علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پاپا میاں کی بچیاں آگے بڑھ رہی ہیں

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو ) کا ذہن میں نام آتے ہی دو عظیم شخصیتیں یاد آجاتی ہیں۔ ایک سرسید تو دوسری شیخ عبد اللہ عرف پاپا میاں ۔ سر سید کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے عصری تعلیم کا سب سے بڑا مرکز مسلمانوں کو دیا جبکہ کشمیر کے رہنے والے مہتہ گرمکھ سنگھ کے بیٹے ٹھاکر داس جو کہ 1891 میں مسلمان بن جانے کے بعد شیخ عبد اللہ عرف پاپا میاں بنے، نے اس تعلیم گاہ سے بچیوں کی تعلیم کو جوڑا اور اسے پروان چڑھایا۔ یہاں واقع ان کے نام پر عبد اللہ کالج اور عبد اللہ ہاسٹل مسلسل ان کی یاد دلاتا ہے۔

Read more

انصاف کے ہنوز منتظر ہیں ہاشم پورہ متاثرین

اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوسکتا ہے کہ تقریبا 30 برس بعد ہاشم پورہ معاملہ ابھی تک انصاف کا متقاضی ہے۔ وہ بد نصیب 42 افراد جنہیں پی اے سی کے جوانوں نے 22مئی 1987 کودن دھاڑے گھروں سے نکال کر میرٹھ میں ہاشم پورہ محلہ کے باہر گل مرگ سنیما کے سامنے جمع کیا اور پھر ٹرک میں بیٹھا کر مراد نگر ؍غازی آباد کے گنگ نہر اور ہنڈن ندی کے پاس لائے اور پانی میں گولیوں سے مار کر پھینک دیا۔ان میں سے بچے ہوئے چند افراد اور مقولین کے اعزہ و اقارب ہنوز معاوضہ سے محروم ہیں۔ یہ معاملہ غازی آباد کی عدالت سے چکر کاٹتا ہوا جلد مقدمہ نمٹانے کے لئے دہلی کی تیس ہزاری عدالت لایا گیا اور وہاں 21مارچ 2015 کو ثبوت کی عدم فراہمی کے سبب قاتل کا پتہ نہ لگ سکنے پر نتیجہ یہ نکلا کہ پی اے سی کے 16 ملزم جوان بری الذمہ قرار دیئے گئے۔

Read more

بچوں کی اموات میں ہندوستان کا سرفہرست ہونا تشویشناک

پانچ برس سے کم عمر کے بچوں کی اموات کی شرح میں 1990 اور 2015 کے درمیان تین فیصد کی کمی ہوئی۔اس کاصاف مطلب یہ ہوا کہ میلنیئم ڈیولپمنٹ گول ( ایم ڈی جی ) کی شرح 4.4 فیصد سے ہندوستان 1.4 فیصد ابھی پیچھے ہے۔ اگر ہندوستان اس ہدف کو پورا کرلیتا تو یقینا 14ملین بچے بچ جاتے ۔دراصل یہ اعدادو شمار یہ بتاتے ہیں کہ ہندوستان بچوں کے تعلق سے کتنا کم توجہ دے پارہا ہے۔یہ اموات دیہی علاقوں میں زیادہ ہوتی ہیں جہاں میڈیکل سہولیات کا بہت فقدان ہے۔ان دیہی علاقوں میں جہاں مسلم آبادی قابل ذکر ہے، وہاں تو حالت اور بھی زیادہ خراب ہے

Read more

صاف ستھرے بھارت کا مشن ہدف اور مسلم علاقوں سے دور

یاد آتا ہے 1997میں ملکہ برطانیہ الیزابتھ کا 1961اور 1983 کے بعد تیسری بار دورہ ہند۔ 12 اکتوبر کو نئی دہلی پہنچنے کے بعد دوسرے روز علی الصباح یہ کھلی گاڑی میںاپنے ملک کے ہائی کمشنر سر ڈیوڈ گورے بوتھ کے ساتھ بابائے قوم مہاتما گاندھی کی سمادھی راج گھاٹ انھیں خراج عقیدت پیش کرنے جارہی تھیں۔ اچانک رنگ روڑ پر راج گھاٹ سے ٹھیک پہلے ان کی نظر سڑک کے کنارے متعدد خواتین پر پڑی جو انھیں دیکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔ اس پر ملکہ نے اپنے ہائی کمشنر سے پوچھا کہ یہ سب اچانک کیوں کھڑی ہوگئیں اور کیا کررہی ہیں؟ جواب ملا کہ ’’دے آر

Read more

بیدر کے شاہین گروپ کا انوکھا تجربہ اب حافظ قرآن ڈاکٹر انجینئر بھی بن رہے ہیں

مسلم کمیونٹی میں حفظ قرآن کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حفاظ کو بڑے احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ساتویں صدی کے شروع میں ہندوستان میں اسلام کی آمدکے بعد سے ہی دارالحفظ کا سلسلہ انفرادی یا چھوٹے چھوٹے پیمانے پر شروع ہوچکا تھا۔ مشہور مراقشی سیاح ابن بطوطہ نے14 ویں صدی میں بحیرہ عرب پر بسے شہر بھٹکل میںدورے کے دوران بچوں اور بچیوں کے علیحدہ علیحدہ دارالحفظ و تجوید کا اپنے سفر نامہ میں ذکر کیا ہے۔ ابتداء میں حفظ مکمل کرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ تعلیم یہیںپر ختم ہوجائے اوریہ بذات خود ایک پروفیشن بن جائے اور پھر اس سے فارغ افراد فقط مسجد کی امامت ایک قلیل تنخواہ پر کرتے رہیں۔ مگر بعد میںہوا یہی جس کے نتیجے میںحفاظ کرام جیسا طبقہ معاشی طور پر بہت کمزور ہوتا چلا گیااور

Read more

جماعت کی ’امن و انسانیت مہم‘ کا مظفر نگر اور شاملی کے بے گھر لوگ انتظار کرتے رہے

ہندوستان میں 68 برسوں سے آفاقی بنیادوں پر سرگرم عمل ہونے کا دعویٰ لے کر اٹھی جماعت اسلامی ہند ابھی حال میں اس وقت ملک کے ایک بڑے حلقہ کی توجہ اپنی جانب مبذو ل کراتی دکھی جب اس نے تمام مذاہب کے حاملین سے 15 روزہ ’امن و انسانیت مہم‘ کے دوران روابط بنائے اور تبادلہ خیال کئے۔اس کا مقصد تھا کہ معاشرہ میں کمیونیکیشن گیپ، مذہبی بنیادوں پر پولرائزیشن،عدم رواداری اور عدم برداشت کا جو ماحول بنتا جارہا ہے اور فروغ پارہا ہے ، اس پر روک لگانے کی کوشش کی جاسکے۔ جنرل سکریٹری جماعت محمد سلیم انجینئر کے مطابق، ملک

Read more

وقف املاک پر قبضے ,وہی قاتل وہی منصف ٹھہرے

وقف املاک امت اسلامیہ کے ایسے قیمتی سرمائے ہیں جو جہاں ایک طرف واقف کے لئے ثواب جاریہ ہیں تو دوسری طرف امت کے مجموعی طورپرامپاورمنٹ کے بہترین اور موثر ذرائع ۔ ہندوستان میں کل6 لاکھ ایکڑ اراضی پر پھیلے ہوئے 4.9 لاکھ رجسٹرڈ وقف املاک ہیں جن میں سے ایک قابل ذکر تعداد کسی نہ کسی کے قبضے اور استعمال میں ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان املاک میں ایسی بھی ہیں جو کہ چند مسلم تنظیموں، اداوں اور شخصیات کی تحویل میں ہیں،وہی تنظیمیں،ادارے اور شخصیات جو کہ دوسروں کے قبضوں کی باتیں کرتے تھکتے نہیں ہیں۔ ان سب حقائق کا نتیجہ یہ ہے کہ وقف املاک کا ملت کے امپاورمنٹ میں استعمال نہیں ہو پاتا ہے۔اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہی قاتل، وہی منصف ٹھہرے۔اس مضمون میں انہی تمام امور کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔

Read more