کسان آخری دم تک جدوجہد کریں

ابھیشیک رنجن سنگھ
تقریباً 80سالہ ایک بزرگ بھوانی سنگھ، جو لاٹھی کے سہارے بساوا میں منعقد کسان سبھا میں پہنچتاہے۔ نول گڑھ میں سیمنٹ فیکٹریوں کے لیے تحویل میں لی جارہی زمین کو بچانے کے لیے منعقد اس جلسے کو وہ پورے پانچ گھنٹے تک لگاتار سنتا ہے۔ میں نے جب ان سے، ان کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے مجھے بتایا کہ میں ایک ریٹائرڈ فوجی ہوں اور اس عمر میں بھی لڑائی لڑ رہا ہوں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ فوج میں رہتے ہوئے ملک کے دشمنوں سے لڑائی کی اور ریٹائر ہونے کے بعد اپنے بزرگوں کی زمین بچانے کے

Read more

فوج کی زمین پر مافیائوں کی نظر

ابھیشیک رنجن سنگھ

کانپور چھاؤ نی میں موجود فوج کی بیش قیمتی زمینوں کو سستی قیمتوں پر بیچنے کے معاملے میں پی آئی ایل داخل کرنا اَودھ نریش سنگھ کو اب مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔ زمین مافیاؤں کے ذریعے اُن پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ یہ معاملہ واپس لے لیں، ورنہ وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ الگ الگ آ رہی ٹیلی فون کالوں پر ان سے کہا جا رہا ہے کہ اگر انہوں نے اپنے قدم پیچھے نہ کھینچے تو انہیں

Read more

ایف ڈی آئی پر گھری سرکار

ابھیشیک رنجن سنگھ
ہندوستان ایک انوکھا ملک ہے۔ کہنے کو یہاں جمہوریت ہے اور عوام اس کے مالک، لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف الیکشن کے موقع پر ہمارے نام نہاد لیڈر جنتا کے دربار میں حاضری لگاتے ہیں اور انتخاب ختم ہوتے ہی وہ عوام کو بھول جاتے ہیں۔ سال 1990 میں اُس وقت کی کانگریس حکومت نے ملک میں نئی اقتصادی پالیسی نافذ کی تھی۔ اس وقت بھی حکومت کے اس فیصلہ کی مخالفت ہوئی تھی۔ حکومت کی دلیل تھی کہ اس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ملک میں خوش حالی آئے گی۔ دو دہائی کے بعد مرکزی

Read more

زندہ رہنے کے لئے سیمنٹ ضروری ہے یا اناج

ابھیشیک رنجن سنگھ
تقریباً پانچ دہائی قبل ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے 2 اکتوبر، 1959 کو جس راجستھان کے ناگور ضلع میں پنچایتی راج کی شروعات کی تھی، اسی ریاست کی پنچایتوں اور گرام سبھاؤں کی اندیکھی کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ گرام سوراج کا جو خواب مہاتما گاندھی اور ڈاکٹر رام منوہر لوہیا نے دیکھا تھا، وہ آزادی کے 64 سالوں بعد بھی پورا نہیں ہوسکا۔ ہم بات کر رہے ہیں جھن

Read more

کسانوں اور مزدوروں کے خلاف ایک بڑی سازش

ابھیشیک رنجن سنگھ
مجوزہ تحویل اراضی اور باز آبادکاری قانون 2011 کو ملک کے غریب کسان اور عام آدمی کے مفادات کی اندیکھی کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں پیش کیا جاسکتا ہے، لہٰذا ملک کی مختلف تنظیموں نے اس کی مخالفت کرنی شروع کردی ہے، خاص کر نرمدا بچاؤ آندولن اور این اے پی ایم سے وابستہ سماجی کارکن میدھا پاٹکر نے اس مجوزہ قانون کے بارے میں اپنے اہم مشورے پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے رکھے ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ اس موضوع پر سیاسی پارٹیوں ک

Read more

جھارکھنڈ میں آبائی زمین کو بچانے کی جنگ

ابھیشیک رنجن سنگھ
اس سال گرمی اپنے شباب پر ہے اور جھارکھنڈ کے کانکے نگڑی سے ہو کر گزرنے والی ندی جمار انتہائی خشک سالی کا شکار ہے۔ ایک زمانہ تھا جب جمار ندی پانی سے لبریزہوتی تھی اور اپنے کنارے بسے تمام گائووں کو سیراب کرتی تھی۔جمار ندی کے کنارے بسے گائووں کے لوگ اس پانی سے اپنے کھیتوں کی سینچائی کرتے تھے اور مچھلیاں پالتے تھے، لیکن اب جمار ندی پر جھارکھنڈ کی

Read more

ہندوستانی میڈیا میں خواتین کی نمائندگی

ابھیشیک رنجن سنگھ
گزشتہ کچھ برسوں میں،خاص طور پر 1990 کی دہائی کے بعد ،ہندوستان کا ایک طبقہ یہ ماننے لگا تھا کہ دہلی اور ریاستوں کی راجدھانیاںاب ملک کی روح بن گئی ہیں۔ بڑے شہروں میں عورتوں کو مردوں کی طر ح ہی روزگار کے مواقع مل رہے ہیں۔ یوں تو اس آدھی حقیقت سے انکار ممکن نہیںہے، کیوںکہ میٹرو شہروں میں کثیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوںمیں بھی نوکری پیشہ خواتین کی تعداد اچھی ہے۔ یہاں میڈیا کی بات کریں تو ٹیلی ویژن پر خبریں پڑھتی خاتون اینکراور پی ٹی سی دے رہی خواتین کو دیکھ کر

Read more

سرکاری بے راہ روی کا شکار دوردرشن کا اردو چینل

ابھیشیک رنجن سنگھ
اردو زبان اس ملک کی پہچان ہے، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ آزادی کے بعد نہ صرف ہماری گنگا جمنی تہذیب کی پہچان اردو کو سیاست کی آگ میں جھونک دیا گیا، بلکہ آزادی کے 64 سال بعد بھی اردو کی بہتری کی بجائے اس کے نام پر گندی سیاست کی جا رہی ہے۔ جو اردو زبان آزادی سے پہلے ہندوستان کی سرکاری زبان تھی

Read more

آرگینک کھیتی اور بازار کا نظام

ابھیشیک رنجن سنگھ
کچھ وقت پہلے تک لوگ آرگینک فوڈ کی خوبیوں سے واقف نہیں تھے۔ یہ غیر ملکیوں کی پسند زیادہ ہوا کرتا تھا، لیکن اب حالات بدل چکے ہیں ۔ اب ہندوستانی بازار نہ صرف آرگینک پیداوار سے بھرے پڑے ہیں، بلکہ بڑے پیمانے پر آرگینک کھیتی بھی کی جا رہی ہے۔ ہندوستان میں آرگینک پیداوار کو فروغ دینے کا سہرا ملک کے مشہور صنعت کار کمل مرارکا کے ذریعہ چ

Read more

فوڈ کارپوریشن آف انڈیا : لاپروائی، من مانی اور بدعنوانی کا مرکز

ابھیشیک رنجن سنگھ
تقریباً55سال قبل کئی عوامی فلاحی مقاصد کو لے کر قیام میں آئی فوڈ کاپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی) آج لاپروائی، من مانی اور بدعنوانی کا اڈہ بن گئی ہے۔ ملک کا کسان آج فاقہ کشی ،بدحالی کا شکار ہے اور خود کشی کرنے کے لئے مجبورہے، لیکن اسی کے خون پسینہ سے پیدا شدہ لاکھوں ٹن اناج ایف سی آئی مینجمنٹکی بدنظمی اور بدنیتی کے سبب کھلے آسمان کے نیچے سڑنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ پورے ملک میں ایف سی آئی کے تقریباً1451گودام ہیں، جو ضرورت کے حساب سے کافیکم ہیں۔ مرکزی حکوم

Read more