50 گاؤں میں شروع ہوا مشن’دہشت گردوں کا خاتمہ‘

Share Article
demo
جموں وکشمیر:کشمیر میں دہشت گرد وارداتوں کو انجام دینے میں کشمیر کے لوکل سپورٹ کا سب سے بڑا ہاتھ ہے۔ ان ہاتھوں کو کاٹنے کے لئے اب سیکورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیاں مکمل طور پر ایکشن موڈ میں آ گئی ہیں۔جنوبی کشمیر میں دہشت گرد تنظیموں کے لئے کام کرنے والے نوجوانوں سے لے کر خواتین تک کی کنڈلی کھنگالنے میں جموں وکشمیر پولیس اور آرمی کے انٹیلی جنس ونگ کے سینئر افسروں کی ٹیم کام پر لگ گئی ہے۔
خاص طور پر،پلوامہ کے اس علاقے پر شکنجہ کسا گیا ہے، جس جگہ پر سی آر پی ایف کے قافلے پر حملہ ہوا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سری نگر سے لے کر پانپور تک نیشنل ہائی وے سے ملحقہ دیہات میں دہشت گردوں کا بڑا لوکل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ تقریباً 50 ایسے گاؤں ہیں، جہاں ان دہشت گرد تنظیموں کے لئے کام ہو رہا ہے۔دہشت گردوں نے سی آر پی ایف پر حملے کے لئے لیتھ پورا کا علاقہ منتخب کیا تھا۔ لیتھ پورا میں دہشت گردوں کیلئے کام کرنے والا بڑا گروپ فعال ہے۔ انٹیلی جنس ایجنسیاں لیتھ پورا سمیت دیگر جگہوں پر لوکل نیٹ ورک کا ریکارڈ کھنگال رہی ہیں۔ ان کے موبائل نمبر سے لے کر ان کا بیک گراؤنڈ، بینک اکاؤنٹس اور نوکری تک کا ریکارڈ دوبارہ کھنگالی جا رہی ہے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ انٹیلی جنس ونگ کے ٹاپ کے حکام کو اس کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ان میں کئی 1990 کی دہائی میں کام کر چکے ہیں۔کچھ ریٹائرافسروں کی مدد لی جا رہی ہے۔ خفیہ ایجنسیاں دہشت گردوں کے لوکل نیٹ ورک کو مکمل طور پر منہدم کرنا چاہتی ہیں کیونکہ کشمیر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کی ریڑھ کی ہڈی لوکل نیٹ ورک ہے۔
کسی پر نرمی کے موڈ میں نہیں
ذرائع کا کہنا ہے کہ علیحدگی پسندوں، سابق دہشت گردوں، اوور گراؤنڈ ورکر کے اہل خانہ، اسکول کالج میں پڑھنے والے طلبا تک کی فہرست بنائی جا رہی ہے۔ ان سب کے خلاف سختی سے کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ریاستی پولیس ان لوگوں کے خلاف بغاوت کا مضبوط کیس بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *