اروناچل پردیش :بی جے پی کو لگا بڑا جھٹکا، 8 وزراء اور ممبران اسمبلی کا پارٹی سے استعفیٰ

Share Article

bjp-before-assembly-electio

لوک سبھا انتخابات سے پہلے ملک بھر میں لیڈروں کاپارٹی بدلنے کی سیاست تیز ہو گئی ہے۔ اروناچل پردیش میں حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کو اسمبلی انتخابات سے پہلے اس وقت زور کا جھٹکا لگا، جب وزراء اور ممبران اسمبلی سمیت آٹھ رہنماؤں نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔ منگل کو پارٹی چھوڑ کر یہ تمام رہنما نیشنل پیپلز پارٹی (این پی پی) میں شامل ہو گئے ہیں۔

ریاست میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی طرف سے پارٹی کی ریاستی سیکرٹری جنرل جارپم گاملن، وزیر داخلہ کمار وائی، وزیر سیاحت جارکر گاملن اورکئی ممبران اسمبلی کو ٹکٹ نہ دینے کے بعد بڑے پیمانے پر پارٹی چھوڑنے کا یہ قدم سامنے آیا ہے۔

این پی پی کے سیکرٹری جنرل تھامس سنگما کا کہنا ہے، ’آٹھ وزراء اور ممبران اسمبلی کااپنی پارٹی میں خیر مقدم کرتے ہوئے مجھے خوشی ہو رہی ہے۔ این پی پی کسی کے ساتھ انتخابات میں اتحاد نہیں کرے گی۔ بی جے پی کے نظریات صحیح نہیں ہے، یہ ایک سیکولر پارٹی نہیں ہے۔‘

کانگریس کو نسل پرستی پر گھیرنے والی بی جے پی پر خاندانی سیاست کا الزام

اروناچل کے وزیر داخلہ کمار وائی نے این پی پی جوائن کرنے کے اپنے فیصلے کی معلومات دیتے ہوئے کہا، ’بی جے پی کہتی ہے کہ ان کے لئے ملک پہلے ہے، پارٹی اس کے بعد ہے اور شخصیت تیسرے نمبر پر ہے لیکن وہ خاندانی سیاست کر رہی ہے، یہ ایک سیکولر ریاست ہے لیکن بی جے پی ایک مذہب مخالف پارٹی ہے۔‘

شمال مشرق کی تمام 25 سیٹوں پر لڑے گی این پی پی

دریں اثنا، این پی پی نے شمال مشرقی ریاستوں کی تمام 25 پارلیمانی سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی نے میگھالیہ کے امیدواروں کی فہرست جاری کر دی ہے،دیگر نشستوں کی بھی فہرست جلد جاری کی جائے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *