اسلام وصف اعتدال اور انتہا پسندی

Share Article

مولانا ندیم الواجدی
سعودی عرب کے مقدس شہر مدینہ منورہ سے خبر آئی ہے کہ وہاں کی مشہور اسلامی یونیورسٹی میں دہشت گردی کے موضوع پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا،اس چار روزہ کانفرنس میں دنیا بھرسے آنے والے علماء اور زعماء نے مساجد کے ائمہ اور خطباء سے کہا ہے کہ وہ اسلام کی اعتدال پسند تعلیمات عام کریں کانفرنس میں مسلم نوجوانوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ویب سائٹس کے ذریعے رواداری اور اعتدال کی اسلامی اقدار سامنے لائیں اور دوسروں کے لئے داعی کے طورپر سرگرم ہوں، اس کانفرنس میں مسلمان گھرانوں سے درخواست کی گئی ہے کہ بچوں کو افہام وتفہیم کا کلچر سکھلایا جائے تاکہ وہ دوسروں کو قبول کرسکیں، غیر مسلم ملکوں میں رہنے والے مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اسلام فہمی کے محاذ پر اعتدال پسند بنائیں۔
اس میں شک نہیں کہ اسلام ایک اعتدال پسند مذہب ہے، اور وہ تمام تعلیمات میں اپنے اس وصفِ خاص میں ممتاز نظر آتاہے، جہاں تک انتہا پسندی کا تعلق ہے اسلام اس کے دونوں جوانب کے خلاف ہے، اس انتہا پسندی کے بھی جس کے پہلو سے دہشت گردی جنم لیتی ہے، اور جہاں پہنچ کر عدل وانصال کے تمام تقاضے رخصت ہوجاتے ہیں صرف ایک جنون باقی ر جاتاہے، آج جہاں کہیں بھی دہشت گردی نظر آرہی ہے وہ اسی جنون کے مختلف مظاہر ہیں، اسلام کو وہ انتہا پسندی بھی مطلوب نہیں جو کسی فرد یا قوم کو انتہائی بزدل بنادیتی ہے اور اس میں اتنی صلاحیت یا اتنا حوصلہ اور اتنی سکت بھی باقی نہیں رہتی کہ وہ اپنا حق لے سکے یا اپنا دفاع کرسکے۔ اسلام کی اعتدال پسندی یہ ہے کہ وہ اپنی جان ومال، اور دین ووطن کے دفاع اور تحفظ کے لئے سینہ سپر رہنے کی تلقین بھی کرتا ہے اور یہ بھی چاہتا ہے کہ کسی فرد یا قوم سے کسی دوسرے فرد یا قوم کو بلا قصور کوئی تکلیف نہ پہنچے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری آسمانی دین کو جن بے شمار خصوصیات اور امتیازات سے نوازا ان میں ایک وصف ِ خاص اور ایک طرّۂ امتیاز یہ ہے کہ اس کا ہر حکم معتدل اور متوسط ہے اور افراط وتفریط سے پاک ہے۔ قرآن کریم میں ہے: ’’اور اسی طرح ہم نے تم کو متوسط اور معتدل امت بنایا ہے۔‘‘ (البقرۃ: ۱۴۲) وسط اور اعتدال دونوں کا مفہوم تقریباً ایک ہی ہے، ائمہ لغت نے وسط کے معنی لکھے ہیں  الخیار والاعتدال من کل شیٔ ’’ ہر شیٔ کا بہترین اور درمیانی حصہ وسط ہے‘‘، بعض لغویین نے وسط کی تعریف کی ہے: الخیاروا لاعلی من کل شیٔ  ہر چیز کا بہترین اور اعلی پہلووسط کہلاتاہے۔ لغت تصریحات کے مطابق اعتدال اور توسط کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ کسی چیز کے دو متضاد و بالمقابل پہلوئوں کے درمیان کا حصہ اس طرح اختیار کیا جائے کہ ان دونوں پہلوئوں میں سے ایک دوسرے پر غالب نہ آئے اور کسی بھی مرحلے میں افراط یا تفریط کا احساس نہ ہو۔
اسلام کا یہ وصف اعتدال ہمیں تمام تعلیمات میں نظر آتا ہے خواہ وہ تعلیمات عملی ہوں یا اعتقادی ہوں، خواہ ان کا تعلق عبادات سے ہو یا معاشرت سے، ہر معاملے میں اسلام یہی کہتا ہے کہ اعتدال اور میانہ روی اختیار کرو، اگر آپ تخلیقِ کائنات پر نظر ڈالیں تو ہمیں ہر چیز میں اعتدال اور توازن نظر آئے گا، مثال کے طورپر زمین کو دیکھئے کہ یہ اس قدر سخت بھی ہوسکتی تھی کہ نہ اسے کھود ا جاسکتا ، نہ اس میں کاشت کی جاسکتی ، نہ اس میں سے پانی اور دوسرے ذخائر نکالے جاسکتے ، اور اتنی نرم بھی ہوسکتی تھی کہ قدم جمانا دوبھر ہوجاتا ، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے نرمی اور سختی کے درمیان متوازن بنایا۔ اب ہم اس پر آسانی کے ساتھ چل پھر سکتے ہیں، اس کے سینے پر بڑی بڑی عمارتیں بناکر کھڑی کردیتے ہیں، دوسری طرف اس میں اتنی نرمی بھی رکھ دی کہ انسان اپنی ضرورت کی چیزیں اس سے پیدا کرسکے اور جو کچھ اللہ نے اس کے اندر ودیعت فرمادیا ہے اسے باہر نکال سکے۔ خود انسان کی تخلیق بھی اسی اعتدال اور توازن کا مظہر ہے۔ اس کے ہر ہر پہلو سے کمال اعتدال نمایاں ہے۔ ہاتھ پائوں ، آنکھ ، ناک سب اپنی اپنی جگہ متوازن ہیں، قدو قامت بھی معتدل ہے، نہ اسے انتہائی پستہ قدبنایا کہ اپنی زندگی کا بوجھ بھی نہ اٹھاسکے بلکہ خود دوسروں کے لئے بوجھ بن جائے اور نہ اتنا طویل القامت بنایا کہ چلنا پھرنا، اٹھنا بیٹھنا دوبھر ہوجائے۔اللہ کو طرح کی تخلیق پر قدرت حاصل ہے وہ کسی انسان کو انتہائی پستہ قد بھی بناسکتاہے اورا نتہائی طویل قامت بھی، لیکن اس نے عام طورپر انسان کے قد سے لے کر اس کے اعضاء بدن تک ہر چیزکو حد اعتدال میں رکھ کر یہ تعلیم دی ہے کہ خالق کائنات ہر شعبۂ زندگی میں اعتدال اور میانہ روی دیکھنا چاہتا ہے۔ ظاہری اعضاء بدن سے ہٹ کر دیکھیں، انسان کی طبیعت اور اس کا مزاج بھی معتدل بنایا گیا ہے۔ ذرا حدّ اعتدال سے انحراف ہوا جسمانی نظام میں اختلال واقع ہوا۔ میڈیکل سائنس یہ بات تسلیم کرتی ہے کہ انسان کی صحت مزاج کے اعتدال پر موقوف ہے، جب تک اس کا مزاج معتدل رہتا ہے وہ صحت مند رہتا ہے اور جوں ہی مزاج کے اعتدال میں فرق پڑتا ہے جسمانی صحت متأثر ہوجاتی ہے اور مختلف عوارض انسانی بدن کو گھیر لیتے ہیں۔ انسان کا بدن چار اخلاط خون، بلغم، سودائ، صفراء سے مرکب ہے، اسی طرح اس کے اندورنی نظام میں چار کیفیات گرمی ، سردی، خشکی اور تری کاہونا ضروری ہے، جب بھی ان چاروں اخلاط میں سے کوئی خلط یا ان چاروں کیفیات میں سے کوئی کیفیت کمی یا زیادتی کی طرف مائل ہوگی صحت کا نظام مختل ہوجائے گا۔
اگر ہم اسلام کی اعتقادی تعلیمات کی بات کریں تو ان میں بھی ہمیں یہی اعتدال اور توازن نظر آئے گا جسے امت محمدیہ کی خصوصیت قرار دیاگیا ہے۔ گزشتہ امتوں نے یہ وصف اعتدال کھودیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں اعتقاد کے باب میں افراط وتفریط کا پہلو نمایاں ہے۔ مثال کے طورپر یہودیوں اور عیسائیوں کا حال یہ تھا کہ وہ اپنے پیغمبر کے احترام میں اس قدر غلو کرنے لگے تھے کہ انھیں اللہ کا بیٹا سمجھتے تھے اور انھیں تین معبودوں میں سے ایک معبود قرار دیتے تھے۔ قرآن کریم نے ان دونوں امتوں کے اس رجحان کو اس طرح نمایاں کیا ہے:
ترجمہ: ’’ یہود کہتے ہیں کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور نصاری کہتے ہیں کہ عیسیٰ اللہ کے بیٹے ہیں‘‘۔( التوبۃ: ۳۰)
ایک طرف حددرجہ غلو اور افراط کہ اللہ کے بندوں اوراس کے بھیجے ہوئے پیغمبروں کوانھوں نے اللہ کا بیٹا بناکر انہیں مقام الوہیت پر بٹھادیا، دوسری طرف اس معاملے میں اس قدر تفریط اختیار کی گئی کہ جب ان سے کہا گیا کہ تم رسولوں کا اتنا احترام کرتے ہو تو ان کی بات کیوں نہیں مانتے؟ جب وہ تمہیں ظالموں سے جنگ کرنے کا حکم دیتے ہیں تو جواب میں تم یہ کیوں کہتے ہو؟
ترجمہ: ’’ تم اور تمہارا رب جائے اور تم دونوں جنگ کرو، ہم تو یہاں بیٹھے ہیں‘‘ ۔ ( المائدۃ: ۲۴)
امت محمدیہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام الوہیت پر فائز نہیں کیا بلکہ انھیں اللہ کا بندہ اور انسان سمجھا، لیکن اپنے پیغمبر کی عظمت اور اطاعت کو بھی فراموش نہیں کیا اور ان کی ذات پاک سے اس درجہ عشق کیا کہ جس کی نظیر انسانی تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔
عمل کے باب میں گزشتہ امتوں کے احوال پر نظر ڈالی جائے توصرف امت محمدیہ ہی جادۂ اعتدال پر کھڑ ی نظر آتی ہے،باقی امتوں کا حال یہ ہے کہ ایک طرف تو ان امتوں کے کچھ لوگ آسمانی شریعت کے خلاف صف آراء نظر آتے ہیں یہاں تک کہ انجیل اور توریت جیسی آسمانی کتابوں کے احکام میں بھی وہ چند سکوں کے عوض تبدیلی کرنے سے گریز نہیں کرتے، دوسری طرف کچھ لوگ ایسے نظر آتے ہیں جن کی نظر میں شریعت کی اتباع اور ترک دنیا دونوں لازم وملزوم ہیں۔ اسلام عبادت کی تلقین تو کرتاہے لیکن نہ اس قدر کہ آدمی عبادت کی خاطر سب کچھ چھوڑ بیٹھے۔ اس سلسلے میں وہ مشہور واقعہ پیش نظر رہنا چاہئے کہ کچھ صحابۂ کرام نے طے کیا کہ ہم دن میں مسلسل روزے رکھیں گے اوررات کو لگاتار نمازیں پڑھیںگے۔ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ میں روزے بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں۔ میں رات کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتاہوں۔ اس ارشاد مبارک کا منشاء یہی ہے کہ اسلام کو ہر معاملے میں اعتدال مطلوب ہے، آپ روزہ بھی رکھیں اور افطار کرکے اپنے جسم کو یاکیزہ وحلال غذائوں سے لطف اندوز ہو نے کا موقع بھی فراہم کریں۔ آپ نمازیں بھی پڑھیں لیکن نیند کے ذریعے اپنے بدن کو آرام بھی دیں۔
اعتدال کی یہ تعلیم ہمیں ہر جگہ ملتی ہے، حد یہ ہے کہ ایسے معاملات میں بھی جن کا تعلق کسی عقیدے یا عبادت سے نہیںہے ہم اعتدال کے ساتھ رہنے کے پابند بنائے جاتے ہیں، مال کسی بھی انسان کی اپنی پونجی ہے جسے وہ کماکر یا کسی اور ذریعے سے حاصل کرتاہے، اسے ختیار حاصل ہے کہ وہ اس مال کو جس طرح جی چاہے اور جہاں جی چاہے خرچ کرے، مگر اسلام نے بندے کو اس معاملے میں بھی آزاد نہیں چھوڑا، ایک طرف توچند شرائط کے ساتھ اس کے مال میں زکوۃ کے نام سے غریبوں کا حق متعین کرکے اس پر یہ واضح کردیا کہ اگر چہ یہ مال تمہاری ملکیت ہے، مگر تمہیںاس کا مالک اورمتصرف اللہ نے بنایاہے اس لئے ضروری ہے کہ تم اس کی مرضی کے مطابق اس میں تصرف کرو اوراس کے مالک بن کر رہو، پھر اللہ کا حق ادا کرنے کے بعد بھی تمہیں اپنے مال ودولت میں اعتدال کے ساتھ تصرف کرنا چاہئے، قرآن کریم میں ہے:
ترجمہ:  ’’اور نہ تم اپنے ہاتھ کو اپنی گردن میں باندھ لو اور نہ اسے پوری طرح کھول دو کہ حسرت زدہ اور رنجیدہ ہوکر بیٹھ جائو ‘‘۔ ( الإسرائ: ۲۹)
ہمیں اسلام کی تمام تعلیمات میں اسی حسن اعتدال کی جھلک ملتی ہے، یہاں تک کہ انتہا پسندی کے باب میں بھی اسلام اسی جادۂ اعتدال پر گامزن نظر آتاہے، آج دنیا انتہا پسندی اور اس کے پہلو سے جنم لینے والی دہشت گردی سے پریشان ہے بلا شبہ بے قصور انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارنا، اورا ن کی املاک تباہ کرنا انتہا پسندی ہے، لیکن ظلم برداشت کرنا اور حق تلفیوں پر خاموش رہنا بھی انتہا پسندی ہے۔اسلام اس کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔
جہاں تک فتنہ وفساد اور قتل ناحق کا معاملہ ہے اسلام سے زیادہ کسی بھی مذہب نے اس کی مذمت نہیں کی۔ وہ سراپا امن مذہب ہے اور ہر طرف امن وسلامتی دیکھنا چاہتا ہے۔ جہاں تک افہام وتفہیم کا تعلق ہے اسلام سے زیادہ افہام وتفہیم کا قائل بھی کوئی دوسرا مذہب نہیں ہے، نہ اس میں جبر واکراہ ہے نہ ظلم وزیادتی ہے، نہ حق تلفی اور نا انصافی ہے، بلکہ ہر معاملے میں اس کا رویہّ مصالحت آمیز اور روادارانہ ہے ۔دہشت گردی اور انتہا پسندی کی مذمت بہت ہوچکی ہے اور ہم ہر سطح پر اس کے خلاف اس قدر بیان بازیاں کرچکے ہیں کہ اب دہشت گردی اور مسلمان ہم معنی بن گئے ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دوسری اقوام کی دہشت گردانہ کاروائیوں کا تجزیہ بھی کریں اوران کے خلاف بھی آواز بلند کریں۔ محض کانفرنسوں میں مذمت کردینے سے دہشت گردی کا خاتمہ ہونے والا نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *