ڈاکٹر قمر تبریز 
مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور، کے رحمان خان آج کل کچھ زیادہ ہی ایکٹو دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کی سرگرمی اس لیے بھی زیادہ بڑھ گئی ہے، کیوں کہ ملک میں کسی بھی وقت عام انتخابات کا اعلان ہو سکتا ہے اور اس کے لیے مسلمانوں کے ووٹ کی کانگریس کو ایک بار پھر سخت ضرورت پڑے گی۔ 2005 اور پھر 2009 کے لوک سبھا انتخابات میں تو کانگریس نے مسلمانوں کو دہشت گردی کے نام پر ڈرا دھمکا کر اور ریزرویشن کے نام پر انہیں بیوقوف بناکر کسی نہ کسی طرح ان کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی تھی، لیکن گزشتہ دنوں، پہلے ملک کے پانچ صوبوں اور پھر حال ہی میں گجرات اور ہماچل پردیش میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے نتائج نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کانگریس کے لیے اگلے لوک سبھا انتخاب میں مسلمانوں کو بیوقوف بنانا آسان نہیں ہوگا۔ اسی لیے کانگریس نے اقلیتوں اور خاص کر مسلمانوں کی فلاح و بہبود سے متعلق کاموں کی نگرانی تیز کر دی ہے۔ مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور، کے رحمان خان ان تمام کاموں کو درست کرنے میں لگے ہوئے ہیں، جو ان کے پیش رو اور ملک کے موجودہ وزیر خارجہ سلمان خورشید خراب کرکے چلے گئے تھے۔ رحمان صاحب کی ان کوششوں کی تعریف کی جانی چاہیے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان کی یہ کوششیں رنگ لائیں گی، کیوں کہ ان کے پاس وقت بہت کم بچا ہے اور آج نہیں تو کل، کسی بھی وقت اگلے لوک سبھا الیکشن کا اعلان ہو سکتا ہے؟ کانگریس نے جو کام پچھلے 8 سالوں میں پورا نہیں کیا، کیا وہ اب چند ماہ کے دوران ان کاموں کو پورا کر لے گی؟

2004 میں جب ڈاکٹر منموہن سنگھ ملک کے وزیر اعظم بنے تھے، تو انہوں نے کہا تھا کہ ملک کے وسائل پر پہلا حق اقلیتوں کا ہے۔ اس کے لیے انہوں نے سچر کمیٹی کی تشکیل کی اور پھر اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے پندرہ نکاتی پروگرام بھی بنائے۔ بعد میں ان پروگراموں اور اسکیموں کے نفاذ کے لیے مرکزی حکومت نے فنڈ بھی جا ری کیے، لیکن یہ پیسے کہاں خرچ ہوئے، کسی کو نہیں معلوم، اس لیے کہ حکومت کے پاس اب تک ایسا کوئی ڈاٹا نہیں ہے، جسے دکھا کر وہ مسلمانوں کو یہ بتا سکے کہ اس نے ان کی فلاح و ترقی کے لیے فلاں فلاں کام کیے ہیں۔ اتنے دنوں تک سونے کے بعد کانگریس حکومت ایک بار پھر مسلمانوں کے ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینے کے لیے اچانک جاگ اٹھی ہے۔ کانگریس کی طرف سے ایک بار اقلیتوں کی فلاح و بہبود سے متعلق جھوٹے سچے اشتہارات اردو اخباروں میں زور و شور سے شائع ہونے لگے ہیں، ریڈیو اور ٹی وی پر اسے چڑھا بڑھا کر پیش کیا جانے لگا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ سب اگلے لوک سبھا انتخاب کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کو بیوقوف بنانے کی ایک اور تیاری ہے؟

وزیر اعظم منموہن سنگھ کی قیادت میں یو پی اے حکومت نے سب سے پہلے 2005 میں سچر کمیٹی کی تشکیل کرکے اس ملک کے مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی و اقتصادی بدحالی اور پس ماندگی کا پتہ لگایا تھا، پھر اس کمیٹی کی سفارشات کے مد نظر اقلیتوں کی بہبود کے لیے 2006 میں وزیر اعظم کا پندرہ نکاتی پروگرام تیار کیا گیا تھا۔ یو پی اے حکومت کے پہلے دور میں ہندوستان بھر کے 90 ایسے اضلاع کی نشاندہی کی گئی تھی، جہاں پر مسلمان اکثریت میں ہیں، لیکن تعلیمی، سماجی و اقتصادی لحاظ سے کافی پچھڑے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد مسلم اکثریتی ان اضلاع کی اقلیتوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے ملٹی سیکٹورل ڈیولپمنٹ پروگرام (ایم ایس ڈی پی) کے تحت مرکزی حکومت کی وزارتِ اقلیتی امور کی جانب سے فنڈ جاری کیے گئے تھے، جسے وزیر اعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام پر خرچ ہو نا تھا۔ لیکن 8 سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اب تک یہ پتہ نہیں چل پا رہا ہے کہ یہ پیسے آخر کہاں خرچ ہو رہے ہیں، کیوں کہ زمینی سطح پر مسلمانوں کی فلاح و بہبود کا کوئی کام دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ چوتھی دنیا نے اپنے پچھلے شمارہ میں بہار کی مثال پیش کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا تھا کہ بہار کے سات اقلیتی اکثریتی اضلاع (مسلم کنسنٹریٹیڈ ڈسٹرکٹ یا ایم سی ڈی) میں خصوصی فلاحی اسکیموں (ایم ایس ڈی پی) کو نافذ کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے گیارہویں پنج سالہ منصوبہ کے تحت 523 کروڑ روپے مہیا کرائے تھے، لیکن یہ پیسے کہاں خرچ ہوئے، ان کی تفصیل یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹ کی شکل میں اب تک مرکز کو موصول نہیں ہوئی ہے، جس کے لیے مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور نے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو پچھلے دنوں ایک خط بھی لکھا تھا۔
اسی طرح کے رحمان خان نے اقلیتی طبقات کے لیے انجام دیے گئے فلاحی و رفاہی کاموں کا ترقیاتی جائزہ و معائنہ کرنے کے لیے گزشتہ 12 جنوری کو ہریانہ کے مسلم اکثریتی میوات علاقہ کا دورہ کیا۔ آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ میوات کی دوری دہلی سے محض 60 کلومیٹر ہے، لیکن وہاں کے مسلمانوں کی حالت اب بھی ویسی ہی ہے، جیسی کہ آزادی سے قبل تھی۔ میوات کے میو مسلمان تعلیمی، سماجی و اقتصادی ہر اعتبار سے پچھڑے ہوئے ہیں۔ میو مسلمانوں کی حب الوطنی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 1947 میں جب ’تبادلہ آبادی‘ کے تحت ہندو پاک کی حکومتوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا اور ہندوستان کے مسلمانوں کو پاکستان کی طرف اور پاکستان کے غیر مسلموں کو ہندوستان کی طرف ہجرت کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا، تو اس وقت میو مسلمانوں نے پاکستان جانے سے انکار کر دیا تھا۔ یہی نہیں، میو مسلمانوں کی اسی حب الوطنی کو دیکھتے ہوئے بابائے قوم مہاتما گاندھی نے 19 دسمبر، 1947 کو میوات کا دورہ کرکے وہاں کے مسلمانوں کو یقین دلایا تھا کہ انہیں زبردستی پاکستان نہیں بھیجا جائے گا اور آزاد ہندوستان میں انہیں بھی دوسری قوموں کی طرح برابر کے حقوق دیے جائیں گے، لیکن 65 سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود میوات کے مسلمانوں کی پس ماندگی دور نہیں ہو پائی ہے، اس کے لیے وہاں کے لوگ سیدھے سیدھے کانگریس پارٹی کو ہی ذمہ دار مانتے ہیں، کیوں کہ مرکز اور ریاستِ ہریانہ میں آزادی سے لے کر اب تک، زیادہ تر کانگریس پارٹی کی ہی حکومت رہی ہے۔ یہی نہیں، میوات وہ علاقہ ہے، جس نے مولانا ابوالکلام آزاد کی شکل میں اس ملک کو پہلا وزیر تعلیم دیا تھا۔ حیرانی کی بات ہے کہ ملک کے جس علاقہ نے اس ملک کو پہلا وزیر تعلیم دیا، وہی علاقہ آج تعلیمی اعتبار سے کافی پچھڑا ہوا ہے۔ گزشتہ 12 جنوری کو بھی جب مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور نے میوات کا دورہ کیا، تو وہاں کے لوگوں کی ان سے یہی شکایتیں تھیں کہ مرکزی حکومت اقلیتوں اور خاص کر مسلمانوں کی ترقی کے لیے اسکیموں اور پروگراموں کا اعلان تو کرتی ہے، پیسے بھی جاری کرتی ہے، لیکن مسلمانوں کو ان کا خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچ پاتا۔ نوح ضلع پریشد کے نائب صدر، نورالدین نور صاحب نے چوتھی دنیا کو بتایا کہ میوات میں خصوصی فلاحی اسکیموں کے نفاذ کے لیے مرکزی حکومت کی طرف سے 49 کروڑ روپے جاری کیے گئے تھے، جس میں سے اب تک صرف 29 کروڑ روپے ہی خرچ ہو سکے ہیں، تاہم یہ پیسے کہاں کہاں خرچ کیے گئے، ان کی تفصیل (یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹ) مرکز کو اب تک نہیں بھیجی گئی ہے۔ انہوں نے چوتھی دنیا کو یہ بھی بتایا کہ اقلیتوں کے لیے مخصوص ان فلاحی اسکیموں کے تحت پہلے سے موجود میوات کے ماڈل اسکولوں میں لڑکیوں کے لیے رہائشی ہوسٹل بنائے گئے ہیں، کچھ پیسے پرائمری ہیلتھ سنٹرز پر خرچ کیے گئے ہیں، لیکن یہ کام اتنی تیزی سے یا اتنے بڑے پیمانے پر نہیں ہوئے ہیں کہ اسے کوئی بڑی حصولیابی قرار دیا جائے۔ اسی طرح انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مالی امداد کے طور پر میوات کے مسلمانوں کو بینکوں کی طرف سے 4 فیصد کی شرحِ سود پر قرض فراہم کرائے گئے، جسے مسلمانوں نے وقت پر ان بینکوں کو لوٹا بھی دیا، لیکن اس علاقہ کے مسلمانوں کو ابھی تک ان سرکاری فلاحی اسکیموں کے بارے میں زیادہ جانکاری نہیں ہے، جس کی وجہ سے وہ ان اسکیموں سے پوری طرح فیضیاب نہیں ہو پا رہے ہیں۔ البتہ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ بہت جلد میوات کے نلہڑ گاؤں میں ایک میڈیکل کالج بن کر تیار ہو جائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے پلّہ گاؤں میں وقف بورڈ کے ذریعے قائم کیے گئے انجینئرنگ کالج کو بھی میوات کے مسلمانوں کے لیے ایک بڑی حصولیابی قرار دیا۔
اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ یو پی اے حکومت کی اقلیتوں سے متعلق فلاحی اسکیموں سے مسلمانوں کو تھوڑا بہت فائدہ ضرور ہوا ہے، تاہم اسے تو کانگریس کا جھوٹ ہی قرار دیا جائے گا، جب ملک کے سابق وزیر برائے اقلیتی امور اور موجودہ وزیر خارجہ سلمان خورشید یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سچر کمیٹی کی 80 فیصد سفارشات کو ملک میں نافذ کیا جا چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 13 جنوری کو جب نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سنٹر میں سچر کمیٹی کے رکن رہ چکے ڈاکٹر ابوصالح شریف نے ریسرچ پر مبنی اپنی رپورٹ ’سچر کے 6 سال بعد‘ پیش کی، تو اس میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ سچر کمیٹی کی سفارشات پر پچھلے 6 سالوں میں کام بالکل نہیں ہوا، لیکن سیاسی طور پر اس ایشو کو بھنانے کی کافی کوششیں ہوئیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آر ٹی آئی سے حاصل ہونے والی جانکاریوں نے یہ صاف کر دیا ہے کہ مختلف ریاستوں میں نہ تو کسی سفارش سے متعلق ڈاٹا تیار کیا گیا ہے اور نہ ہی مرکزی یا کسی صوبائی حکومت کے ذریعے یہ بتایا گیا ہے کہ اب تک کتنے او بی سی سرٹیفکیٹ جاری کیے جا چکے ہیں۔ اس سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس ملک کے مسلمانوں کی بدحالی اور پس ماندگی کو دور کرنے کے لیے نہ تو کانگریس کی قیادت والی مرکزی حکومت سنجیدہ ہے اور نہ ہی اس ملک کی مختلف صوبائی حکومتیں ہی اس سلسلے میں کسی دلچسپی یا سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی بدحالی لاکھ کوششوں کے باوجود دور نہیں ہو پا رہی ہے۔
تاہم، گزشتہ چند دنوں سے کانگریس میں مسلمانوں کی پس ماندگی کو دور کرنے اور اقلیتوں کی فلاحی اسکیموں کے نفاذ سے متعلق سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ کانگریس واقعی مسلمانوں کی ہمدرد ہو گئی ہے، بلکہ اس کی وجہ ہے ملک میں ہونے والا اگلا لوک سبھا انتخاب۔ کانگریس چاہتی ہے کہ اس نے ملک کے جن 90 اضلاع کی نشاندہی مسلم اکثریتی والے اضلاع کے طور پر کی ہے، کم از کم وہاں کے تمام مسلمانوں کا ووٹ اس کی جھولی میں پڑ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ان اضلاع کے مسلمانوں کی فلاح کے لیے کیے گئے تھوڑے بہت کاموں کو کافی بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ایک بار پھر مسلمانوں کا ووٹ انہیں بیوقوف بناکر حاصل کرنے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔
ہندوستان ایک جمہوری اور سیکولر ملک ہے۔ آئین کی دفعہ 14 جہاں ایک جانب ملک کے ہر شہری کو برابری کا درجہ دیتی ہے، وہیں دفعہ 15 میں کسی بھی مذہب کے نام پر جانبداری کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس کے بعد آئین کی دفعات نمبر 29 اور 30 ملک کی اقلیتوں کے مفادات کا تحفظ کرنے اور انہیں اپنے لیے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان اداروں کا انتظام و انصرام اپنے ڈھنگ سے چلانے کا حق دیتی ہیں۔ آئین کی انہی یقین دہانیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے 5 جولائی، 1992 کو قومی اقلیتی کمیشن کی تشکیل عمل میں آئی تھی۔ اس کے بعد یہ بھی ضروری سمجھا گیا کہ، آئین نے اقلیتوں کے جن مفادات و حقوق کا تحفظ کرنے کی یقینی دہانی کرائی ہے، اس سے اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے ملک بھر کے لوگ یکساں طور پر فائدہ حاصل کرسکیں، اس کے لیے صوبائی حکومتیں بھی قومی اقلیتی کمیشن کی طرز پر ہی اپنے اپنے یہاں صوبائی اقلیتی کمیشن کی تشکیل کریں۔ ہندوستان میں اس وقت کل 28 صوبے ہیں، لیکن اقلیتی کمیشن صرف 15 صوبوں میں ہی قائم کیے جا سکے ہیں۔ اروناچل پردیش کی حکومت نے اس وقت یہ کہا کہ اس کے یہاں الگ سے صوبائی اقلیتی کمیشن قائم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، جب کہ پنجاب، ہریانہ، ہماچل پردیش اور گجرات نے اپنے اپنے یہاں اقلیتی کمیشن قائم کرنے سے منع کردیا۔ بڑی حیرانی کی بات ہے کہ مرکز میں پچھلے تقریباً آٹھ سالوں سے کانگریس حکومت کر رہی ہے اور ہریانہ میں بھی کانگریس تیسری پاری کھیل رہی ہے، پنجاب اور ہماچل پردیش میں بھی اس کی حکومت ہر ایک دو ٹرم کے بعد بنتی ہی رہی ہے، پھر بھی ان ریاستوں میں اقلیتی کمیشن کی تشکیل کیوں نہیں ہوپا رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے نام پر کانگریس سنجیدہ ہے ہی نہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here