مراٹھواڑہ : موت کے دہانے پر کسان

ضلع ہیڈکوارٹر عثمان آباد سے پندر کلومیٹر دور ایک گاؤں ہے روئی بھر۔ 11 دسمبر، 2014 کو بابا صاحب مانک جگتاپ نے اپنے کھیت میں پھانسی لگا کر خود کشی کر لی۔ جگتاپ کو کانوں سے کم سنائی دیتا تھا۔ فیملی میں اس کی جسمانی طور پر معذور بیوی انیتا سمیت تین بیٹیاں، کاجل، اسنیہل اور جیوتسنا اور ایک بیٹا پرمود ہے۔ مانک جگتاپ کی بوڑھی ماں کیسر بائی اکثر بیمار رہتی ہے۔ اس فیملی کے پاس صرف سوا بیگھہ زمین ہے۔ بڑی بیٹی

Read more

لیبر لاء میں تبدیلی مزدوروں کےخلاف ہے

آخر کار نریندر مودی حکومت نے وہی کیا، جس کا خدشہ پہلے سے لوگوں کو تھا۔ مرکز میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم نے تین اہم فیصلے لئے۔ حکومت نے سب سے پہلے دفاعی سودوں میں راست غیر ملکی سرمایہ کاری(ایف ڈی آئی) کو منظوری دی ، پھر اس نے بیما سیکٹر میں ایف ڈی آئی کی اجازت دی اور اب لیبر لاء میں ترمیم کا عمل شروع کر کے مرکزی حکومت نے لاکھوں ملازمین اور مزدوروں کو ہڑتال کرنے کے لئے مجبور کر دیا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ لیبر لاء میں کی جا رہیں ترامیم سے قبل حکومت نے مرکزی ٹریڈ یونینوں سے اس سلسلہ میں بات کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا جبکہ انٹرنیشنل ورکرس آرگنائزیشن کے ضوابط کے مطابق حکومت کو لیبر لاء میں کسی طرح کی ترمیم کرنے سے قبل ٹریڈ یونینوں کے نمائندگان اور کارخانہ مالکان سے بات چیت کرنی چاہئے۔ وزیر اعظم ، صنعتی شعبہ کی اہم تنظیموں، ٹریڈ یونینوں کے نمائندگان اور تمام ریاستوں کے وزیر محنت کی موجودگی میں ہر سال دہلی کے وگیا ن بھون میں انڈین لیبر کانفرنس کا انعقاد ہوتا ہے۔ اس کانفرنس میں وزیر اعظم مزدوروں کی فلاح کے لئے اپنے عہد کو دہراتے ہیں، لیکن مودی حکومت جس عجلت کے ساتھ لیبر لاء میں ترمیم کرنے کے لئے اتاولی نظر آ رہی ہے، اس سے اس حکومت کی مزدور مخالف ذہنیت سامنے آتی ہے۔

Read more

دسمبر میں طے ہوگا دہلی کا سیاسی مستقبل

گزشتہ کئی مہینوں سے دہلی والوں کے موبائل فون پر عام آدمی پارٹی کے سپریمو اروند کجریوال کی آواز میں ایک کال اپیل؍اشتہار سنائی دیتا تھا۔کجریوال کبھی دہلی میں اپنی 49دنوں کی سرکار کی کامیابیاں گنا رہے تھے تو کبھی محلہ سبھا منعقد کرکے اپنے ارکان اسمبلی کو ملنے والے ترقیاتی فنڈ کا استعمال کرنے کی بات کہتے تھے۔ دہلی میں پوسٹر کے ذریعہ بھی وہ اس طرح کی اپیل کرتے رہے تھے۔ گزشتہ 3اگست کو جنتر منتر پر عام آدمی پارٹی کی طرف سے ایک عوامی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ اس ریلی سے پہلے راجدھانی دہلی کے ہر گلی محلے میں عام آدمی پارٹی کا ایک پوسٹر دیکھنے کو ملا، جس میں لکھا تھا ’’ انتخاب سے کیوں بھاگ رہی ہے بی جے پی؟‘‘۔اس پوسٹر میں نیچے بائیں طرف اروند کجریوال کا ایک فوٹو بھی لگا تھا۔

Read more

شرد یادو بے بس اور لاچار ہیں: اوپیندر کشواہا

لالو پرساد اور نتیش کمار کے درمیان گھٹتی دوریوں نے بھونچال لا دیا ہے۔سیاسی ماہرین بھلے ہی اس کی مختلف معنوں سے تعبیر کر رہے ہوں، لیکن اپوزیشن اسے پوری طرح موقع پرستی کی سیاست قرار دے رہی ہے۔ بہار کی موجودہ سیاسی صورتحال پر سماجوادی پس منظر کے لیڈر اور کبھی نتیش کمار کے ساتھ رہے لوک سمتا پارٹی کے قومی صدر اور مرکزی وزیر مملکت اوپیندر کشواہا سے ابھیشیک رنجن سنگھ نے تفصیلی بات چیت کی۔ پیش ہیں اہم اقتباسات:

Read more

نکسلیوں سے بات چیت کی پہل کرے مرکزی حکومت

مرکزی مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے پچھلے دنوں کہا کہ این ڈی اے حکومت نکسلواد کے مسائل کا پُر امن حل چاہتی ہے۔ راجناتھ سنگھ کے مطابق، نکسلواد اندرونی سیکورٹی کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ لہٰذا نکسل متأثرہ ریاستوں میں ترقیاتی کام کو بڑھا کر اس مسئلے کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ ترقی سے نکسلواد کے مسائل حل ہوں گے، ایسی دلیل دینے والے لیڈروں اور نکسل شاہوں کی آج کمی نہیں ہے۔ دراصل نکسلواد کے مسائل کی سب سے بڑی وجہ یہی نام نہاد ترقی ہے جس نے دلت اور آدیواسیوں کو ان کے حقوق سے محروم کر دیا ہے۔ آخر یہ ترقی ہے کیا اور اس کا ماڈل کیا ہے؟ کیا زمین میں دبے خزانوں کو نکالنا، جنگلوں کو ختم کرنا، پہاڑوں کو ڈائنامیٹ لگا کر اڑانا، آدیواسیوں کی زمین پر کارخانے لگا کر انہیں یومیہ مزدور بنا دینا ہی ترقی ہے؟اگر سرمایا داروں کی بھلائی کے لئے ترقی کا یہ راستہ ہی ترقی ہے تو یہ نقصان دہ ہے ،یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے، لیکن افسوس کہ مرکز اور ریاست کی سرکاروں کو اس سے کوئی مطلب نہیں ہے

Read more

لیفٹ کے لئے کچھ بھی رائٹ نہیں

تمام سیاسی تجزیہ نگاروں کو بھی لوک سبھا انتخابات میں کمیونسٹ پارٹیوں سے بہتر کارکردگی کی امید نہیں تھی، لیکن محض 10 سیٹوں پرکمیونسٹ پارٹیاں سمٹ جائیں گی، ایسا کسی نے نہیں سوچا تھا۔ مغربی بنگال میں 45 سالوں تک حکومت کرنے والی سی پی ایم کو اس بار صرف دو سیٹیں ہی ملی ہیں، جبکہ گزشتہ بار اسے 16 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ بنگال میں سی پی ایم، فارورڈ بلاک اور ریوالیوشنری سوشلسٹ پارٹی (آر ایس پی) اس بار کھاتہ تک نہیں کھول پائی۔

Read more

جمہوری تہوار کی کمزور پڑتی روایت

پندرہ سال پرانی بات ہے۔ اُن دنوں میں انٹرمیڈیٹ کا ایک طالب علم تھا۔ گھر سے کالج کی دوری پانچ کلومیٹر تھی۔ کالج جاتے وقت دربھنگہ کلکٹریٹ اور ضلع کچہری کی چہار دیواری پر موٹے حروف میں لکھے نعروں کو نہایت غور سے پڑھتا تھا۔ کافی وقت گزرنے کے بعد بھی دیواروں پر لکھے کئی سلوگن مجھے آج بھی یاد ہیں۔ انھیں میں سے ایک کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسوادی – لینن وادی) کا ایک نعرہ لکھا ہوتا تھا ’رے بے، تم تام نہیں سہیں گے، مالک کسی کو نہیں کہیں گے‘۔ ایسے تمام نعرے، جن کی کل بھی افادیت تھی اور مستقبل میں بھی رہے گی۔ صرف دربھنگہ جیسے شہروں میں ہی نہیں، بلکہ ہندوستان کے سبھی چھوٹے بڑے شہروں میں دیوار

Read more

کیجریوال کو گاندھی وادیوں کی حمایت حاصل نہیں

عوام کو سبز باغ دکھانے میں ماہر عا م آدمی پارٹی اب گاندھی وادیوں کو بھی ورغلانے لگی ہے۔ ہاتھ میں ترنگا، سر پر گاندھی ٹوپی اور منھ سے سیاسی شفافیت کی بات کرنے والے پارٹی لیڈروں کے فلسفہ، طرز عمل اور طریقہ کار میں اس کی کوئی جھلک نہیں ملتی۔ پارلیمانی انتخابات میں چند سیٹوں کا انتظام کیسے ہو، اس کے لیے عام آدمی پارٹی ہرقسم کا داؤ لگانا چاہتی ہے۔ پارٹی کی طرف سے اب تک اعلان شدہ زیادہ تر پارلیمانی امیدواروں کی زمینی حقیقت دیکھیں، تو وہ غیر ملکی عطیات سے چلنے والی این جی اوز سے جڑے رہے ہیں۔ ایسے میں گاندھی وادی نظریہ پر سیاست کرنے کا دم بھرنے والے کجریوال کو یہ جاننا چاہیے کہ سرمایہ داری کی راہ پر چلتے ہوئے گاندھی واد کے ہدف کو کیسے پورا کیا جاسکتا ہے؟

Read more
Page 1 of 3123