عدلیہ کے کٹہرے میں یو پی کے نوکرشاہ

اجے کمار
عدالت کے رخ سے اتر پردیش کی نوکر شاہی میں ہنگامہ مچا ہوا ہے۔ عدلیہ اور اس کے فرمانوں کو ہلکے میں لینے اور بار بار توہین کرنے والے افسروں کو عدالت نے جب ان کی حیثیت (سزا) بتائی، تو ان کے پاس معافی مانگ کر جان بچانے کے علاوہ، دوسرا کوئی راستہ ہی نہیں بچا۔ صوبے کی نوکر شاہی کے رویے سے عدالت کی ناراضگی کی مار اتنی گہری تھی کہ صوبے کے سب سے بڑے افسر (چیف سکریٹری جاوید عثمانی) تک نہیں بچ پائے۔ دیگر

Read more

یو پی کی بساط: مسلم ووٹوں کا کھیل

(اجے کمار (لکھنؤ
اتر پردیش میں چناؤکوئی سے بھی ہوں، اقلیتی فیکٹر ہمیشہ اہمیت کا حامل ہوتاہے۔ اس کو لبھانے کے لئے سماجوادی پارٹی ، بی ایس پی اور کانگریس میں دوڑ لگی رہتی ہے۔ مختلف جماعتوں کے لیڈروں کے درمیان مسلمانوں کو رجھانے کے لئے گلا کاٹ مقابلہ ہوتا ہے۔ مسلمانوں کی بہبودکے لئے بڑے بڑے وعدے کئے جاتے ہیں، لیکن مسلم دانشور آج بھی اس بات سے ناراض نظر آتے ہیں کہ کسی بھی حکومت نے مسلمانوں کے بنیادی مسائل کی طرف توجہ نہیں دی ، مسلمانوں کوووٹ بینک کی طرح استعمال کیا جاتا ہے اور جب ووٹ کا موسم چلا جاتا ہے ، تو انھیں ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ کئی بار تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو لیڈر اور سرکاریںاپنے آپ کو مسلمانوں کا سب سے

Read more

سلطان پور میں ہوگا ارون گاندھی کا امتحان

اجے کما ر
اتر پردیش کی سیاست میں جو اہمیت امیٹھی اور رائے بریلی پارلیمانی حلقہ کے عوام کو حاصل ہے، اس سے سلطانپور کے عوام ہمیشہ محروم رہتے ہیں۔ رائے بریلی سونیا گاندھی اور امیٹھی راہل گاندھی کا پارلیمانی حلقہ ہے۔ سونیا – راہل، یعنی اقتدار اور ملک کا سب سے طاقتور خاندان۔ اسی لیے ان دونوں پارلیمانی حلقوں کے لوگوں کی دہلی تک پہنچ اور دھمک ہے۔ رائے بریلی اور سلطانپور نہ صرف سٹے ہوئے ضلعے ہیں، بلکہ کبھی ضلع سلطانپور کے تحت ہی آتا تھا امیٹھی پارلیمانی حلقہ۔ سلطانپور میں دو لوک سبھا حلقے تھے، ایک سلطانپور، تو دوسرا امیٹھی۔ ضلع کے ایک

Read more

ایس پی ، بی ایس پی آمنے سامنے

اجے کمار
اتر پردیش ایک بار پھر ایس پی – بی ایس پی کی جنگ کا میدان بن رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے سماجوادی پارٹی اپوزیشن میں بیٹھ کر بی ایس پی سرکار کی ناک میں دَم کیے ہوئی تھی، وہیں اب بی ایس پی سپریمو مایاوتی ایس پی سرکار کے خلاف حملہ آور ہیں۔ 2012 کے اسمبلی الیکشن میں ایس پی کے ہاتھوں مات کھانے کے بعد سے صدمے میں چل رہیں مایاوتی کو صوبے میں قانون و انتظامیہ کی خراب صورتِ حال اور بے لگام نوکر شاہی نے ایس پی سرکار کے خلاف مورچہ کھولنے کا موقع دے دیا ہے۔ دراصل،

Read more

یو پی میں مسلم ووٹوں کو لے کر محاذ آرائی

اجے کمار
اتر پردیش کی یہ بدقسمتی ہے کہ آزادی کے 65 سالوں کے بعد بھی یہاں کے عوام بیدار نہیں ہوئے ہیں۔ ذات پات پر مبنی سیاست یہاں لگاتار حاوی ہے، لیکن عوام اس سے باہر نکلنے کو تیار نہیں ہیں۔ یو پی کے ووٹروں نے اپنی سوچ کو مذہب کے نام پر قید کر رکھا ہے، یہی وجہ ہے کہ مختلف پارٹیوں کے لیڈر اس کا فائدہ اٹھا کر اپنی سیاسی روٹیاں سینکنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اسی بات کا احساس گزشتہ دنوں لکھنؤ کی مسلم سیاست میں ہوا، جب مختلف پارٹیوں کے لیڈر الگ الگ منچوں پر، لیکن ایک سُر میں مسلم ووٹوں کے لی

Read more

مہاکنبھ میں اعظم خاں کا انتظام قابل تعریف

اجے کمار
پریاگ مہا کنبھ کامیابی کی نئی بلندیاں طے کر رہا ہے۔ عقیدت مند اس بار کے کنبھ کے انتظام و انصرام کو اب تک کا سب سے بہتر انتظام مان رہے ہیں۔ اب تک یہ مانا جاتا تھا کہ ایک ہندو ہی ہندوؤں کو بہتر ڈھنگ سے سمجھ سکتا ہے اور ان کی مذہبی عقیدت اور سمجھ کا خیال رکھ سکتا ہے، لیکن اس بار لوگوں کی سوچ بدل گئی ہے۔ دراصل، اب تک ہوتا یہی تھا کہ اس قسم کے کسی بھی بڑے مذہبی پروگرام کی تیاری کسی ہندو کو دی جاتی تھی، لیکن الہٰ آباد میں مہاکنبھ کے انعقاد کی تیاری کا ذمہ سماجوادی پارٹی

Read more

جے پور سے نکلی چنگاری لکھنؤ میں بنی شعلہ

اجے کمار
جے پور میں کانگریس کا ’چنتن شیور‘ بھارتیہ جنتا پارٹی کی لکھنؤ میں ہونے والی ’اٹل شنکھناد ریلی‘ کے لیے ’رام بان ‘ کا کام کر گیا۔ وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے بی جے پی اور سنگھ پر نشانہ لگاتے ہوئے جیسے ہی بھگوا دہشت گردی کا مدعا اٹھایا، لکھنؤ میں جمع ہوئے بی جے پی کے لیڈروں نے اسے فوراً لپک لیا۔ ’اٹل شنکھناد ریلی‘کا اہتمام ہوا تو تھا

Read more

داغداروں کو درکنار نہ کرپانے کا درد

اجے کمار
صوبے کے داغدار نوکر شاہوں نے سماجوادی سرکار میں بھی اپنی جڑیں مضبوط کر لی ہیں۔ خواہ سماجوادی سرکار ہو یا ماضی کی بہوجن سماج پارٹی یا پھر کسی دیگر پارٹی کی سرکار، لیکن نوکر شاہی سے کوئی بھی قیادت جیت نہیں پائی۔ وجہ یہ ہے کہ سرکاریں تو آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن نوکر شاہی مستقل قائم رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سنتری سے لیکر

Read more

سال 2012:سماجوادی کو اقتدار ملا اور بقیہ کو سبق

اجے کمار
کئیکھٹی میٹھی یادوں کے ساتھ سال 2012تاریخ کے اوراق میں درج ہو گیا۔ گزرا سال نہ تو سب کے لئے خوشیوں بھرا رہا اور نہ ہی سب کے لئے خراب۔ کسی نے کم پایا تو کافی کچھ کھو دیا، تو کسی کو بہت کچھ مل گیا اور کھویا کم۔خاص کر سیاسی طور پر گزرا سال کافی اہم رہا۔ اتر پردیش میں اقتدار تبدیل ہوا۔ نوجوان لیڈر کے ہاتھ میں صوبہ کا اقتدار ملا تو بی ایس پی سپریمو مایاوتی کو اقتدار سے

Read more

اتر پردش: اپوزیشن کے بکھرائو سے کافی خوش ہے سماجوادی حکومت

اجے کمار
اقتدار ہاتھ میں آتے ہی سماجوادی پارٹی کے رنگ، ڈھنگ اور سُر بدلنے لگے ہیں۔ ایس پی سپریمو سے لے کر معمولی سے معمولی لیڈر اور کارکن تک کو ہر وہ شخص اور تنظیم غلط لگنے لگی ہے، جو ان کی حکومت یا ان کے مکھیا – وزیر اعلیٰ پر انگلی اٹھاتا ہے۔ سماجوادی چاہتے ہیں کہ وہ کچھ بھی کرتے رہیں، کوئی بھی فیصلہ لیں، اس پر کوئی سوال نہ کھڑا کیا جائے، کچھ پوچھا نہ جائے۔

Read more