سچائی پر پردہ ڈالنے کی سماج وادی سازش

اتر پردیش کا بگڑا قانون و نظام کہیں سماج وادی سرکار کے لئے عدم استحکام کا سبب نہ بن جائے۔یہ فکر سماج وادی تھِنک ٹینک کو اندر ہی اندر کھوکھلا کیے جارہی ہے۔محض دو یا سوا دوبرسوں میں اکھلیش سرکار کے اوپر ناکامی کا ایسا ٹھپہ لگ گیا ہے، جسے مٹانا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ خواتین کے استحصال اور عصمت دری جیسے تمام حادثات سے ریاستی سرکارپہلے سے ہی متزلزل تھی ،اسی بیچ چیکنگ کرتے پولیس والوں کو کار جیپ سے کچل کر مار دینے کی کوشش، تین بی جے پی لیڈروں کا قتل، فیروز آباد میں دو پولیس والوں کو بدمعاشوں کے ذریعہ گھات لگا کر موت کے گھاٹ اتار دیے جانے جیسے حادثوں کی وجہ سے پانی سر سے اونچا جاتا دکھ رہا ہے۔ مرکز کی بی جے پی سرکار اور اتر پردیش سے انتخاب جیت کر وزیر بنے راجناتھ سنگھ، اوما بھارتی اور کلراج مشرا کے ذریعہ ریاست کے حالات پر لگاتار سخت ریمارکس کی وجہ سے سیاسی پارا چڑھا ہوا ہے۔

Read more

کیا اپنی ہار سے سبق سیکھیں گے مایا اور ملائم؟

جب خواب ٹوٹتے ہیں، تو اس کا حشر کافی برا ہوتا ہے۔ اس بات کا اندازہ ملائم سنگھ یادو اور مایاوتی سے زیادہ کسی کو نہیں ہوگا۔ سال 2014 کے لوک سبھا الیکشن کے وقت بہوجن سماج پارٹی اور سماجوادی پارٹی کے سربراہوں نے کئی خواب سجا رکھے تھے۔ تھرڈ فرنٹ کے سہارے ملائم سنگھ یادو وزیر اعظم بننے کا خواب پالے ہوئے تھے، تو وہیں مایاوتی مرکز میں بیلنس آف پاور بنانا چاہتی تھیں، لیکن نریندر مودی کی آندھی ایسی چلی کہ نیتا جی اور بہن جی کے سبھی خواب چکنا چور ہو گئے۔ ایک طرف جہاں ملائم سنگھ یادو کا مسلم – یادو ایکویشن، تو وہیں دوسری طرف مایاوتی کا سوشل انجینئرنگ کا فارمولہ بھی زمین دوز ہو گیا۔ ملائم سنگھ یادو

Read more

یو پی میں پانچویں مرحلے کی ووٹنگ راہل اور ورون جیسے لیڈروں کی قسمت ہوگی لاک

اتر پردیش میں پانچویں مرحلہ میں 7 مئی کو 15 سیٹوں پر ووٹنگ ہوگی۔ اس دن تقریباً 80 فیصد امیدواروں کی قسمت ووٹنگ مشین میں قید ہو جائے گی۔ 7 مئی کو امیٹھی، سلطانپور، پرتاپ گڑھ، کوشامبی، پھولپور، الہ آباد، فیض آباد، امبیڈکر نگر، بہرائچ، قیصر گنج، شراوستی، گونڈا، بستی، سنت کبیر نگر اور بھدوئی کے ووٹرس اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔ یہاں بی جے پی کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے، کیوں کہ اس دن جن 15 سیٹوں کے لیے انتخابات ہونے ہیں، ان میں سے 7 سیٹوں پر کانگریس کا، پانچ پر بی ایس پی اور تین سیٹوں پر سماجوادی پارٹی کا قبضہ ہے۔ بی ایس پی نے

Read more

یو پی میں چوتھے مرحلہ میں دکھائی دے گا 14کا دم : سونیا ۔راج ناتھ سمیت کئی کی قسمت دائو پر

اتر پردیش میں چوتھے مرحلہ کی ووٹنگ کافی دلچسپ ہونے والی ہے۔ چوتھے مرحلہ کے لیے 30 اپریل کو ہونے والی پولنگ میں کئی قد آور لیڈروں کی قسمت بیلٹ باکس میں بند ہو جائے گی۔ نوابوں کے شہر لکھنؤ اور رائے بریلی کی وی آئی پی سیٹ کے علاوہ بندیل کھنڈ، سیتاپور وغیرہ کے 14 لوک سبھا حلقوں کے 2.40 کروڑ ووٹر اس دن کئی سرکردہ لیڈروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ سولہویں لوک سبھا کی انتخابی مہم میں پورے ملک میں اپنا جی جان لگانے والی کانگریس صدر سونیا گاندھی اور بی جے پی صدر راجناتھ سنگھ خود کتنے پانی میں ہیں، اس بات کا احساس بھی رائے بریلی اور لکھنؤ کے عوام انہیں کرا دیں گے۔ چوتھے مرحلہ کی پولنگ میں صرف کانگریس اور بی جے پی کے اعلیٰ کمان ہی میدان میں نہیں ہوں گے، بلکہ ان کی پارٹیوں کے دوسرے قد آور لیڈر، جیسے ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی، شری پرکاش جیسوال، پردیپ کمار جین آدتیہ، جتن پرساد، ریتا بہوگنا جوشی، انو ٹنڈن وغیرہ کا وقار بھی داؤ پر لگا رہے گا۔

Read more

اعظم گڑ ھ ملائم کے لئے کتنا مضبوط گڑھ ؟

سماجوادی پارٹی کا ہمیشہ مضبوط گڑھ مانا جانے والا اعظم گڑھ اس بار ملائم سنگھ کے لئے پیچیدہ ثابت ہورہا ہے۔سماج وادی پارٹی کا سماجی مساوات کا نعرہ بری طرح پھنس گیا ہے۔ 20 فیصد یادو اور 25 فیصد مسلمانوں کے سہارے جیت کا خواب سجائے ملائم کے سامنے بی جے پی کے موجودہ ممبر پارلیمنٹ رما کانٹ یادو، علماء کونسل کے علاوہ بہو جن سماج پارٹی کے پالے میں کھڑے 30 فیصد دلت اور 25 فیصد پچھڑے اور غیر یادو ووٹرس چیلنج بن کر کھڑے ہو گئے ہیں۔ سماج وادی پارٹی میں ڈر اتنا زیادہ ہے کہ ملائم سنگھ کی جیت کے لئے اکھلیش نے خود مورچہ سنبھال رکھا ہے۔

Read more

وارانسی: مودی کے جال میں کیجریوال

عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کجریوال آج کل خوب سرخیاں بٹور رہے ہیں۔ انّا ہزارے کے آندولن کی پیداوار عام آدمی پارٹی کے سپہ سالار اروند کجریوال عام انتخابات کی بساط پر کس خانہ پر کھڑے ہیں، اس کا پتہ پارلیمانی انتخاب کے نتائج آنے کے بعد ہی لگے گا، لیکن اس میں دورائے نہیں کہ عام آدمی پارٹی کے لیے اروند کجریوال کی اہمیت ٹھیک ایسی ہی ہے جیسی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے پی ایم اِن ویٹنگ نریندر مودی اور قومی صدر راجناتھ سنگھ کی، کانگریس کے لیے راہل گاندھی و محترمہ سونیا گاندھی کی، ایس پی کے لیے ملائم سنگھ یادو کی، بی ایس پی کے لیے محترمہ مایاوتی کی،راشٹریہ لوکدل کے لیے چودھری اجیت سنگھ کی اور دیگر پارٹیوں کے اعلیٰ رہنماؤںکی اہمیت اپنی اپنی پارٹیوں میں ہے۔یہ سبھی لیڈران اپنی اپنی پارٹیوں کو سپہ سالار کی طرح آگے بڑھا رہے ہیں۔ اس میں کوئیشک نہیں کہ انتخابی موسم میں سبھی پارٹیوں کے سپہ سالاروں کو ہر وقت یہی فکر ستاتی رہتی ہے کہ کسی طرح ان کی جیت یقینی ہوجائے ،تاکہ وہ اپنی پارٹی کے امیدواروں کو جتانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا سکیں اور لوک سبھا میں ان کی پارٹی کی زیادہ سے زیادہ حصہ داری بڑھ سکے۔ جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے یہ مناسب بھی لگتا ہے۔ اپنے مشن کو پورا کرنے کے لیے تمام پارٹیوں کے پالیسی سازرات دن میٹنگیں کرتے ہیں۔ پارٹی کے مفاد سے متعلق ایشوز کو دھار دی جاتی ہے اور مخالفین کے حملوں کوکُند کرنے کے لیے نئے نئے تیروں سے ترکش سجائے جاتے ہیں۔

Read more

ہوا کا رخ نہ بھانپ پانے کی بے چینی

اتر پردیش کی 80 لوک سبھا سیٹوں کے لیے چھوٹی بڑی تمام پارٹیاں ہاتھ پیر مار رہی ہیں۔ ’تیری قمیص میری قمیص سے سفید کیسے؟‘ کی طرز پر الزام در الزام کا دور چل رہا ہے۔ شیر، بکری سبھی ایک گھاٹ پر پانی پی رہے ہیں۔ جس کے پاس 20-22سیٹیں ہیں، وہ بھی اور جس کے پاس 2-4یا اتنی بھی سیٹیں نہیں ہیں، ان کے بھی جیت کے بڑے بڑے دعوے ہیں۔ سبھی جماعتوں کے آقا اپنے کو دوسرے سے بہتر ثابت کرنے میںلگے ہیں۔ کسی کومسلم ووٹوں کا سہارا ہے، تو کوئی ہندو ووٹوں کا رہنما بن بیٹھا ہے۔ ہوا سے لے کر زمینی سطح تک، سبھی طرح کے وعدے کیے جا رہے ہیں۔ اکھلیش سرکار سنگ بنیاد رکھنے کے دم پر عوام کی توجہ مرکوز کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے، تو بی ایس پی، بی جے پی اور کانگریس کو ایس پی سرکار ناکامیوں کا پُتلا نظر آتی ہے۔ انتخابی جنگ میں کون شیر

Read more

یو پی میں تیسرے مورچہ کا مطلب ہے سماجوادی پارٹی

دہلی کاراستہ اتر پردیش سے ہو کر جاتا ہے، یہ بات کئی بار بے معنی ثابت ہو چکی ہے، لیکن یو پی کے رہنماؤں کا دل یہ بات قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔ یو پی میں وزارت عظمیٰ کے عہدے کے اتنے دعویدارہیں کہ پورے ملک میں نہیں ملیں گے۔ سماجوادی پارٹی کے صدر ملائم سنگھ، کانگریس کے راہل گاندھی، بی ایس پی سپریمو مایاوتی، بی جے پی کے قومی صدر راجناتھ سنگھ، گویا سبھی کے دل میں پی ایم بننے کے منصوبے انگڑائی لے رہے ہیں۔ بی جے پی کے وزارت عظمیٰ کے دعویدار نریندر مودی کے بھی یو پی سے الیکشن لڑنے کے قیاس لگائے جا رہے ہیں۔ سیاست کے سبھی سورما یو

Read more

انتخابی چکرویو میں پھنسے سماجوادی

سماجوادی پارٹی کو ٹکٹ تقسیم کو لے کر چھکے چھوٹ گئے ہیں۔ایک سال پہلے جن لیڈروں کو لوک سبھا کا ٹکٹ دیا گیا تھا ،انتخابی دوڑ میں ان میں سے کئی کے ٹکٹ کٹ گئے۔ پہلے سماجوادی قیادت نے پارٹی کے وفاداروں کو ٹکٹ تھمایا تھا، لیکن اب امیدواروں کی قابلیتوں کی بنیاد وفاداری کے بجائے انتخاب جیتنے کی صلاحیت کا اندازہ کرکے طے کیا جارہا ہے۔دیگر پارٹیوں سے آنے والے لیڈروں کے علاوہ پرانے وفاداروں کے لئے بھی پارٹی نے ٹکٹ کے دروازے کھلے رکھے ہیں۔سارا دار ومدار ملائم سنگھ نے اپنے کندھوں پر لے رکھا ہے۔ ان کی ٹیم امیدواروں کی تو جانچ کر رہی رہی ہے، اس کے علاوہ ایسے لیڈروں کی تلاش میں بھی لگی ہے ، جو خود انتخاب جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، ساتھ ہی وہ آس پاس کے ضلعوں کی انتخابی تصویر بھی بدل سکیں۔سماج وادی پارٹی میں ابھی تک تقریباً ڈیڑھ درجن امیدوار بدلے جاچکے ہیں۔ سماجوادی پارٹی

Read more

سماجوادی پارٹی سے پریشان مسلمانوں پر بی ایس پی کی نظر

اتر پردیش کا اقتدارکھونے کے بعد بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے 2013میں کوئی خاص دھماکہ نہیں کیا۔ ان کی طرف سے مخالفین پر ہلکے پھلکے انداز میں حملے ضرور کئے گئے، لیکن یہ صرف رسم الادائیگی سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ مایاوتی خامو ش تھیں تو ان کے سپہ سالاروں نے بھی بیشتر موقعوں کو چھوڑ کر اپنا منھ بند ہی رکھا۔ یہ سلسلہ نومبر، دسمبر میں ہوئے پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے وقت بھی جاری رہا، جس کا پارٹی کو خمیازہ بھی اٹھانا پڑا۔ مایاوتی کی خاموشی پر سیاسی پنڈتوں نے وقتاً فوقتاً خوب تبصرے کئے ۔ کسی نے

Read more
Page 1 of 612345...Last »