بات سے بات چلے

انجم عثمانی
گزشتہ دنوں جنوبی ہند کا طویل سفر درپیش رہا۔ اس سفر کی وجہ سے شمالی ہندخاص طور پر دہلی میں منعقد ہونے والے کئی اہم سمیناروں، مذاکروں اور دوستوں کی ادبی محفلوں میں شرکت سے محرومی رہی لیکن اس سفر میں یہ ضرور ہوا کہ سفر میں جو چند کتابیں ساتھ تھیں ان میں افسانوںکاایک ایسا مجموعہ بھی تھا جس کے بارے می

Read more

بات سے بات چلے

انجم عثمانی
یہ مٹی میری ہے اس لیے کہ میں اس کے تخم سے اُگا ہوں/میں اب معلق نہیں رہ سکتا
کھڑا ہونے کے لیے مٹھی بھر زمین میرا ازلی حق ہے
پرکھوں نے جو کچھ کیا شمشانوں اور قبرستانوں میں جل سڑ رہا ہے۔ اگر اس مٹی سے دست بردار ہونے

Read more

بات سے بات چلے

انجم عثمانی
رکھتے ہیں غزل کہنے کا ہنر کرتے ہیں سفر جو شام و سحر
وہ اہل نظر نامی شاعر اک شب کی خبر بن جاتے ہیں
مشاعروں کی دنیا کے مشہور شاعر طاہر فراز کا یہ شعر حقیقی تاثر کے باوجود خود ان کے حوالے سے غ

Read more

بات سے بات چلے

انجم عثمانی
دلی جیسے ادب و ثقافت اور تفریح سے معمور شہر میں یوں تو سارے سال ہی کشش کے سامان موجود رہتے ہیں، مگر کبھی کبھی یہ کشش ’’ثِقل‘‘ کی حد کو پہنچ جاتی ہے۔ ایسا ہی ایک مہینہ گزشتہ نومبر دہلی پر گزرا۔
نومبر کے مہینے میں پندرہ روزہ عالمی تجارتی میلے، پانچ روزہ اردو وراثت میلے سے لے کر متعدد نشستوں، مذاکروں، سیمیناروں اور مشاعروں تک زور رہا اور ہر دن کوئی نہ کوئی قابل ذکر تقری

Read more

بات سے بات چلے

انجم عثمانی
بزم مے سے اس کے اٹھتے ہی نظر آنے لگا
جیسے اس کے ساتھ میخانے کا میخانہ گیا
اپنی نجی لائبریری کی الماری سے ایک کتاب نکال کر کھولی تو ایک بہت خوبصورت وجیہہ اور بردبار تصویر کے نیچے صاحب کتاب کا ہی مندرجہ بالا شعر درج تھا۔ تصویر کے اوپر مصنف کا نام لکھاتھا مولاناامتیازعلی خاں عرشی اور کتاب کانام تھا ’’

Read more

بات سے بات چلے

انجم عثمانی
انسانی زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح تخلیقی ادب پر بھی مختلف قسم کے ادوار گزرتے رہتے ہیں۔ملک کی آزادی کے بعد اردو افسانے پر مختلف اوقات میں مختلف قسم کے رجحانات غالب رہے۔ حقیقت پسندی اور علامت نگاری سے لے کر موجودہ دور تک ایسے تخلیق کار موجود رہے ہیں جنھوں نے ادب کے غالب رجحان کی نمائندگی کے ساتھ اپنی انفرادیت کو باقی رکھنے میں کامیابی حاصل کی اور اردو افسانے کی مقبولیت میں اپنا کردار ادا کیا۔ہردور کی تخلیقات کے اجتماعی رنگ و رجحان اور مجموعی ادبی صورت حال میں ک

Read more

بات سے بات چلے

انجم عثمانی
اگست کا مہینہ ہرسال ہی آزادی کی سالگرہ کی تقریبات سے مزین رہتا ہے۔ مگر اس سال یہ معمول سے کچھ زیادہ تھی۔رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی برکتوں کے ساتھ اس سال اسی مہینہ میں کئی اہم تہوار پڑے ۔ رکشا بندھن ، جنم اشٹمی اور پھر عید الفطر
اردو زبان و ادب اور شاعری نے انفرادی جذبات و احساسات کے غیر معمولی اظہار کے علاوہ اجتماعی احساسات وجذبا

Read more

بات سے بات چلے

انجم عثمانی
اردو کے مشہور نقاد، دانشور اور مصنف پروفیسر آل احمد سرور نے ایک مضمون میں لکھا تھا: ’’ادیب اور شاعر وقتی سیاست میں بہہ سکتا ہے مگر وہ سیاسی تحریکات کے طوفان میں تنکے کی طرح نہیں بہہ جاتا۔وہ دریائوں کا رخ موڑتا اور موجوں کو اپنے قابو میں لاتا ہے۔وہ طوفان و انقلاب کے لیے فضا تیار کرتا ہے۔ وہ ماضی کا امین، حال کا اشاریہ اور مستقبل کا پیمبر ہوتا ہے۔ وہ دلوں کی گہرائی میں اترتا ہے جہاں آرزوئیںمچلتی اور کروٹ لیتی ہیں اور ان تاریک وادیوں میں ایک بڑے نصب العین کی شمع جلاتا ہے۔
ملک کی آزادی جیسے بڑے نصب العین کی وہ شمع جو وقت کی آواز سے آواز ملا کر اردو شعر و ادب نے روشن کی تھی اسے روشن رکھنے اور اسی شم

Read more