ارے ! میں نتن گڈکری ہوں

Share Article

موقع تھا بی جے پی کے سب سے سینئر لیڈر اور ملک کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی جی کے یوم پیدائش کا۔اور مبارکباد دینے کے لئے ملک کے اہم لیڈر بھی موجود تھے۔اس مخصوص موقع پر انوپ جلوٹا سبھی کو بھجن اور غزلیں سنارہےتھے۔سامنے صوفے پر لال کرشن اڈوانی اور بہار کے آزاد ممبر پارلیمنٹ دگوجے سنگھ بیٹھے تھے ۔صوفے پر تیسرے شخص کی جگہ خالی تھی۔اس خالی جگہ کے بعد والے صوفے پر ارون جیٹلی بیٹھے تھے۔اسی درمیان اچانک ایک شخص کی آمد ہوئی۔اس نے پہلے لال کرشن اڈوانی کو پرنام کیا، پھر دگوجے سنگھ کو آداب کر کے وہ خالی جگہ پر بیٹھ گیا۔ اس کے بعد گفتگو شروع ہوئی۔ تھوڑی دیر بعد اس شخص نے دگوجے سنگھ سے کہا، آپ نے مجھے نہیں پہچانا؟دگوجے سنگھ نے کہا ، جی، میں آپ کو نہیں پہچان سکا۔تب اس شخص نے کہا، میں آپ سے چار پانچ بار مل چکا ہوں۔میری آپ سے اس وقت ملاقات ہوئی تھی، جب آپ وزیر ہوا کرتے تھے۔ اس کے بعد بھی جب دگوجے سنگھ نے یہ کہا کہ میں آپ کو نہیں پہچان سکا تو اس شخص نے کہا،ارےمیں نتن گڈکری ہوں۔
جب یہ باتیں ہو رہی تھیں، اس وقت لال کرشن اڈوانی اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر افسوس ظاہر کر رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد نتن گڈکری وہاں سے اٹھے اور انھوں نے تقریب میں موجود تمام لوگوں کے پاس جا کر ان سے ملنا شروع کیا۔ تب دگوجے سنگھ نے ارون جیٹلی سے کہا کہ آپ لوگوںنے کیسا صدر منتخب کیا ہے۔اس بات سے ارون جیٹلی بھی حیران ہو گئے۔انھوں نے دگوجے سنگھ سے کہا کہ اب دیکھئے، جسے آپ نہیں پہچان سکے اسے عوام کیسے پہنچانے گی، لیکن ہم کیا کر سکتے ہیں۔اس پوری بھیڑ میں ایسا لگ رہا تھا کہ تمام لیڈر ایک طرف ہیںاور ان کے درمیان کوئی کارپوریٹ کلچر میں پلا بڑھا مارکیٹنگ کرنے والا شخص گھوم گھوم کر سب کو سلام کر رہا ہے۔ہو سکتا ہے کچھ لوگوں کو یہ لگے کہ نتن گڈکری سیدھے سادے انسان ہیں، اچھے انسان ہیں، اس لئے وہ گھوم گھوم کر لوگوں سے مل رہے ہیں۔یہ ایک سیدھے سادے انسان کی خاصیت ہو سکتی ہے لیکن ایک قومی لیڈر ہونے کی علامت قطعی نہیں۔
نتن گڈکری کے سامنے بے پناہ مسائل اورچیلنج ہیں، ملک کی اہم حزب اختلاف پارٹی کا صدر ہونا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ان کے کندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے۔جمہوریت میں مخالف پارٹی کے لیڈر کی ذمہ داری برسر اقتدار پارٹی سے کئی معنوں میں کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ اگراپوزیشن کا یہ کندھا کمزور ہو تو ملک کی سیاست پر اس کا پورا اثر پڑتا ہے۔ ایسے شخص کے پاس برسر اقتدار پارٹی کو صیح راہ دکھانے کی اہلیت اور شخصیت دونوں کا ہونا لازمی ہے۔ راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ انہیں بی جے پی کا ،اپنی مرضی سے منتخب کیا ہواصدر بنا تو سکتاہے، لیکن انہیں قومی لیڈروںکی قطار میں کھڑے ہونے کا شرف نہیں دلا سکتا۔ لگتاہے، نتن گڈکری کو سب سے پہلے اپنی شناخت کی لڑائی لڑنی ہوگی۔بی جے پی خود اس وقت اپنی شناخت قائم کرنے کے مسائل سے نبرد آزما ہے ۔
و ہ پارٹی کی قیادت اور اپنی شناخت کے بارے میں کچھ طے نہیں کر پا رہی ہے۔ ایسی حالت میں راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ نے ایک ایسے شخص کو پارٹی کا صدر بنا دیا، جس کی شناخت قومی سطح پر بالکل نہیں ہے۔ایسی شخصیت کو صدر بنانے کا نقصان بی جے پی جھیل رہی ہے۔تمسخر یہ ہے کہ گزشتہ کچھ سالوں سے بی جے پی اپنی شناخت کے سبب ہی بحران کا شکار ہے۔ اب ایسے نازک موڑ پر نیا صدر ملا ہے، جس کی خود کی کوئی پہچان نہیں ہے۔ نئے صدر کی پریشانی دوگنی ہے۔ ایک تو انہیں پارٹی کے اندر اپنی پہچان بنانی ہے، خود کو پارٹی کا لیڈر ثابت کرنا ہے اور دوسری یہ کہ انہیں پارٹی کے باہر بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ بی جے پی کی قیادت کرتے ہیں۔نتن گڈکری کو خود کی پہچان بنانے اور قومی سطح کا لیڈر ثابت کرنے میں کافی وقت لگ رہاہے۔ابھی تک انھوں نے کوئی بڑا جلسہ یا جلوس نکال کر اپنی صلاحیت کو ثابت نہیں کیا ہے۔نتن گڈکری نے اب تک یہ بھی خلاصہ نہیں کیا ہے کہ راہل گاندھی کے جواب میں ان کی کیا حکمت عملی ہے۔ ان کی پارٹی نوجوانوں کو جوڑنے کے لئے کون سی حکمت عملی اپنائےگی ؟دیہی رائے دہندگان تک پہنچنے کے لئے پارٹی کیا کرنے والی ہے، اس کا بھی خلاصہ نہیںہے۔ نتن گڈکری جب سے صدر بنے ہیں، تب سے انھوں نے ٹی وی چینلوں کے ذریعہ ہی اپنے کارکنان اور حامیوں تک پہنچنے کی کوشش کی ہے۔ میڈیا کے ذریعہ سیاست کرنے کا خمیازہ بی جے پی بہت ادا کر چکی ہے۔نئے صدر کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ملک میں کامیاب سیاست کرنے کے لئے ٹی وی چینلوں کے اسٹوڈیوں کے بجائے عوام کے درمیان جانے کی ضرورت ہے۔
بی جے پی کے سینئر لیڈر تماشبین بن کر نئے صدر کی سرگرمیوں کو دیکھ رہے ہیں۔ نئے صدر کچھ نہیں کر رہے ہیں، اس لئے سب کچھ خاموش خاموش لگ رہا ہے،کوئی ہلچل ان کی پارٹی میں نظر نہیں آرہی ہے ۔ایک عجیب سکو ت سا طاری ہے جبکہ نتن گڈکری کو بطور صدر ایک منتشر ہوتی پارٹی کو متحد کرنا اور اسے آئندہ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کے مد مقابل کھڑا ہونے کے لائق بنانا ہے۔پارٹی کے صدر کے ایجنڈے میںآئندہ انتخابات میں بر سر اقتدار پارٹی کو شکست دینا بھی ہونا چاہئے ۔ بی جے پی کے کمزور ہونے کی اہم وجہ مایوس کارکنان، حامیوں کا پارٹی سے کھویا اعتماد اور غیر عوامی حمایت والے لیڈر ہیں۔ نتن گڈکری نے اب تک ایک بھی ایسا کام نہیں کیا ہے، جس سے کہ پارٹی کارکنان کا حوصلہ بڑھے یا حامیوں کا یقین پھر سے جیتا جا سکے۔ نتن گڈکری کے رویہ اور سلوک سے ایسے کوئی اشارات بھی نہیں مل رہے ہیں۔بی جے پی کے صدر دفتر میں مایوسیاں بڑھنے لگی ہیں۔اب تو لوگ یہ کہنے لگے ہیں نتن گڈکری کے آنے کے بعد بھی پارٹی کے کام کرنے کے طریقہ میں کوئی خاصی تبدیلی نہیں ہوئی ہے پہلے سے چل رہی گروہ بندی میں ایک اور نیا گروپ پیدا ہو گیا ہے۔ تبدیلی صرف اتنی ہوئی ہے کہ پارٹی کے اعلیٰ عہدہ پرراشٹریہ سوئم سیوک سنگھ نے اپنا نمائندہ بیٹھا دیا۔ پارٹی کے کئی پرانے کارکنان اب یہ کہنے لگے ہیں کہ اگر نتن گڈکری اسی طرح ایک دو ماہ تک خاموش بیٹھے رہے یا پھر پارٹی کے ضروری اور اہم کاموں کو ٹالتے رہے تو قومی صدر کی کی کرسی کے لئے وہ بونے ثابت ہوں گے۔
بی جے پی اور نتن گڈکری اس وقت اگنی پتھ پر چل رہے ہیں۔ یہ وقت ان کے لئے ”اگنی پرکشا“کا ہے۔ گڈکری کو اپنی شخصیت کے ساتھ ساتھ پارٹی کو مضبوط کرنا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ پارٹی کے کارکنان، حامیوں اور لیڈروں کا صبر و حوصلہ ختم ہو رہا ہے۔ نتن گڈکری کے پاس اب خود کو ثابت کرنے کے لئے زیادہ وقت نہیں ہے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *