biryani-fight
لوک سبھا انتخابی مہم اپنے عروج پر ہے اور ایسے میں تمام پارٹیوں کے لیڈر عوام کو آمادہ کرنے کے لئے بڑے بڑے وعدے کر رہیں۔ ووٹر انہیں سننے آئے اس کا بھی پورا خیال رکھا جا رہا ہے۔ کوئی اپنی ریلی میں ناچ گانا کروا رہا تو کوئی کھانے کا بہترین انتظام۔
ایسا ہی ایک انتظام کانگریس امیدوار نسیم صدیقی نے بھی کیا تھا۔ لیکن ان کے اس خاص انتظام کی وجہ سے انتخابی ریلی میں اچانک ہنگامہ اور بوال مچ گیا۔ دیکھتے دیکھتے مارپیٹ شروع ہو گئی، یہاں تک کہ لاٹھی ڈنڈے چلنے لگے۔ جس میں بہت سے کانگریس حامیوں کے زخمی ہونے کی خبر ہیں۔ لیکن اس مارپیٹ کی وجہ جو سامنے آئی واقعی حیران کرنے والی ہے۔
معاملہ یہ ہے کہ بجنور لوک سبھا سیٹ سے کانگریس امیدوار نسیم الدین صدیقی نے اپنی انتخابی ریلی میں بریانی کا انتظام کیا تھا اور اسی بریانی کوکھانے کو لے کر کانگریس کے حامی ہی آپس میں بھڑ گئے۔ کانگریس حامیوں میں گھنٹوں تک لات گھوسے اور لاٹھی اور ڈنڈے چلے۔

واقعہ تھانہ ککرولی علاقے کے گاؤں ٹنڈہیڑا کا ہے۔جہاں مولانا جمیل احمد کی رہائش گاہ پر ہی کانگریس امیدوار کی حمایت میں ایک انتخابی ریلی کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس میں بھاری بھیڑ بھی موجود تھی۔ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کی پابندی کے باوجود بھی یہاں ووٹروں کو لبھانے کے لئے کھانے کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔وہیں اجتماع ختم ہونے کے بعد بھیڑ کھانے کی طرف دوڑ پڑی۔ جس میں بریانی کھانے کو لے کر پہلے تو کارکنوں میں چھینا جھپٹی ہوئی، پھر دھکا مکی اور پھر مار پیٹ، اس کے بعد لاٹھی ڈنڈے چل پڑے۔
مگر اس درمیان کوئی بھی بیچ بچاؤ کرنے والا نہیں آیا۔یہی نہیں ہنگامہ مارپیٹ کے بعد پروگرام میں آئے لیڈر بھی اپنی اپنی گاڑی لے کر فرار ہو گئے۔کانگریس عہدیدار نے دبی زبان میں بتایا کہ جلسہ ختم ہو چکا تھا ہم وہاں سے آ گئے تھے یہ ضرور ہے کہ لوگ کھانے کی وجہ سے اور وہاں بھیڑ بھی بہت زیادہ تھی۔ وہیں اطلاع پر پولیس بھی موقع پر پہنچی۔ جہاں زخمیوں کو علاج کے لئے بھیجا گیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here