عرش سے فرش پر مایا اور ملائم

Share Article

نوین چوہان
p-12bسولہویں لوک سبھا کے لئے ہوئے عام انتخابات کو ہندوستان کی سیاست میں کئی معنی میں یاد کیا جائے گا۔ ان میں سب سے خاص بات ہے اتر پردیش میں علاقائی پارٹیوں کاصفایا ہوجانا۔مودی نام کی سونامی کے سامنے ریاست کی علاقائی پارٹیاں ڈھیر ہو گئیں۔ سماج وادی پارٹی کے سپریمو ملائم سنگھ اور بہو جن سماج پارٹی کی سپریمو مایاوتی کی کشتی اس بار پار نہیں ہوسکی۔ سماج وادی پارٹی نے پریوار واد کے بل پر کچھ سیٹیں بچا لیں ۔لیکن مایاوتی کھاتہ بھی نہیں کھول پائیں۔ مایا وتی لوک سبھا میں صفر پر پہنچ گئیں۔ اس کے ساتھ ہی اجیت سنگھ کے راشٹریہ لوک دل کو بھی منہ کی کھانی پڑی۔ پروانچل میں بی جے پی نے ’’اپنا دل‘‘ کے ساتھ اتحاد کیا تھا، اتحاد کا فائدہ اپنا دل کو ہوا اور وہ دو سیٹوں پر جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ ان انتخابات میں بی جے پی کا ایک نیا طریقہ ، کردار اور چہرہ سامنے آیا ہے جس میں مرکز کی سیاست میں دخل اچھا خاصہ دخل رکھنے والی سماج وادی پارٹی اور بی ایس پی کا رول زیرو ہوگیا ہے۔ ۔پچھلے لوک سبھا میں بہو جن سماج پارٹی اور سماج وادی پارٹی بالترتیب 21اور 21 سیٹیں جیت کر کانگریس اور بی جے پی کے بعد تیسری سب سے بڑی سیاسی پارٹیاں تھیں۔ یو پی اے 2 سرکار باہر سے حمایت دے رہی ان دونوں پارٹیوں کے ارکان پارلیمنٹ پر ٹکی تھی۔لیکن مودی کے اچھے دن ان دونوں پارٹیوں کے لئے برے دن ثابت ہو گئے۔
انتخابی اعداد وشمار پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اتر پردیش میں برسراقتدار سماج وادی پارٹی کو ریاست میں 22.2 فیصد اور بہو جن سماج پارٹی کو 19.7 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ دونوں ہی پارٹیاں مل کر بھی بی جے پی کی برابری نہیں کر پائی۔ بی جے پی نے اترپردیش میں کل ووٹوں میں سے 43.3 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مایا وتی اپنا روایتی ووٹ اور ملائم سنگھ، یادو برادری کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ بڑے پیمانے پر مسلم ووٹ کانگریس اور ان دونوں پارٹیوں کے بیچ بٹ گیا۔ اتر پردیش میں 34 سیٹوں پر بہو جن سماج پارٹی دوسرے پائدان پر رہی۔ ملائم سنگھ کی سماج وادی پارٹی نے پانچ سیٹوں پر کامیابی حاصل کی اور 31 سیٹوں پر دوسرے پائدان پر رہی۔ پارلیمنٹ میں ان کا دائرہ خاندان تک ہی سمٹ کر رہ گیا۔ ملائم مین پوری اور اعظم گڑھ سے، بہو ڈمپل کنوج سے، بھتیجا دھرمیندر بدایون سے اور دوسرے بھتیجے اکشے فیروز آباد سے جیتنے میں کامیاب ہوئے۔ مایا وتی کا ’’ سروجن ہتائے اور سروجن مکھائے‘‘ کا نعرہ ایک بار پھر پھُس ہو گیا۔ ان کی سوشل انجینئرنگ دھری کی دھری رہ گئی۔ اتر پردیش میں 2012 کے اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کو محض 47 سیٹیں اور کل 15 فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے۔ دو سال بعد اسی بی جے پی نے امیت شاہ کی قیادت میں کرشمائی نمائش کیا اور 73 سیٹوں پر پارٹی کا پرچم لہرایا ۔ بی جے پی کے ووٹ فیصد میں 18 فیصد کا زبردست اضافہ ہوا۔ بی جے پی نے سماج وادی پارٹی اور بہو جن سماج پارٹی دونوں کے ووٹوں میںسیندھ لگائی ۔ سماج وادی پارٹی 29 فیصد سے 22 فیصد اور بہو جن سماج پارٹی 26 سے 19.7 فیصد پر آگئی۔
سماج وادی پارٹی بھتہ اور لیپ ٹاپ بانٹ کر نوجوانوں کا ووٹ پانے کی کوشش کررہی تھی۔ مودی صرف ترقی اور روزگار فراہمی کے نام پر نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ بات اتر پردیش میں ہر کوئی جانتا ہے کہ ان کی ریاست ملک کی سب سے پچھڑی ریاست میں آتی ہے ۔اس مرتبہ ووٹ بینک کی سیاست سے الگ ہوکر نوجوانوں نے ذات برادری، مذہب اور طبقے پر مبنی سیاست کو مسترد کر کے ترقی کے نام پر ووٹ دیا۔ اتر پردیس کے لاکھوں نوجوان گجرات نوکری کی تلاش میں جاتے ہیں ، وہ گجرات کی ترقی سے وہ واقف ہیں، اس لئے انہوں نے ترقی کے نام پر ووٹ دیا۔ نوجوان روزگار اپنے گھر میں چاہتے ہیں۔ اس وجہ سے اتر پردیش کی ماضی میں سرکار چلانے والی پارٹیوں کے اس مسئلے پر ناکام رہنے کے سبب بی جے پی کو ووٹ دیااور نتیجتاً اتر پردیش میں بی جے پی کی تاریخی جیت ہوئی۔
ملائم سنگھ ہر نشست میں اپنے کارکنوں سے وزیر اعظم بنانے کی اپیل کرتے اور بند اور کھلی آنکھوں سے وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھتے رہے۔ مسلمانوں کو خوش کرنے کا کارڈ کھیلتے رہے۔ دو سال پہلے اسمبلی انتخاب میں جس عوام نے سماج وادی پارٹی کو عرش پر پہنچایا ،اسی عوام نے غلط پالیسیاں اپنانے اور کھوکھلے وعدوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے انہیں فرش پر بھی پہنچا دیا۔ اتر پردیش کے نظم و نسق کا اوپر والا ہی مالک ہے۔اکھلیش یادو کی قیادت میں چل رہی سماج وادی پارٹی کی سرکار کے قیام کے بعد اتر پردیش میں 100 سے زیادہ ہوئے فرقہ وارانہ فساد اس بات کے گواہ ہیں کہ اتر پردیش میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے۔ اقتدار کے کئی مرکز ہونے کی بات بھی وقت بوقت سامنے آتی رہی ہے۔ شیو پال یادو سے لے کر اعظم خان تک سبھی اپنے اپنے طریقے سے سرکار چلاتے دکھے۔ خواتین کے ریزرویشن پر ان کی مخالفت اور پروموشن میں ریزرویشن کا ایشو بھی ان کے لئے مصیبت بن گئی، سرکاری محکموں میں کام کر رہے دلت طبقہ کے ملازموں کی مخالفت کرنے کی وجہ سے بھی انہیں نقصان پہنچا ہے۔ منظر نگر فساد میں سرکار کے کردار نے ریاست میں فرقہ وارانہ پلورائزیشن میں مدد کی جس کا سیدھا فائدہ نریندر مودی کو ملا۔ جس پچھڑے طبقے کے سہارے اب تک ملائم کی نیا پار لگتی رہی ہے، وہ ووٹ بینک بھی ان کے ہاتھ سے پھسل گیا۔ جس مسلم ووٹ کو پانے کے لئے ملائم و مایا مودی کو لگاتار فرقہ پرست بتا کر حملے کرتے رہے تھے، اس کے رد عمل کے طور پر ریاست کا ہندو سماج ذات برادری کے دائرے سے باہر نکل کر مودی اور بی جے پی کے حق میں ووٹ دیا۔
دونوں ہی پارٹیوں کو مرکز کی یو پی اے 2 سرکار کو حمایت دینے کی وجہ سے بھی نقصان ہوا ہے۔ اس کے علاوہ مہنگائی اور بد عنوانی کے نئے نئے معاملوں کے سامنے آنے کے بعد بھی دونوں ہی پارٹیوں نے مرکز ی سرکار کو حمایت دینا جاری رکھا۔ سی بی آئی کی مدد سے کانگریس دونوں ہی پارٹیوں کو نشانا بناتی رہی۔ دونوں ہی پارٹیوں کے لئے کانگریس کو حمایت دینا گلے کی ہڈی بن گئی۔ ڈوبتے جہاز میں بیٹھے دو پرندوں کی طرح اب انہیں پیر رکھنے کی جگہ نہیں مل رہی ہے۔ ہار کے بعد بہو جن سماج پارٹی نیشنل پارٹی کا درجہ بھی کھو چکی ہے ۔بہو جن سماج پارٹی نے ملک بھر میں 474 امیدوار میدان میں اتارا تھا۔ ان میں سے ایک بھی پارلیمنٹ میں نہیں پہنچ سکے۔ظاہر ہے یہ صورت ہے بی ایس پی کے لئے کسی صدمے سے کم نہیں ہے۔ایسی صورت حال میں مایا اور ملائم کو اترپردیش میں ایک بار پھر سے زمین تلاشنی ہوگی۔ اگر وہ اپنی سیاست میں بدلائو نہیں کریں گے اور روایتی سیاست کے دائرے سے باہر آکر لوگوں کے مفاد کے لئے کام نہیں کریں گے ، ان کی ملک کے سیاسی دھارے میں واپسی بے حد مشکل ہوجائے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *