کیجریوال کو گاندھی وادیوں کی حمایت حاصل نہیں

عوام کو سبز باغ دکھانے میں ماہر عا م آدمی پارٹی اب گاندھی وادیوں کو بھی ورغلانے لگی ہے۔ ہاتھ میں ترنگا، سر پر گاندھی ٹوپی اور منھ سے سیاسی شفافیت کی بات کرنے والے پارٹی لیڈروں کے فلسفہ، طرز عمل اور طریقہ کار میں اس کی کوئی جھلک نہیں ملتی۔ پارلیمانی انتخابات میں چند سیٹوں کا انتظام کیسے ہو، اس کے لیے عام آدمی پارٹی ہرقسم کا داؤ لگانا چاہتی ہے۔ پارٹی کی طرف سے اب تک اعلان شدہ زیادہ تر پارلیمانی امیدواروں کی زمینی حقیقت دیکھیں، تو وہ غیر ملکی عطیات سے چلنے والی این جی اوز سے جڑے رہے ہیں۔ ایسے میں گاندھی وادی نظریہ پر سیاست کرنے کا دم بھرنے والے کجریوال کو یہ جاننا چاہیے کہ سرمایہ داری کی راہ پر چلتے ہوئے گاندھی واد کے ہدف کو کیسے پورا کیا جاسکتا ہے؟

Read more

نیما گری کا کریڈیٹ لینے کو بے چین راہل گاندھی

کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کی حالت ایک ایسے خود پسند اور مختصر نظریہ رکھنے والے لیڈر جیسی ہے، جو ہر وقت اپنی تعریف سننے کو بے تاب رہتا ہے۔ وہ جب بھی قبائیلیوں کا ذکر کرتے ہیں، تو نیما گری کا نام لینا نہیں بھولتے۔ ان کے مطابق، تو نیما گری کی پہاڑیوں پر ویدانتا کو باکسائٹ کان کنی کی اجازت کانگریس کی وجہ سے ہی نہیں ملی۔ حالانکہ ، ریاست کے کلنگ نگر اور کاشی پور میں کان کنی کی مخالفت کررہے قبائیلیوں کو ہلاک کر رہی تھی، اس وقت راہل گاندھی دہلی میں آرام فرماتھے۔ اتنا ہی نہیں، ریاست کے جگت سنگھ ضلع میں کوریائی اسٹیل کمپنی پاسکو کو ماحولیاتی منظوری ملنے کے بعد بھی راہل گاندھی نے وہاں جدوجہد کررہے کسانوں کے بارے میں ایک لفظ تک نہیں کہا۔ آخر کیوں راہل گاندھی نیما گری تحریک کا جھوٹا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں۔ پیش ہے چوتھی دنیا کی تفصیلی رپورٹ….

Read more

ادھیکار ریلی یا وجود کو بچانے کی ریلی

ابھیشیک رنجن سنگھ
راجدھانی دلی کا رام لیلا میدان کئی تاریخی ریلیوں کا گواہ رہا ہے۔ اس میدان پر کئی بڑے بڑے لیڈروں نے ریلیاں کی ہیں۔ حالانکہ رام لیلا میدان میں جب بھی خود سے امنڈنے والے کسی عوامی سیلاب کا ذکر آتا ہے، تو اچانک 25 جون، 1975 کی یاد تازہ ہو جاتی ہے، کیوں کہ اسی میدان پر جے پرکاش نارائن نے اندرا گاندھی کی سرکار کو تانا شاہ قرار دیتے ہوئے، اسے اکھاڑ پھینک

Read more

کسانوں کے بنیادی مسائل کو نظر انداز کیا گیا

ابھیشیک رنجن سنگھ
گزشتہ دنوں سال 2013-14 کا بجٹ وزیر خزانہ پی چدمبرم نے پیش کیا۔ میڈیا سے لے کر ماہرین اقتصادیات تک نے باریکی سے اس کا مشاہدہ کیا۔ حالانکہ اس بجٹ نے کسانوں کو زیادہ خوش ہونے کا موقع نہیں دیا۔ توقع تھی کہ وزیر خزانہ اپنے بجٹ میں کسانوں کے لیے ہر سطح پر مدد پہنچانے کا اعلان کریں گے، لیکن ویسا نہیں ہوا۔ اس بجٹ میں غریبوں، مزدوروں اور بے گھروں کے لیے کوئی راحت کا پیغام نہیں ہے۔ اس بار زراعتی شعبہ ک

Read more

یہ حکومت مزدور مخالف ہے

ابھیشیک رنجن سنگھ
ٹریڈ یونینوں کی دو رزہ ہڑتال کے بارے میں مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ خود وزیر اعظم نے ہڑتال نہ کرنے کی اپیل کی تھی، اس کے باوجود ٹریڈ یونینوں نے ہڑتال پر جانے کا فیصلہ لیا۔ حکومت کی دلیلوں پر اب کسی کو بھروسہ نہیں رہ گیا ہے۔ جہاں تک ٹریڈ یونینوں کی ہڑتال کا سوال ہے ، تو اس بارے میں کہنا غلط نہیں ہوگا کہ انہیں ہڑتال پر جانے کے لئے خود یو پی اے حکومت نے مجبور کیا۔ جبکہ سبھی جانتے ہیں کہ ٹریڈ یونینوں کے مطالبات تین سال پرانے ہیں۔ گزشتہ سال بھی ٹریڈ یونینوں نے بند کا

Read more

آدیواسی طالبات کی آبروریزی: کانکیر کئی سوالوں کو جنم دیتا ہے

ابھیشیک رنجن سنگھ
کیا آدیواسی ہونا اس ملک میں گناہ ہے؟شاید ہاں ، کیونکہ اگر حکومت اور انتظامیہ کی یہ ذہنیت نہ ہوتی تو وہ آدیواسیوں کو اپنی ملکیت نہ سمجھتے۔ آدیواسی اس ملک کے اصلی باشندے ہیں۔ وہ فطرت اور اتفاق باہمی کے ساتھ اپنی زندگی جیتے ہیں۔ہمارے ملک میں ترقی کی ایسی پالیسی بنائی گئی، جس سے آدیواسی زمین سے الگ ہونے کو مجبور ہوئے۔ پہلے ان سے جنگل چھینا گیا۔ اس کے بعد ان کی زمین۔ اس کے بعد بھی من نہیں بھرا تو اب آد

Read more

سبق چھوڑ گیا بھارت بند

ابھیشیک رنجن سنگھ
ملک کے عوام نے کئی مرتبہ’ بھارت بند ‘دیکھے ہیں۔ لال، ہرے، نیلے، بھگوا اور طرح طرح کے رنگوں کے جھنڈوں تلے کبھی بایاں محاذ، کبھی لوک دل، کبھی بہو جن سماج پارٹی، کبھی بی جے پی تو کبھی کانگریس نے سرکار کی عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف عوام کو متحد کرنے کے لیے بند کا اعلان کیا۔ گزشتہ کچھ برسوں پر غور کریں تو ہر سال کسی نہ کسی ایشو پر سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ ’بھارت بند‘ کیا گیا، راجدھانی دہلی اس کی گواہ ہے۔ اس بند میں عوام کی حصہ داری بھلے ہی نہ رہی ہو، لیکن سیاسی پارٹیوں کے لیے’ بھارت بند‘ کا اہتمام کسی اہم دستاویز کی طرح ہے۔ دہلی میں ایک طالبہ کے ساتھ چلتی بس میں ہوئی اجتماعی عصمت دری کے خلاف

Read more

رنگ راجن کمیٹی کی سفارش کسان مخالف: وی کے سنگھ

ابھیشیک رنجن سنگھ
گزشتہ دنوں راجدھانی دہلی میں گنّا پیدا کرنے والے کسانوں نے پارلیمنٹ کا محاصرہ کیا۔ تحریک چلانے والے کسانوں کی حمایت میں سابق آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ، ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ اوم پرکاش چوٹالہ، ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سلطان احمد بھی کھل کر سامنے آئے۔ ملک کی الگ الگ ریاستوں سے آئے کسان جب پارلیمنٹ کے باہر تحریک کر رہے تھے، اسی دن پارلیمنٹ

Read more

بجلی کمپنیوں پر شیلا کی مہربانی

ابھیشیک رنجن سنگھ
راجدھانی دہلی میں ایک بار پھر بجلی کے بڑھے دام عوام کو پریشان کر رہے ہیں۔ دہلی سرکار نے نئیشرح کا نفاذ کر دیا ہے ۔ نئی شرح کے مطابق گھریلو کھپت کے لیے موجودہ ٹیرف 4.16 روپے فی یونٹ کی جگہ 5.17روپے ہو گیا۔ اس میں 24.15فی صد کا اضافہ کیا

Read more