجے کمار سنگھ
نیپال میں جاری سیاسی غیر یقینی پر مرکزی اور اتر پردیش حکومت جلد ہی مستعد نہیں ہوئی تو ہندوستان ایک بار پھر سے سکھ دہشت گردی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔جموں وکشمیر سمیت ملک کی کئی ریاستیں پہلے ہی پاکستانی حمایت یافتہ دہشت گردی کے عذاب کو برداشت کر رہی ہیں۔اب پاکستان سے سکھ دہشت گردوں کو پوری مدد مل رہی ہے اور انہیں نیپال کے راستے ہندوستان بھیجا جا رہا ہے۔خفیہ افسران کا ماننا ہے کہ پاکستان اتر پردیش کو ٹرانزٹ روٹ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ ہند، نیپال کی 550کلو میٹر لمبی کھلی سرحد دہشت گردوں کے ناپاک منصوبوں میں مدد گار ث

Read more