بے گھروں کی موت اور حکومت کی بے حسی

آدی یوگ
اس بار بھی یہی ہوا ۔ دسمبر آتے آتے موسم سرما غریبوں اور خاص طور سے بے گھروں کو خوفزدہ کرنے لگا تھا، لیکن ضلع انتظامیہ کی جانب سے رین بسیروں اور الائو کا انتظام کرنے کا حکم سال کے آخری دن جاری ہو سکا۔ غور طلب ہے کہ لکھنؤ میں اس سردی کا وہ سب سے سرد دن تھا، جب رات کا درجۂ حرارت گھٹ کر 1.5ڈگری سیلسیس تک آ گیا تھا۔ یہ بے گھروں کے لئے نئے سال کا ظالمانہ آغاز تھا۔
سرکاری بہادروں کی مہربانی کا عالم یہ ہے کہ مفاد عامہ میں جاری کئے گئے تمام احکامات یا تو کاغذی بھاگ دوڑ میں الجھ کر رہ جاتے ہیں یا بدعنوانی کی نذر ہو جاتے ہیں۔دسم

Read more

عوام کے آگے کمپنی بے بس

آدی یوگ
ترقیکے نام پر حکومتوں کی آنکھ بند کر کے کمپنی نوازی دورجدید میں لوگوں کے لئے ایک آفت بن گئی ہے۔ چند کمپنیوں کے مفاد کی خاطر پہلے سے غریب ومحروم عوام کو مزید غریبی و محرومی کے کنویں میں دھکیلنے کی دکھ بھری داستانیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ ملک کے عوام اسے روکنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ جولائی کا مہینہ ضرور آندھرا پردیش اور چھتیس گڑھ سے جیت کی خوش خبری دے کر گزرا اور جس نے نا امیدی کے گھنے بادلوں کے درمیان تمام عوامی تحریکات کو ہمت اور طاقت بخشی۔ جھوٹ، دبائو اوردھمکیوںکا جال تھا۔ فوج کے ساتھ تعینات سرکاری عملہ کمپنی کا منیجر کم باڈی گارڈ جیسا اور مقامی میڈیا کمپنی کا پی آر او زیادہ دکھائی دیتا تھا۔ حالات ایمر جنسی

Read more

پہلے سے کھنچی ہوتی ہے میڈیا کی لکشمن ریکھا

آدی یوگ
سی پی آئی(مائونواز) کے ترجمان آزاد کی مڈبھیڑ پر آندھرا پردیش کی پولس کے ذریعہ کئے گئے قتل کے بعد امن اور انصاف کے پیروکار صدمہ اور غصہ میں ہیں۔ ان میں بہت سے مائونوازوں کے تشدد کے راستہ پر انگلی بھی اٹھاتے رہے ہیں، لیکن اس سے قبل حکومتوں کی عوامی پالیسیوں اوراس کی مخالفت کو بھی ضرور کٹہرے میں کھڑا کرتے رہے ہیں

Read more

بالو مزدور مافیائوں کے ہاتھوں مجبور

کشتی سے لوگوں کو ندی پار لے جاتے، کندھوں اور پتواروں کے تال میل سے کشتی چلاتے،کھول کر مچھلی کا جال پھینکتے اور شام کے دھندلکے میں واپس لوٹتے مچھواروں کی قطارکا منظر بہت سہانا لگتا ہے۔لہروں کی دھن پررقص کرتے ان کے گیت اس منظر کو مزید دلکش بنا دیتے ہیں۔ان کے تین کام ہیں اور اس کے لیے تین خطاب ہیں۔اگر مچھلی پکڑتے ہیں تو مچھوارے، ندی پار کراتے ہیں تو کیوٹ اور ندی سے بالو نکالتے ہیں تو بالو مزدور۔ اس میں مانجھی کی پہچان

Read more

مونگرا ڈیم کا پانی کس کے لئے ؟

چھتیس گڑھ کے راج ناندگائوں ضلع کا انباگڑھ چوکی بلاک ۔ ٹمپریچر 46ڈگری کو چھو رہا تھا۔ چلچلاتی دھوپ میں چھ لوگوں کی ٹولی پانگری نامی چھوٹے سے قبائلی گائوں میں مونگرا باندھ سے جڑے سوال لے کر سات دن کے پیدل سفر پرروانہ ہوئی۔ تشہیر کے لئے کسی ڈھول نگاڑے کے بغیر اور بے حد غیر رسمی انداز میں۔ یہ سفر مونگرا گائوں پہنچ کر ختم ہوا۔ تقریباً ہر گائوں سے اوسطاً پانچ لوگ اگلے گائوں تک ہمسفر بنے۔

Read more
Page 20 of 20« First...10...1617181920