اسد الدین اویسی کو مہاگٹھ بندھن میں شامل کرنے کے حق میں ہے ہم

Share Article

 

۔پارٹی جھارکھنڈ میں 15 سیٹوں پر انتخاب لڑے گی اے جے ایس یوکے ساتھ

۔ اتحاد کو لے کر جلد ہو سکتا ہے اعلان

۔ بہار میں کوآرڈنیشن کمیٹی کے بغیر مہاگٹھبندھن نہیں

۔ سپریم کورٹ کا اجودھیا معاملے میں فیصلہ خوش آئند

گیا، ہندوستانی عوام مورچہ(ہم ) اسد الدین اویسی کے ساتھ انتخابی اتحاد کر بہار میں انتخابی میدان میں جانے کے حق میں ہے۔ وہیں، جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات میں ہم پارٹی 15 اسمبلی حلقوں سے اپنے امیدوار اتارے گی۔ سدیش مہتو کے اے جے ایس یو کے ساتھ مل کر ہم اسمبلی انتخابات میں مہاگٹھبندھن اور این ڈی اے کے خلاف عوام کے درمیان جائے گی۔ یہ بات ہم پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری اور قومی ترجمان اور جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات کے معاون انچارج دھیریندر کمار سنہا عرف دھیریندر منا نے خصوصی بات چیت میں پیر کے روز کہی۔

منا نے کہا کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی کا اپنا ایک بڑا ووٹ بینک ہے جسے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اویسی کو ساتھ میں لا کر این ڈی اے مخالف پلیٹ فارم کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔

ہم پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری منا کے مطابق پارٹی صدر سابق وزیر اعلیٰ جیتن رام مانجھی کا یہ خیال ہے کہ اویسی کو ساتھ لے کر این ڈی اے مخالف پلیٹ فارم کو مضبوط کر انتخابی میدان میں اترنا آج کی سیاسی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات کو لے کر بی جے پی کے ساتھ اے جے ایس یو کا اتحاد ابھی آخری مرحلے میں نہیں پہنچا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اے جے ایس یوکے ساتھ ہم نے انتخابی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دو دنوں کے اندر اس سلسلے میں پارٹی کے قومی پرنسپل جنرل سکریٹری سنتوش کمار سمن عرف سنتوش مانجھی اے جے ایس یوسربراہ سدیش مہتو کے ساتھ اتحاد کا باقاعدہ اعلان رانچی میں کرنے والے ہیں۔

ان سے پوچھا گیا کہ اگر بی جے پی اور اے جے ایس یو کا اتحاد ہو جاتا ہے پھر ہم کا رخ کیا ہوگا؟ منا نے کہا کہ ان حالات میں ہم کی دوستانہ جدوجہد ویسی سیٹوں پر ہوگی ، جہاں دونوں جماعتوں کے درمیان اتحاد نہیں ہو گا۔

منا نے بہار میں مہاگٹھبند ھن سے ہم کے الگ ہونے کے سوال پر کہا کہ بغیر رابطہ کمیٹی کے مہاگٹھبندھن کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے اجودھیا معاملے میں سپریم کورٹ کے حکم کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ تمام فریق عدالتی حکم سے خوش ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *