110 ویں یوم پیدائش :کرکٹ کی تاریخ کے عظیم الشان جز ہیں بریڈ مین 

Share Article
Bradman
آسٹریلیا کے ڈان بریڈ مین کو دنیائے کرکٹ کا عظیم ترین بلے باز مانا جاتا ہے۔ انھوں نے اپنے کریئر میں شاندار کرکٹ کھیلی اوراپنے ملک و ٹیم کے لیے کئی ایسے عظیم الشان ریکارڈ بنائے، جنھیں توڑنا تو دورکی بات ہے، ان کے قریب پہنچنا بھی موجودہ کرکٹروں کے لیے خواب جیسا لگتا ہے۔
ڈان بریڈ مین کا پورا نام سرڈونالڈ جارج بریڈ مین تھااور عرف عام میں انھیں ’دی ڈان‘ کہا جاتا تھا۔ ان کی پیدائش 27 اگست 1908 کو نیو ساؤتھ ویلز آسٹریلیا میں ہوئی تھی۔ کرکٹ کھیلنے کے شوق اور فن کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے محض 12 سال کی عمر میں سنچری بنالی تھی۔ اس میچ میں انھوں نے 125 رنوں کی پاری کھیلی تھی۔ بریڈ مین نے ٹیسٹ کرکٹ کی شروعات 30 نومبر 1928 کو انگلینڈ کی ٹیم کے خلاف کی تھی اور حسن اتفاق کہ انھوں نے اپنا آخری ٹیسٹ بھی 18 اگست 1948 کو انگلینڈ کے ہی خلاف کھیلا۔
بریڈ مین نے اپنے ٹیسٹ کریئر میں52 میچ کھیلے، جن میں 6996 رن بنائے ، ان رنوں میں ان کی 29 سنچریاں ، 13ہاف سنچریاں اور12 ڈبل سنچریاں شامل ہیں۔ ان کا بڑے سے بڑا اسکور 334 رن رہا جبکہ ٹیسٹ اوسط 99.94 ہے۔ اپنے آخری ٹیسٹ کی بیٹنگ کرنے سے قبل بریڈ مین کی بلے بازی کا اوسط 101.39تھا اور انھیں ٹیسٹ کرکٹ میں اپنا ٹیسٹ اوسط 100 رن برقر ار رکھنے کے لیے محض 4 رن بنانے تھے لیکن آخری میچ میں بریڈ مین کی قسمت نے ساتھ نہیں دیا اور وہ صفر پر آؤٹ ہوگئے، جس کے نتیجے میں ان کا ٹیسٹ اوسط 99.94 رہ گیا۔
بریڈ مین نے بچپن میں ہی کرکٹ کی بلندیوں کو چھولیا تھا۔ انھوں نے جس رن اوسط سے رن بنائے، کم میچوں میں جتنی سنچریاں اور ڈبل سنچریاں لگائیں، کیا اس طرح کے ریکارڈ توڑے جاسکتے ہیںیا ان کے قریب بھی پہنچا جاسکتا ہے۔ شاید نہیں ۔ ان کا ایک ریکارڈ تو ایسا ہے ، جسے آج کے فٹافٹ کرکٹ دور میں بھی کوئی کرکٹر توڑنے یا اس کے نزدیک پہنچنے کے بارے میں تصور بھی نہیں کر سکتا۔ذرا سوچئے کہ کیا اس فٹافٹ کرکٹ کے دور میں بھی کوئی بلے باز محض 3اووروں میں سنچری لگانے کا حوصلہ کر سکتا ہے؟ لیکن سرڈان بریڈ مین نے یہ کارنامہ1931 میں ہی انجام دے دیا تھا۔
یہ اس زمانے کی بات ہے جب ایک اوور آج کی طرح چھ گیندوں کا نہیں، آٹھ گیندوں کا ہوا کرتا تھا۔ بریڈ مین اس میچ میں وینڈل بیل کے ساتھ بلیک ہیتھ کی طرف سے بلے بازی کر رہے تھے۔ بریڈ مین نے اس میچ میں اپنے پہلے اوور میں33رن، دوسرے اوور میں 40 رن اور تیسرے اوور میں27 رن بنائے تھے۔ بریڈمین شاندار فارم میں چل رہے تھے ۔ انھوں نے اس میچ میں 256 رن بنائے تھے، جس میں 14چھکے اور 29 چوکے شامل تھے۔
بریڈ مین نے پہلی دو گیندوں پر دو چھکے، پھر ایک چوکا، دو رن، دو چوکے، ایک چھکا اور آخری گیند پر ایک رن بنایا۔اس طرح انھوں نے پہلے ہی اوور میں تین چھکوں، تین چوکوں، دو رن اور ایک رن کی مدد سے 33 رن بنائے۔ دوسرے اوور میں بریڈ مین نے چار چوکے اور چار چھکے لگاکر 40 رن بنا ڈالے۔ تیسرے اوور میں بریڈ مین کو سنچری مکمل کرنے کے لیے 27 رنوں کی ضرورت تھی اور وہ دوسرے چھور پر کھڑے تھے۔ وینڈل بیل نے ایک رن لے کر بریڈ مین کو کھیلنے کا موقع دیا اور بریڈ مین دو چھکے لگاکر پھر ایک رن کے لیے دوڑ پڑے۔اگلی گیند پر وینڈل بیل نے ایک رن لے کر اسٹرائک بریڈ مین کو دے دی۔ اب اوور کی تین گیندیں باقی تھیں اور سنچری مکمل کرنے کے لیے 14 رن درکار تھے۔ بہرحال بریڈ مین نے دوچوکے اور ایک چھکا لگاکر اپنی سنچری مکمل کرلی۔ اس اوور میں بریڈ مین نے تین چھکے اور دو چوکے لگائے۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ سنچری مکمل کرنے میں انھیں محض 18 منٹ لگے تھے اور یہ میچ کنکریٹ کی پچ پر کھیلا گیا تھا۔
یہ اس دور کی بات ہے جب فٹافٹ کرکٹ نہیں کھیلی جاتی تھی ۔ اب توٹیسٹ کے ساتھ ونڈے اور ٹی 20- جیسے فارمیٹ بھی آگئے ہیں، جنھوں نے کرکٹ کو بہت تیز کردیا ہے۔ موجودہ کرکٹ کے ابھی تک کے ریکارڈز پر غورکیا جائے تو ونڈے کرکٹ میں سب سے تیز سنچری ساؤتھ افریقہ کے اے بی ڈیولیئرز نے بنائی تھی۔ انھوں نے یہ سنچری محض 31 گیندوں میں بنائی تھی۔ اس کے علاوہ ٹی 20- میں سب سے تیز سنچری ساؤتھ افریقہ کے ڈیوڈ ملر کے نام درج ہے۔ انھوں نے یہ سنچری 35گیندوں میں بنگلہ دیش کے خلاف 2017 میں لگائی تھی جبکہ ہندوستان کے روہت شرما نے 2017 میں ہی سری لنکا کے خلاف 35 گیندوں میں لگائی تھی۔
بریڈ مین ریٹائرمنٹ کے بعد بھی 30 سال تک ایڈمنسٹریٹر ، سلیکٹر اور رائٹر کے طور پر کرکٹ کی خدمت کرتے رہے۔ ان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھیں دیکھنے کے لیے بھیڑ امنڈ پڑتی تھی۔یہ ان کی مقبولیت ہی کہی جائے گی کہ ان کی تصویر کے ساتھ ڈاک ٹکٹیں جاری ہوئیں ، سکّے بھی ڈھالے گئے اور ان کی زندگی میں ہی ان کے نام پر میوزیم بنایا گیاجبکہ 19 نومبر 2009میں انھیںآئی سی سی ہال آف فیم میں بھی شامل کر لیا گیا۔ اس طرح یہ کرکٹ کی تاریخ کے عظیم الشان جز بھی بن گئے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *