دیوبند میں اے ٹی ایس کی چھاپہ ماری سے دہشت

Share Article
DBD
دیوبندسے دو کشمیری نوجوانوں کی گرفتاری کے بعد لکھنؤ میں ڈی جی پی اترپردیش اوپی سنگھ نے پریس کانفرنس کرکے دعوی ٰکیاہے کہ دیوبند سے گرفتار کئے گئے شاہنواز اور عاقب احمد ملک پاکستان کی دہشت گردہ تنظیم جیش محمد سے جڑے ہوئے ہیں اوروہ یہاں رہ کر جیش محمد کی سرگرمیوں کی آگے بڑھارہے تھے۔ بتادیں جمعرات کی رات تقریباً دو بجے اترپردیش اے ٹی ایس اور پولیس نے دیوبند میں چھاپہ ماری کرتے ہوئے یہاں کے ایک پرائیویٹ ہاسٹل سے درجن بھر طلباء کو حراست میں لیا تھا، جن میں شاہنواز کلگام کشمیر اور عاقب احمد ملک پلوامہ کو دودن کی ریمانڈ پر بھیجتے ہوئے باقی لوگوں کو چھوڑ دیا۔اے ٹی ایس کی اس بڑی کارروائی کے بعد دیوبند بالخصوص طلباء میں دہشت کا ماحول ہے،اے ٹی ایس کی بڑی کارروائی کے بعد دیوبند کانام ایک مرتبہ پھر میڈیا کی سرخیوں میں آگیا۔ اس سلسلہ میں لکھنؤ میں ڈی جی پی اوپی سنگھ نے لکھنؤ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایاکہ شاہنواز اور عاقب کو پولیس و اے ٹی ایس کی مشترکہ ٹیم نے گرفتار کیاہے، ان کے پاس سے 30؍زندہ کارتوس اور ہتھیار برآمد کئے ہیں، یہ دونوں جیش محمد کی سرگرمیوں سے منسلک تھے اور یوپی میں جیش محمد سے لوگوں کو جوڑ رہے تھے، ڈی جی پی نے یہ بھی دعویٰ کیاہے کہ یہ دونوں نئے نوجوانوں کی بھرتی کے لئے دیوبند میںآئے تھے، انہوں نے بتایاکہ عاقب احمدنے کہیں داخلہ نہیں لیا تھا مگر وہ اسٹوڈینٹ کے طورپر رہ رہاتھا۔
arrested-people
ڈی جی پی نے بتایاکہ ان کے پاس سے پولیس کو جہادی چیٹ ملے ہیں اور کچھ فوٹو بھی ہیں، انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیاہے کہ ان میں ایک گرینیڈ ایکسپرٹ ہے اور ٹرینر بھی ہے، انہوں نے یہ بتایا کہ دونوں کو ٹرانزٹ ریمانڈ کے لئے لکھنؤ لایاجارہاہے ،سہارنپور کورٹ میں پیش کرکے ان کی ریمانڈ کی مانگ کی گئی تھی، تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ انہوں نے اب تک کتنے لوگوں کو جیش محمد میں بھرتی کیا ؟ انہیں فنڈنگ کہاں سے ہورہی تھی؟،ان کی آگے کی پلاننگ کیا تھی۔ ڈی جی پی نے بتایاکہ ہماری ٹیم کا یہ بڑاآپریشن ہے،سرویلانس کے ذریعہ ان پر نظر رکھی جارہی تھی، جس کے بعد دیر رات یہ کارروائی کی گئی ہے۔ڈی جی پی نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ پلوامہ دہشت گردانہ حملہ سے ان کا تعلق تھایا نہیں ،اس کا جواب جانچ کے بعد ہی دیا جاسکتاہے،ڈی جی پی نے میڈیا کوبتایا ابھی ان کے بارے میں اس سے زیادہ معلومات نہیں دی جاسکتی ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *