پروفیسر اعزاز فضل: کچھ یادیں

ڈاکٹر مشتاق اعظمی
یہ جون 2000 کا قصہ ہے۔ مجھے اور ڈاکٹر شاہد اختر(صدر شعبہ اردو ہگلی محسن کالج) کو اسکول سروس کمیشن کی کاپیاں جانچنے کے لیے بردوان بلایا گیا تھا۔ امیدواروں سے پوچھے گئے سوالات میں سے ایک سوال یہ تھا کہ کلکتہ کے کس شاعر کو غالب دوراں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ یقین نہیں کریںگے، لیکن ڈاکٹر شاہد اختر اس کی شہادت دیںگے، 80 فیصد امیدواروں کا جواب تھا ’’پروفیسر اعزاز افضل۔‘‘ جواب غلط سہی(صحیح جواب وحشتؔ کلکتوی) لیکن اس سے اتنا پتہ تو چل ہی جاتا ہے کہ اعزاز افضل اپنے زمانے کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے یا سب سے زیادہ سنے جانے والے یا سب سے زیادہ اثر انداز ہو

Read more

فحش سیاست سے شرمسار جمہوریت؟

ڈاکٹر مہتاب امروہوی
سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے ایک بار نیوز چینل ’’آج تک‘‘ پر انٹرویو دیتے وقت پربھو چاؤلہ کے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ وہ کنوارے ہیں، لیکن برہمچاری نہیں۔ اس انٹرویو کو لے کر کافی وبال ہوا تھا۔ ملک اور بیرون ممالک میں بھی اس کا کافی چرچا رہا، حالانکہ واجپئی جی نے یہ بات بھلے ہی مذاق میں کہی ہو یا پھر اپنی زندگی کی حقیقت کا اظہار کیا ہو، یہ تو وہ ہی بتاسکتے ہیں، لیکن بات بے حد سنجیدہ تھی کہ سیاست میں آکر انسان عیاشی کی طرف ضرور راغب ہوجاتا ہے۔ الیکشن کے دوران عوام سے کیسے ک

Read more

مہنگائی پرڈیمانڈ اور سپلائی کی مار

راجیو رنجن تیواری
مہنگائی نے لوگوںکا جینا محال کر دیا ہے۔ اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ایک اہم ماہر معاشیات ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ہاتھوں میں ملک کی کمان ہونے کے باوجود اس مسئلہ کا حل کیوں نہیں ہو رہا ہے۔حالات ایسے ہیں کہ ملک کے متوسط اور نچلے طبقے کے لوگوں کی زندگی کاحساب گڑبڑہوگیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان کی بنیادی ضرورتوںکی ڈیمانڈ اور سپلائی کے درمیان کے فاصلہ سے ہی مہنگائی نے خطرناک شکل اختیار کی ہے، جس کی فی الحال ٹھیک ہونے کی امید نظر نہیںآتی۔دنیا بھر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے

Read more

حاضر دماغ، حاضر جواب استاد رسا

عظیم اختر
اللہ بخشے ہمارے استاد رساؔ نماز روزے کے بڑے پابند اور ایک نیک انسان تھے۔ان کی نگاہ میں تمام انسان اور بالخصوص کلمہ گو سب برابر تھے، لیکن بات اگر دلی اور دلی والوں کی ہوتی تویہ گاڑی فوراً پٹری سے اتر جاتی۔ان کی لغت میں جامع مسجد کے جنوبی دروازے کے اطراف کے گلی کوچے دلی اور ان گلی کوچوں میں رہنے والے ہی اصلی دلی والے تھے۔دلی کے باقی گلی کوچوں اور محلوں کو وہ نو آبادیاں اور فصیل شہر سے باہر کے رہنے والوں کو’’ غیر ملکی‘‘ کہا کرتے تھے۔وہ کھان پان رہن سہن اور زبان کے معاملے میںدلی والوں کے آگے کسی کو خاطر میں ن

Read more

کسب معاش بھی دین ہے

قمر عثمانی
اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انسانوں کو پیدا فرمایا تو اس کے ساتھ اس کی ضرورتیں بھی رکھیں یعنی اس کو صاحب احتیاج بنایا پیٹ بھرنے کے لئے کھانا ، پیاس بجھانے کے لئے پانی، بدن ڈھانپنے اور سردی گرمی سے بچائو کے لئے لباس، بودو باش کے لئے مکان وغیرہ سب ضرورتیں انسان کے ساتھ وابستہ ہیں۔ فی الحقیقت انسان جن چیزوں سے راحت حاصل کرتا اور مستفید ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بیش بہانعمتیں ہیں، ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانا اور ان کے حصول میں جدوجہد کرنا اور ان سے متمتع ہو کر ان سے فائدہ حاصل کر کے حق تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنا یہ مستحسن بھی ہے اور پسندیدہ بھی نیز کار ثواب بھی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’فکلو ممارزقکم اللہ حلالاطیبا واشکرو نعمۃ اللہ ان کنتم ایاہ تعبدون‘‘(یعنی پس کھ

Read more

دنیا کے تمام قوانین سے شرعی قوانین بہتر ہیں، یہ ایک چیلنج ہے

محمد صابر
خواتین کی اوسط عمر مردوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ قدرتی طور پر عورتیں اور مرد تقریباً یکساں تناسب سے پیدا ہوتے ہیں۔ ایک لڑکی میں (پیدائش کے وقت سے ہی) لڑکوں کی بہ نسبت زیادہ امونیٹی ہوتی ہے۔ مطلب یہ کہ ایک لڑکی لڑکے کے مقابلے میں جراثیم اور بیماریوں سے زیادہ بہتر انداز میں اپنا دفاع کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چھوٹی عمر کے بچوں میں لڑکوں کی اموات کا تناسب لڑکیوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح جنگوں وغیرہ میں بھی عورتوں سے زیادہ مردوں کی ہلاکتیں ہوتی ہیں۔ بیماریوں اور حادثوں کی وجہ سے بھی مردوں کی اموات

Read more

لیبیا خانہ جنگی کی راہ پر

سدھارتھ آغا
بیسویں صدی کے دوران لیبیا میں دو ایسے ایوینٹس رونما ہوئے جن سے اس ملک کی تاریخ اور تقدیر تعبیر ہوئی اور جن کے پس منظر میں آج اس ملک پر چھائے بحران کے تعلق سے وضاحت طلب کی جاسکتی ہے۔ پہلا تھا دوسری جنگ عظیم کے دوران 1943میں ایلائڈ فورسز کا لیبیا کے شہر تبرک اور بن غازی کے محاذ پر جرمن اور اٹالین فوج پر فیصلہ کن فتح ۔ دوسرا1959میں کثیرالاقوامی ایسو کمپنی کے ذریعے لیبیا میں زیر زمین عمدہ درجے کے خام تیل کے بیشمار ذخائر کا پتہ لگانا۔ ایلائڈ فورسز کی جیت کی بدولت دوسری جنگ عظیم

Read more

حکومت و عدلیہ کا دوہرا معیار ؟

مجتبیٰ فاروقی
گودھرا کی 32 سالہ نسیمہ میدا کے گھر کے سامنے شامیانہ لگا تھا ۔ گھر کو رنگ و روغن کیاگیا تھا ۔ نسیمہ نے اپنے ہاتھوں کو مہندی سے خوب سجایا تھا ۔ نسیمہ اپنے 5 بچوں کے ساتھ آنکھیں بچھائے سراپا انتظار تھی ۔ اس کو توقع نہیں بلکہ یقین تھا کہ22؍فروری کوپوٹا عدالت اس کے شوہر سراج کو رہا کر دے گی ۔ نسیمہ ٹی وی سے چمٹی بیٹھی تھی۔ جب اس نے سزا یافتگان میں اپنے شوہر کا نام سنا تو اس کو یقین نہیں آیا اور تصدیق پر تصدیق چاہنے لگی بالآخر اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاگیا ۔ وہ سہاگن ہوتے ہوئے بھی بیوہ تھی ۔ اس کے5 بچے باپ کے زندہ ہوتے ہوئے یتیم تھے ۔27؍ فروری2002 کو سابرمتی ایکسپریس کی بوگی نمبر56 میں لگی آگ نسیمہ اور اس کے جیسے نہ جانے کتنے خاندانوں کو

Read more