ملائم گھر سے باہر تک مصیبت میں

اجے کمار
بھلے ہی اینٹ اینٹ جوڑ کر گھر بنتا ہو لیکن اس کی بنیاد اس میں رہنے والوں کے کردار سے مضبوط یا کمزور ہوتی ہے،جس طرح گھر کو وقتاً فوقتاً رکھ رکھائو کی ضرورت ہوتی ہے ، ویسے ہی گھر میں رہنے والوں کے رشتے مضبوط بنے رہیں اس کے لئے خاندان والوں کو مشترکہ طور پر کافی جتن کرنا پڑتے ہیں۔ ایک بھی غلط فیصلہ خاندان میں بکھرائو جیسی صورت حال پیدا کردیتا ہے۔خاندان کو ٹوٹنے سے بچانے کی سب سے زیادہ ذمہ داری گھر کے بزرگوں کی ہوتی ہے ، مگر سچائی یہ بھی ہے کہ آج کے زمان

Read more

ملائم کا مسلم پریم

اجے کمار
اتر پردیشمیں سماجوادی پارٹی کی تین بار سرکار بن چکی ہے۔ تینوں مرتبہ وزیر اعلیٰ کی کرسی ملائم سنگھ کے پاس رہی۔ سماجوادی پارٹی کے صدر ملائم سنگھ یادو کو ان کے قریبیوں کی طرف سے ’دھرتی پُتر‘ کی ڈگری ملی ہوئی ہے۔سیاست کے میدان میں ان کی زمینی طاقت ہمیشہ اپوزیشن کو چاروں خانے چت کرنے والی رہی۔ ملائم ویسے تو بڑے لیڈر ہیں اور انہوں نے کافی م

Read more

اتر پردیش: بدعنوان مشینری کو توڑنا آسان نہیں

اجے کمار
انا نے بدعنوانی کے خلاف مہم کیا چلائی، گائوں کی چوپالوں سے لے کر شہر کے نکڑوں تک لوگوں کا غصہ نکل کر سامنے آگیا۔ غصہ بھی ایسا کہ حکومت اور پارلیمنٹ تک کو جھکنا پڑا۔ ہر طرف ایک ہی آواز گونج رہی تھی کہ اب بدعنوانی برداشت نہیں۔ عوام بدعنوانی کو لے کر پریشان ہیں، وہیں بدعنوان لوگ عوام میں آئی بیداری سے حیران ہیں۔ خاص طور سے لیڈر اور آئی اے ایس افسران اس تحریک سے کافی ڈرے سہمے دکھائی دئے۔ فرق اتنا ہے کہ عوام کو سب کی بدعنوانی نظر آ رہی ہے، وہیں لیڈروں اور نوکر شا

Read more

اتر پردیش میں صحافیوں پر حملہ: سچ کہنے کی سزا

اجے کمار
مایاوتی حکومت اور اس کے نمائندوں نے ہر اس آواز کو کچل دینے کی قسم کھائی ہے،جو وزیر اعلیٰ مایاوتی یا ان کے ریاستی کام کے خلاف اٹھائی گئی ہو۔ مخالفین پر لاٹھی ڈنڈوں کی بوچھار اور تاجروں کو ٹارچر کرنے ، قانون کے محافظوں اور ٹیچروں کو دوڑا دوڑا کر پیٹنے والے مایا وتی کے مبینہ غنڈوں کا نشانہ اب کی بار میڈیا بنا۔ ڈپٹی سی ایم او ڈاکٹر سچان کے قتل کو موت ثابت کرنے میں لگی انتظامیہ کو جب یہ لگا کہ میڈیا کی وجہ سے سچ کا

Read more

پیس پارٹی بنی خطرے کی گھنٹی

اجے کمار
یو پی میں اگلے سا ل ہونے والا اسمبلی انتخاب پیس پارٹی کے لیے نئی صبح لاسکتا ہے۔اپنی چھوٹی سی سیاسی زندگی میں کئی بڑی جماعتوں کے لیے مصیبت بنے پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب کا صوبہ میں ڈنکا بج رہا ہے۔پارٹی کسی کے لیے خطرہ تو کسی کے لیے راحت ثابت ہو رہی ہے۔ دنیا میں صرف دوبرادریوں یعنی امیر اور غریب کے نظریے والے ڈاکٹر ایوب ہمیشہ غریبوں کی وکالت کرتے رہے ہیں، لیکن اسے اتفاق ہی کہا جائے گا کہ ان کی پارٹی میں رئیسوں کی دستک سنائی دیتی ہے۔پیس پارٹی امیروں کے سہارے اپنی مالی ضرورت پوری کرنا چاہتی ہے، وہیں ووٹ بٹورنے کے لیے ہندوئوں اور مسلمانوں کو اپنے ساتھ کھڑا دیکھنا چاہتی ہے۔

Read more

یو پی میں بی جے پی کی قائد اوما بھارتی

اجے کمار
طویل عرصہ سے واپسی کا تذکرہ اور مخالف آوازوںکے درمیان آخر کار اوما بھارتی کی واپسی ہو ہی گئی۔ چھ سال پہلے ضابطہ شکنی کے لیے پارٹی سے برطرف کی گئیں اوما بھارتی کی واپسی کے موقع پر پارٹی کے صدر نتن گڈکری نے دو ٹوک کہہ دیا کہ اتر پردیش کی پارٹی مہم میں اوما جی اہم کردار ادا کریں گی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اوما کی واپسی کا فیصلہ پارٹی کے اندر عام اتفاق رائے سے کیا گیا

Read more

ملک میں جلادوں کی کمی، اب کون دے گا پھانسی؟

اجے کمار
ممو جلاد نہیں رہا۔ بڑے بڑے مجرموں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکانے والے ممو کو ملک کی بدحالی کا کافی ملال تھا۔ سیاسی لیڈروں کی لوٹ کھسوٹ سے وہ بھی اتنا ہی غمگین رہتا تھا، جتنا ایک عام آدمی۔ اب اس کی فیملی میں اس پیشہ کو کوئی نہیں اپنائے گا۔ ممّو کے دادا رام رکھا نے انگریزی حکومت میں جلاد کا کام شروع کیا تھا۔ والد کلّو کی مدد سے ممّو نے 1973 میں پہلی بار ایک مجرم کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا۔ کلّو اور ممّو 1982 میں تب چرچا میں آئے، جب انھوں نے تہاڑ جیل میں رنگا بلّا کو پھانسی پر لٹکایا تھا۔ ممّو کا پورا خاندان کافی تنگ حالی کی زندگی جی رہا تھا، اس پر ممّو کی بیماری۔ اس حالت میں بھی اسے خود سے زیادہ ملک کی

Read more

عوام سے دوری مایاوتی کو مہنگی پڑ سکتی ہے

اجے کمار
دو ہزار سات میں چوتھی بار وزیراعلیٰ کی کرسی پر بیٹھنے والی مایاوتی کا آغاز جتنا اچھا تھا، انجام اتنا ہی خراب لگ رہا ہے۔ ان کی سرکار کے چار سال پورے ہوگئے ہیں اور اگلے سال انتخابات ہونے ہیں، لیکن مایاوتی کے پاس ایسی کوئی حصولیابی نہیں ہے جس کے دم پر وہ عوام سے ووٹ کی اپیل کریںگی۔ ان چار سالوں میں مایاوتی عرش سے فرش پر آگئی ہیں، لیکن اندازے ہمیشہ صحیح نہیں ہوتے۔ ہوسکتا ہے کہ عوام کی نظروں میں مایاوتی سرکار کی اہمیت اس سے بہتر ہو، صرف ایک سال اورہے، اس کے بعد عوام خود تیار کریںگے مایاوتی سرکار کا رپورٹ کارڈ۔ عوام کی نظروں میں مایاوتی کی شبیہ ٹھیک ویسی ہی ہے، جیسی مخالف جماعتیں پروپیگنڈہ کر رہی ہیں یا پھر ان کے کام کاج سے ریاست کے عوام مطمئن ہیں۔ اس بات کا فیصلہ 2012 میں ہوجائے گا۔ بی ایس پی نے پانچ سالوں میں کیا کھویا کیا پایا، اس ک

Read more

راہل صاحب سیاست کا یہ کھیل آسان نہیں

یوراج راہل گاندھی ایک ماہر کھلاڑی کی طرح اتر پردیش میں سیاسی بساط بچھا رہے ہیں۔پہلے دلتوں کی بستی میں چوپال لگاکر تیزی سے مقبولیت حاصل کرنے والے راہل نے آج کل کانگریس سندیش یاترائوں کے ذریعہ سے پارٹی کو مضبوطی فراہم کرنے کی مہم چھیڑ رکھی ہے۔راہل کے دوروں کو اسمبلی انتخابات2012کے نقطۂ نظر سے کافی اہم مانا جا رہا ہے۔دو مرحلوں میں ہونے والے یہ دورے 10نومبر کو الہٰ آباد میں سونیا گاندھی کی عوامی میٹنگ میں تبدیل ہوکر ختم ہو جائیںگے۔

Read more