اقلیتوں پر کہاں خرچ ہو رہے ہیں پیسے، نتیش حکومت بتانے میں ناکام

Share Article

اشرف استھانوی 
بہار کی نتیش حکومت بھلے ہی ’نیائے‘ کے ساتھ ’وِکاس‘ یعنی انصاف کے ساتھ ترقی کے نام پر ہر فرقہ اور طبقہ کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرانے اور ریاست کی مربوط ترقی کے لیے سب کو ساتھ لے کر چلنے کا دعویٰ کرتے ہوئے نہیں تھکتی ہو، مگر اپوزیشن اور مسلم فلاحی تنظیموں کے علاوہ ذمہ دار اور سیکولر میڈیا کی طرف سے حکومت کے اس دعوے کو لگاتار چیلنج کیا جا تا رہا ہے اور حقائق و اعداد و شمار کا آئینہ دکھا کر، خاص کر اقلیتی فلاح کے محاذ پر حکومت کے جھوٹے دعووں کو بے نقاب کرنے کوشش کی جاتی رہی ہے۔ ان کوششوں کو اب مرکزی حکومت کی وزارت اقلیتی امور نے بھی یہ کہہ کر تقویت پہنچائی ہے کہ نتیش حکومت ریاست کے سات مسلم اکثریتی اضلاع میں اقلیتوں کے لیے چلائی جا رہی خصوصی فلاحی اسکیم (ایم ایس ڈی پی) کے نفاذ میں بالکل دلچسپی نہیں لے رہی ہے او راس کام کے لیے مرکز کی طرف سے فراہم کی گئی رقم کا استعمال تک نہیں کر پا رہی ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ مرکز کی طرف سے بار بار کی یاد دہانیوں کے باوجود ریاستی حکومت نے اب تک گزشتہ کئی برسوں کے دوران اس مد میں فراہم کی گئی رقم کا یوٹی لائزیشن سرٹیفکیٹ بھی نہیں فرائم کرایا ہے اور نہ ہی اس نے بارہویں پنج سالہ منصوبہ کے لیے ایم ایس ڈی پی کے لیے نئے پلان کا پروپوزل بھیجا ہے۔
نتیش حکومت کی اس کمزوری کا خلاصہ مرکزی وزارت اقلیتی امور کی کمان کے رحمان خان کو سونپے جانے کے بعد محکمہ کے کام میں آئی تیزی اور اس کے نتیجے میں محکمہ کی طرف سے کی گئی مراسلت اور نتیش حکومت کو بھیجے گئے ریمائنڈر سے ہوتا ہے۔ مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کے رحمان خان نے وزیر اعلیٰ بہارکے نام اپنے مکتوب میں ان کی توجہ بہار کے سات مسلم اکثریتی اضلاع میں مرکز کے ایم ایس ڈی پی پروگرام کے نفاذ کی طرف مبذول کراتے ہوئے متعلقہ وزارت کی طرف سے گزشتہ سال 27 جولائی کو بہار کے اس وقت کے چیف سکریٹری نتن کمار کو بھیجے گئے اس مکتوب پر دھیان دینے کے لیے کہا ہے، جس میں حکومت بہار سے ایم ایس ڈی پی پروگرام کے لیے 340 کروڑ روپے کے برابر نئے پلان کی تجویز جلد از جلد مرکز کو ارسال کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب نتیش حکومت مرکزی اقلیتی فلاحی منصوبوں کا نفاذ نہیں کر پا رہی ہے، جس میں سب کچھ مرکز کا ہے، تو وہ اپنے وسائل سے اقلیتی فلاحی پروگرام کیسے کامیابی کے ساتھ چلا سکتی ہے، کیوں کہ اس میںرقم بھی ریاستی حکومت کو ہی لگانا ہوگا۔ ریاستی حکومت صرف مرکزی اسکیموں کا ہی نفاذ ایمانداری سے کر دے تو اقلیتی فلاح کے کافی کام ہو سکتے ہیں، مگر آنگن باڑی مرکز ہوں، اندرا آواس ہوں، لال کارڈ اور انتودیہ یوجنا یا بی پی ایل کے فوائد ہوں، سب سے مسلمان محروم ہیں۔ ریاستی حکومت بی پی ایل کی فہرست بڑھانے کی بات کرتی ہے، مگر اس میں مسلمانوں کی نمائندگی نہیں بڑھتی ہے، حالانکہ مسلمان بڑی تعداد میں غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، مگر ہر سروے کے بعد مسلمان آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں آپاتے۔

اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ فی الوقت مرکزی وزارت اقلیتی امور نے ملک کے جن 90 اقلیتی اکثریتی اضلاع (MCDs ) میں اقلیتوں کی فلاح کے لیے ایم ایس ڈی پی پروگرام چلایا ہے، اُن میں سے 7 اضلاع بہار کے حصے میں آئے ہیں۔ ان سات اضلاع میں اس پروگرام کے نفاذ میں گیارہویں پنج سالہ منصوبہ کے دوران 523 کروڑ روپے مرکز کی طرف سے ریاستی حکومت کو مہیا کرائے گئے تھے۔ ریاستی حکومت کو نہ صرف اس پروگرام کے ایماندارانہ نفاذ کو یقینی بنانا تھا، بلکہ مرکزی فنڈ کے استعمال کے بعد اس کا یوٹی لائزیشن سرٹیفکیٹ بھی مرکز کو مہیا کرانا تھا۔ اس کے علاوہ بارہویں پنج سالہ منصوبہ کے لیے بہار سمیت تمام متعلقہ ریاستوں سے گیارہویں پنج سالہ منصوبہ میں مہیا کرائی گئی رقم کے 65 فیصد کے برابر نئے پلان کی تجویز بھی مرکز کو بھیجنے کے لیے کہا گیا تھا۔ بہار کو چونکہ گیارہویں پنج سالہ منصوبہ کے دوران 523 کروڑ روپے مہیا کرائے گئے تھے، اس لیے اس کے 65 فیصد، یعنی 340 کروڑ کے نئے پلان کی تجویز مرکز کو بھیجنی تھی۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے 27 جولائی 2012 کو محکمہ کے جوائنٹ سکریٹری وائی پی سنگھ کی طرف سے Do لیٹر بھیجا گیا تھا۔ یہ مکتوب بہار کے چیف سکریٹری ( ریٹائرڈ) نتن کمار کے نام تھا اوراس کی کاپیاں محکمہ اقلیتی فلاح کے سکریٹری اور وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سکریٹری کو ارسال کی گئی تھیں۔ اس مکتوب کے توسط سے ریاستی حکومت کو 114.8 کروڑ روپے کے یوٹی لائزیشن سرٹیفکیٹ پیش کرنے کے لیے بھی کہا گیا تھا۔ اسی پر بس نہیں، بلکہ اس مکتوب کے بعد 16 اگست 2012 کو ریاستو ں کے سکریٹریز کی میٹنگ میں انہیں جلد از جلد نئے پنج سالہ منصوبہ کے لیے نئے پلان کی تجویز مرکز کو ارسال کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ اس کے بعد بھی مرکز کی طرف سے کئی یاد دہانیاں کرائی گئیں، مگر ریاستی حکومت نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا تو سابقہ مراسلت کا حوالہ دیتے ہوئے اقلیتی امور کے نئے وزیر کے رحمان کو براہِ راست وزیر اعلیٰ بہار کو خط لکھنا پڑا۔ نتیش کمار ویسے تو مرکز سے خط و کتابت کے معاملے میں کافی آگے رہتے ہیں اور کسی نہ کسی بہانے مختلف مرکزی وزارتوں کے علاوہ فنانس کمیشن اور منصوبہ بندی کمیشن سے بھی مراسلت کرتے رہتے ہیں، لیکن اقلیتی فلاح کا معاملہ ہو تو بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود وہ قلم اٹھانے کی زحمت نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی ان کے افسران اس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اقلیتی محاذ پر کس حد تک ایماندار ہے۔
مرکزی وزارت اقلیتی امور کے جوائنٹ سکریٹری مسٹر وائی پی سنگھ کا وہ مکتوب اب بھی جواب طلب ہے، جو انہوں نے گزشتہ 15 نومبر 2012 کو محکمہ اقلیتی فلاح بہار کے پرنسپل سکریٹری عامر سبحانی کو بھیجا تھا۔ اس مکتوب میں ایم ایس ڈی پی پروگرام کے تحت مالی سال 2010-11 کے دوران فراہم کی گئی رقم کے یوٹی لائزیشن سرٹیفکیٹ، جو یکم اپریل 2012 کو مرکز کو فراہم کر دیا جانا تھا، کو جلد از جلد مہیا کرائے جانے کے لیے کہا گیا تھا۔ اس خط سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت بہار نے اس سے قبل کے برسوں، یعنی 2008-09 اور 2009-10 کے دوران فراہم کی گئی پہلی اور دوسری قسط کی رقم کے استعمال کے سرٹیفکیٹ بھی مہیا نہیں کرائے ہیں۔ مکتوب میں درج تفصیل کے مطابق مالی سال 2008-09 کے لیے 462 لاکھ، 2009-10 کے لیے 1494.87 لاکھ اور 2010-11 کے لیے 2266.23 لاکھ روپے کے استعمال کی سند 30 نومبر 2012 تک مہیا کرا دینے کے لیے کہا گیا تھا۔
مکتوب کے ساتھ ان تمام پروگراموں کی فہرست بھی بھیجی گئی ہے، جس کے لیے یوٹی لائزیشن سرٹیفکیٹ مطلوب ہیں۔ اس میں وہ ساری تفصیلات موجود ہیں کہ کس ضلع میں کس کام کے لیے کس تاریخ کو کتنی رقم فراہم کی گئی تھی۔ سال 2008-09 کے دوران، 12 فروری 2009 کو کٹیہار ضلع میں آنگن باڑی مراکز کی تعمیر کے لیے 462 لاکھ روپے مہیا کرائے گئے تھے۔ اس رقم کے استعمال کی سند مہیا نہیں کرائی گئی ہے۔ اسی طرح مالی سال 2009-10 کے دوران ارریہ ضلع میں پرائمری ہیلتھ سنٹر کو اَپ گریڈ کرنے کے لیے 68 لاکھ روپے، اسی ضلع میں 500 موجودہ پرائمری اسکولوں کے لیے فرنیچر کی خریداری کے لیے 121.87 لاکھ روپے اور دربھنگہ ضلع میں دوسرے مرحلہ میں آنگن باڑی مراکز کی تعمیر کے لیے 747 لاکھ روپے، 21 دسمبر 2009 کو مہیا کرائے گئے تھے، مگر ان میں سے کسی کے لیے یوٹی لائزیشن سرٹیفکیٹ مہیا نہیں کرائے گئے۔ اسی مالی سال 2010-11 کے دوران پورنیہ ضلع میں آنگن باڑی مراکز کی تعمیر کے لیے 184.07 لاکھ اور گرلس ہاسٹل کی تعمیر کے لیے 147.06 لاکھ روپے، 31 مارچ 2011 کو مہیا کرائے گئے تھے۔ اس کے لیے بھی سند استعمال اب تک مہیا نہیں کرائی گئی۔ اسی سال کے دوران ارریہ ضلع میں آنگن باڑی مراکز کی تعمیر کے لیے 242 لاکھ، ہائی اسکول میں ہاسٹل کی تعمیر کے لیے 136.57 لاکھ روپے اور آئی ٹی آئی فاربس گنج میں 152 بیڈ والے گرلس ہاسٹل کی تعمیر کے لیے 147.06 لاکھ روپے بھی، 31 مارچ 2011 کو مہیا کرائے گئے، مگر ایسا لگتا ہے کہ ان رقوم کا استعمال ابھی تک نہیں ہوسکا، کیوں کہ بار بار کی یاد دہانیوں کے باوجود حکومت ان کے سلسلے میں سند استعمال مہیا نہیں کرا سکی ہے۔ دربھنگہ میں آنگن باڑی مراکز کی تعمیر کے لیے 29 دسمبر 2010 کو 139.5 لاکھ کی جو رقم مہیا کرائی گئی یا کٹیہار ضلع میں اسی کام کے لیے 269.85 لاکھ روپے، جو 31 مارچ 2011 کو فراہم کرائے گئے، وہ بھی شاید استعمال نہیں ہو سکے، کیوں کہ مرکز کو ان کے استعمال کا ثبوت بھی اب تک نہیں ملا ہے۔ نئے پنج سالہ منصوبہ کے لیے 340 کروڑ روپے کی نئی تجویز بھیجنے کی مدت مرکز نے اب حالانکہ بڑھا کر 31 مارچ 2013 کردی ہے، لیکن اس میں ہو رہی تاخیر کی وجہ بھی شاید یہی ہے کہ جب پہلے منصوبہ پر عمل ہی نہیں ہو سکا اور جو رقم مرکز نے مہیا کرائی تھی، اس کا استعمال نہیں ہو سکا ہے، تو نئی تجویز کیا بھیجی جائے؟
اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب نتیش حکومت مرکزی اقلیتی فلاحی منصوبوں کا نفاذ نہیں کر پا رہی ہے، جس میں سب کچھ مرکز کا ہے، تو وہ اپنے وسائل سے اقلیتی فلاحی پروگرام کیسے کامیابی کے ساتھ چلا سکتی ہے، کیوں کہ اس میںرقم بھی ریاستی حکومت کو ہی لگانا ہوگا۔ ریاستی حکومت صرف مرکزی اسکیموں کا ہی نفاذ ایمانداری سے کر دے تو اقلیتی فلاح کے کافی کام ہو سکتے ہیں، مگر آنگن باڑی مرکز ہوں، اندرا آواس ہوں، لال کارڈ اور انتودیہ یوجنا یا بی پی ایل کے فوائد ہوں، سب سے مسلمان محروم ہیں۔ ریاستی حکومت بی پی ایل کی فہرست بڑھانے کی بات کرتی ہے، مگر اس میں مسلمانوں کی نمائندگی نہیں بڑھتی ہے، حالانکہ مسلمان بڑی تعداد میں غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، مگر ہر سروے کے بعد مسلمان آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں آپاتے۔ لال کارڈ او رانتودیہ یوجنا کا فائدہ بھی انہیں نہ کے برابر مل پایا ہے۔ اندرا آواس میں تو ڈھونڈنے سے بھی مسلمانوں کا نام نہیں ملتا۔ بہار میں سماجی فلاح کا محکمہ کہنے کو تو ایک مسلمان وزیر محترمہ پروین امان اللہ کے ہاتھ میں ہے، مگر اس کا فائدہ بھی مسلمانوں کو نہیں مل رہا ہے، کیوں کہ حکومت کی اس سلسلے میں نہ کوئی واضح پالیسی ہے او رنہ ہی کوئی ہدایت اور نہ ہی اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے مانیٹرنگ کا کوئی نظم۔ اس لیے آنگن باڑی مراکز کے توسط سے بھی مسلمانوں کو فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے، یعنی سماجی فلاح کے دائرے میں مسلمان نہیں آپارہے ہیں، گویا وہ موجودہ ترقی پذیر سماج اور ترقی پذیر بہار کا حصہ ہی نہ ہوں۔
اقلیتوں کی فلاح سے متعلق وزیر اعظم کے 15 نکاتی پروگرام کا بھی برا حال ہے۔ کہنے کو تو ریاستی سطح پر اس پروگرام کے چیئرمین ریاست کے چیف سکریٹری ہیں اور ضلع کی سطح پر وہاں کے ڈی ایم 15 نکاتی کمیٹیوں کے سربراہ ہیں، لیکن اس کی کوئی میٹنگ بھی اب نہیں ہو پاتی ہے، کیوں کہ ریاستی سطح پر چیف سکریٹری ہو یا ضلع کی سطح پر ڈی ایم 15 نکاتی کمیٹیوں کے سربراہ ہیں، لیکن اس کی کوئی میٹنگ بھی اب نہیں ہو پاتی ہے، کیوں کہ ریاستی سطح پر چیف سکریٹری ہو یا ضلع کی سطح پر ڈی ایم ، وہ اس قدر مصروف رہے ہیں کہ ان کے لیے 15 نکاتی پروگرام جیسے لاوارث پروگرام پر دھیان دینا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ لا وارث اس لیے کہ اس انتہائی اہم پروگرام کی مانیٹرنگ کا نظم خود مرکز کی سطح پر بھی آج تک نہیں ہو سکا ہے، اس لیے ریاستی حکومت بھی اس پر دھیان دینا ضروری نہیں سمجھتی ہے۔ پہلے جب اس کمیٹی میں اقلیتی فرقہ کی نمائندگی ہوتی تھی اور سماج کے نمائندہ افراد کو اس کی سربراہی سونپی جاتی تھی، تو کسی حد تک اس کا چرچا بھی ہوتا تھا۔ کم از کم دوچار میٹنگ تو ہو جایا کرتی تھی، مگر اب تو یہ کمیٹی متعلقہ ریاستوں اور ان کے افسران کے رحم و کرم پر ہے۔ اس لیے بات ایم ایس ڈی پی کی ہو یا 15 نکاتی پروگرام یا دیگر مرکزی اقلیتی فلاحی اسکیموں کی، مرکز کو بھی یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اگر وہ اقلیتوں کے معاملے میں واقعی سنجیدہ ہے، تو اسے فلاحی پروگراموں کے ساتھ ساتھ اس کی مانیٹرنگ کا بھی نظم کرنا ہوگا اور عدم نفاذ کی صورت میں جوابدہی بھی طے کرنی ہوگی، بصورت دیگر کروڑوں اور اربوں روپے کے فلاحی پروگرام بنتے رہیں گے او رمسلمانوں کی حالت بتدریج بدتر ہوتی جائے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *