اے ٹی ایم سروس پر منڈلاتا خطرہ

Share Article
ATM

ملک کے تقریبا 50 فیصدی اے ٹی ایم مارچ 2019 تک بند ہوسکتے ہیں، اس میں شہری اور دہی دونوں علاقوں کے اے ٹی ایم شامل ہے، اے ٹی ایم انڈسٹری کے ادارے دی کنفڈریشن آف اے ٹی ایم انڈسٹری (CATMi) کی ایک رپورٹ میں یہ دعوی کیا گیا ہے. رپورٹ کے مطابق، اے ٹی ایم سرویس دینے والی کمپنیوں کو مارچ 2019 تک قریب 1.13 لاکھ اے ٹی ایم بند کرنے پڑ سکتے ہیں.

اس وقت ملک میں تقریبا 2 لاکھ 38 ہزار اے ٹی ایم ہیں جس سے 1 لاکھ آف سائٹ اے ٹی ایم اور 15 ہزار وائٹ لیبل اے ٹی ایم ہیں. CATMi کے مطابق، ان کو چلانے کے اقتصادی مفاد میں نہیں ہے. ادارے کے ترجمان نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو حکومت کی جن دھن یوجنا کو دھکا لگ سکتا ہے جس اے ٹی ایم سے سبسڈی نکالتے ہیں. اس سے نوٹ بندی جیسا ماحول ہوسکتا ہے۔
ظاہر ہے وقت جوں جوں آگے بڑھتا ہے لوگ ٹکنالوجی کے استعمال میں سہولت چاہتے ہیں لیکن ملک کی موجودہ حالت میں تو ایسا لگتا ہے کہ ہم جیسے جیسے آگے بڑھ رہے ہیں،ہمارے لئے نئے نئے مسائل سامنے آتے جارہے ہیں۔آج بھی ملک کے بہت سے ایسے شہر ہیں جہاں کے محلوں میں اے ٹی ایم کی زبردست کمی ہے،گاؤں کی بات تو بہت دور ہے۔ایسے میں اگلے سال تک اے ٹی ایم جو کہ اس وقت کام کررہے ہیں کا کم ہوجانا دشواریوں میں مزید اضافہ کرے گا۔اس سلسلے میں حکومت کو ابھی سے ہی دھیان دینے کی ضرورت ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *