ارجن ایوارڈ پانے والے پانچویں مسلم کرکٹر ظہیر خان

Share Article

اے این شبلی
اور اس طرح ہندوستانی کرکٹ میں تیز گیند باز ظہیر خان کی خدمات کا اعتراف کر ہی لیا گیا۔ ظہیر خان کو کرکٹ میں ان کی گرانقدر خدمات کے لیے ارجن ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس بار جن کھلاڑیوں کو ارجن ایوارڈ سے نوازنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ان میں ظہیر خان بھی شامل ہیں۔واضح رہے کہ ہندوستان میں ایک وقت کھیلوں کے شعبہ میں دیا جانے والا ارجن ایوارڈ سب سے بڑا ایوارڈ تسلیم کیا جاتا تھا۔اب جب سے راجیو گاندھی کھیل رتن کی شروعات ہوئی ہے تب سے یہ ہندوستان میں کھیلوں کے شعبہ میں دیا جانے والا دوسرا سب سے بڑا ایوارڈ ہے۔ارجن ایوارڈ کی شروعات 1961میں ہوئی تھی۔تب سے لے کر اب تک متعدد کھلاڑیوں کو اس ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے، جن میں ظہیر خان کو شامل کرلیں تو یہ ایوارڈ اب تک 44کرکٹ کھلاڑیوں کو ملا ہے۔جہاں تک مسلمان کھلاڑیوں کا تعلق ہے تو اب تک30مسلم کھلاڑی اس ایوارڈ سے نوازے جا چکے ہیںاور جہاں تک مسلم کرکٹروں کا سوال ہے تو ظہیر خان ایسے پانچویں مسلم کرکٹر ہوں گے جنہیں اس ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔ہر سال یہ ایوارڈ29اگست کو نیشنل اسپورٹس ڈے کے موقع پر صدرِ جمہوریۂ ہند کے ہاتھوں دیا جاتا ہے۔
7اکتوبر1978کو کو مہاراشٹر کے احمد نگر ضلع میں پیدا ہونے والے ظہیر خان نے اپنے انٹرنیشنل کیریر کا آغاز2000میں کیا۔لگ بھگ گیارہ سالوں سے قومی ٹیم میں اپنی خدمات انجام دے رہے ظہیر زخمی ہونے کے سبب بار بار ٹیم سے باہر بھی ہوتے رہے۔اس کے باوجود وہ فی الحال ہندوستان کے نمبر ایک گیند باز ہیں۔کرکٹ ماہرین کہتے ہیں کہ ظہیر خان اگر بار بار زخمی ہوکر ٹیم سے باہر نہیں ہوتے تو انہیں ہندوستان کا اب تک کا بہترین کھلاڑی ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا۔ابھی حال ہی میں ہندوستان اور انگلینڈ کے درمیان لارڈس کے پہلے ٹسٹ کی پہلی اننگ میں ظہیر خان نے جو شاندار گیند بازی کی وہ سب نے دیکھی۔ا ن کی شاندار گیند بازی سے جہاں ہندوستان اچھی پوزیشن میں تھا وہیں ان کے زخمی ہونے کی وجہ سے اچانک خراب پوزیشن میں پہنچ گیا۔
ظہیر خان نے پہلا ٹسٹ نومبر2000میں بنگلہ دیش کے خلاف ڈھاکہ میں کھیلا۔ تب سے لے کر اب تک انہوں نے کل ملا کر 78ٹسٹ کھیلے ہیںاور 103 اننگوں میں 1045رن بنائے ہیں۔انہوں نے 271وکٹیں حاصل کی ہیں۔کئی مواقع پر انہوں نے شاندار بلے بازی بھی کی۔2004میں بنگلہ دیش کے خلاف تو انہوں نے کمال ہی کر دیا۔اس ٹسٹ میں گیارہویں نمبر پر بلے بازی کرتے ہوئے انہوں نے75رن بنائے۔یہ گیارہویں نمبر پر کسی بھی بلے باز کا سب سے بڑا اسکور ہے۔اپنی اس اننگ کے دوران انہوں نے ماسٹر بلاسٹر سچن تندولکر کے ساتھ133رنوںکی شراکت بھی کی۔یہ ہندوستان کی طرف سے دسویں وکٹ کے لیے سب سے بڑی شراکت کا ریکارڈ بھی ہے۔
ظہیر نے پہلا ون ڈے میچ کینا کے خلاف نیروبی میں 3اکتوبر2000کو کھیلا۔ تب سے لے کر ا ب تک انہوں نے کل ملا کر 191ون ڈے میچ کھیلے ہیں جن میں انہوں نے 273وکٹیں حاصل کی ہیں اور ایک بلے باز کے طور پر 781رن بنائے ہیں۔اب جبکہ ظہیر کی خدمات کا اعتراف کر کے انہیں ارجن ایوارڈ سے نوازنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو ایسی امید کی جاسکتی ہے کہ ایوارڈ ملنے سے ان کا حوصلہ بڑھے گا اور وہ مزید بہتر کریں گے۔
ارجن ایوارڈ حاصل کرنے والے سب سے پہلے مسلم کرکٹر سلیم درانی تھے۔ شائقین کے مطالبے پر چھکا لگانے کی صلاحیت رکھنے والے سلیم درانی کو 1961 میں یعنی پہلے سال ہی ارجن ایوارڈ کے لیے منتخب کر لیا گیا۔سلیم عزیز درانی 11 دسمبر1934کو کابل میں پیدا ہوئے۔انہوں نے اپنا پہلا ٹسٹ جنوری 1960 میں آسٹریلیا کے خلاف ممبئی میں کھیلا۔ کل ملا کر انہیں29ٹسٹ میچ کھیلنے کا موقع ملا جن میں انہوں نے ایک سنچری اور سات نصف سنچریوں کی مدد سے 1202رن بنائے۔ انہوں نے واحد سنچری ویسٹ انڈیز کے خلاف1962میں بنائی۔سلیم درانی نے بطور ایک گیند باز 75وکٹیں بھی حاصل کیں جن میں تین بار انہوں نے ایک اننگ میں پانچ یا اس سے زائد وکٹ حاصل کیے۔درانی شائقین میں کتنے مقبول تھے اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک بار کانپور ٹسٹ کے دوران انہیں ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا تو بہت سے ناراض مداحوں نے ’درانی نہیں تو ٹسٹ نہیں‘ کا نعرہ لگایا اور ہاتھوں میں پوسٹر دکھائے۔
منصور علی خان پٹودی ارجن ایوارڈ حاصل کرنے والے دوسرے مسلم کرکٹر تھے۔ انہیں 1964میں اس اعزاز سے نوازا گیا۔5جنوری1941کو بھوپال میں پیدا ہونے والے نواب پٹودی کے والد بھی ہندوستان کی طرف سے کرکٹ کھیل چکے ہیں۔انہوں نے اپنا پہلا ٹسٹ انگلینڈ کے خلاف دہلی میں دسمبر1961میں کھیلا۔ اس کے بعد انہیں کل ملا کر46ٹسٹ میچ کھیلنے کا موقع ملا۔کمال کی بات یہ ہے کہ ان 46ٹسٹ میچوں میں سے انہوں نے 40میں کپتانی کی۔ اپنے 46 ٹسٹ کے کریر میں انہوں نے 6سنچری اور16نصف سنچریوں کی مدد سے 2793 رن بنائے۔ انہوں نے ایک مرتبہ203رن کی اننگ بھی کھیلی۔1967میں انہیں پدم شری سے بھی نوازا گیا۔
سید مصطفی حسین کرمانی ارجن ایوار ڈحاصل کرنے والے تیسرے مسلم کھلاڑی تھے۔ انہیں یہ اعزاز 1980-81میں ملا۔سید کرمانی کو ہندوستان کا اب تک کا بہترین وکٹ کیپر تسلیم کیا جاتا ہے۔ان کے نام ابھی تک سب سے زیادہ کیچ لپکنے کا ہندوستانی ریکارڈ تھا جسے حال ہی میں انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹسٹ کے دوران موجودہ کپتان اور وکٹ کیپر مہندر سنگھ دھونی نے توڑا۔ کرمانی 29 دسمبر 1949 کو مدراس میں پیدا ہوئے۔انہوں نے اپنا پہلا ٹسٹ جنوری1976میں نیوزی لینڈ کے خلاف آکلینڈ میں کھیلا۔کل ملا کر انہوں نے88ٹسٹ میچ کھیلے جن میں انہوں نے دو سنچری اور بارہ نصف سنچریوں کی مدد سے 2759رن بنائے۔انہوں نے ایک وکٹ کیپر کے طور پر160کھلاڑیوں کو کیچ کیا اور 38 کو اسٹمپ آؤٹ کیا۔کرمانی نے49ون ڈے میچ بھی کھیلے جن میں انہوں نے 373 رن بنائے۔1983کے عالمی کپ کی تاریخی جیت میں کرمانی کا اہم رول رہا۔
ہندوستان کے کامیاب کپتانوں میں سے ایک اور، اب سیاست داں محمد اظہرالدین ارجن ایوارڈ حاصل کرنے والے چوتھے مسلمان کرکٹر تھے۔اظہر کو 1986میں اس اعزاز سے نوازا گیا۔اظہر کا شمار ہندوستان کے کامیاب کپتانوں میں ہوتا ہے۔انہوں نے ایک بلے باز کے طور پر بھی کافی نام کمایا۔ماہرین کہتے ہیں کہ اظہر جیسے اسٹائلش بلے باز ہندوستان میں بہت کم دیکھنے کو ملے۔ 8 فروری 1963کو حیدرآباد میں پیدا ہونے والے اظہر نے اپنا پہلا ٹسٹ 1984-85 میں کولکاتا میں انگلینڈ کے خلاف کھیلا۔پہلے ہی ٹسٹ میں انہوں نے شاندار سنچری بنائی۔کمال تو یہ ہوا کہ انہوں اگلے دو ٹسٹ میں بھی سنچری بنائی۔اس طرح انہوں اپنے پہلے تین ٹسٹ میں سنچری بنائی جو کہ آج بھی ایک عالمی ریکارڈ ہے۔اظہر نے کل ملا کر99ٹسٹ میچ کھیلے جن میں انہوں نے 22سنچری اور 21 نصف سنچریوں کی مدد سے 6215رن بنائے۔اپنا پہلا ون ڈے میچ انگلینڈ کے خلاف20جنوری1985کو کھیلنے کے بعد اظہر نے کل ملا کر 334ون ڈے میچ کھیلے جن میں انہوں نے کل ملا کر سات سنچری اور58نصف سنچری کی مدد سے 9378رن بنائے۔اظہر کے علاوہ ان کے چاہنے والوں کی بھی یہ خواہش تھی کہ وہ کم سے کم اپنے ٹسٹ میچوں کی سنچری مکمل کر لیں مگر میچ فکسنگ میں نام آ جانے کے بعد ان کا کریر برباد ہو گیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *