اشرف استھانوی 
بہار میں نتیش حکومت کی لگاتار گھٹتی ہوئی مقبولیت اور نریندر مودی کو آئندہ لوک سبھا انتخاب میں وزیر اعظم کا امید وار بنا کر پیش کرنے کی بی جے پی کی کوشش سے ریاست میں حکمراں جنتا دل یو – بی جے پی اتحاد میں آئی کڑواہٹ سے اپوزیشن راشٹریہ جنتا دل کے حوصلے کافی بلند ہو گئے ہیں اور اس نے آئندہ 7 اپریل کو پٹنہ کے گاندھی میدان میں پریورتن ریلی کا اعلان کرکے پارلیمانی انتخاب کا صور پھونکنے کی تیاری کر لی ہے۔ آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد یادو اقتدار سے محروم ہونے کے بعد تقریباً سات سال تک تو خاموش رہے، مگر گزشتہ دو ماہ سے وہ پریورتن یاترا کر رہے تھے اور اب لگاتار 8 ویں بار پارٹی کا قومی صدر بننے کے بعد ایک بار پھر انہوں نے ریلی کی سیاست میں اپنی دمدار واپسی کا حوصلہ دکھایا ہے۔ لالو یادو ریلی کی سیاست کے ماہر مانے جاتے ہیںاور ان کی ریلیوں کا ریکارڈ ابھی تک بہار میں کوئی نہیں توڑ سکا ہے۔ نتیش کمار بھی اس محاذپر ان سے پیچھے ہی رہے ہیں۔ لالو نے بی جے پی کی ہُنکار ریلی (15 اپریل) سے ایک ہفتہ پہلے پریورتن ریلی کا اعلان کرکے بہار کی سیاست میں ہلچل پیدا کردی ہے۔

لالو اپنی پریورتن یاترا کے دوران اب تک 60 ہزار کیلو میٹر کا دورہ کر چکے ہیں اور جس بڑے پیمانے پر ان کا استقبال ہو رہا ہے، اس سے لوگوں کے بدلتے ہوئے رجحان کا اندازہ ہوتا ہے۔ اسی سے حوصلہ پاکر انہوں نے پریورتن ریلی کا اعلان کیا ہے۔ پریورتن ریلی، جس کی کامیابی کا ان کے مخالفین کو بھی یقین ہے، بہار کی سیاست میں تبدیلی کا نقطہ آغاز بن سکتی ہے اور اسی کو یقینی بنانے کے لیے لالو اب اپنے پرانے اور جانے پہچانے انداز میں دوبارہ سرگرم ہو چکے ہیں۔

آر جے ڈی کی قومی کونسل کے آٹھویں اجلاس میں لالو پرساد یادو کو آٹھویں بار پارٹی کی کمان سونپی گئی اور آئندہ لوک سبھا انتخاب میں سیکولر اور ہم خیال جماعتوں سے انتخابی مفاہمت کے لیے بات چیت کرنے کا اختیار دیا گیا۔ یہ سب ایسے ماحول میں ہو رہا تھا، جب بی جے پی کے ریاستی صدر کے عہدہ سے مودی حامی پارٹی کے ایک سنیئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر سی پی ٹھاکر کو ہٹا کر ایک غیر معروف، مگر اعتدال پسند پارٹی لیڈر منگل پانڈے کو کمان سونپے جانے سے نہ صرف اکثریتی فرقہ کی ایک خاص برادری میں مایوسی تھی، بلکہ پارٹی کا نریندر مودی حامی خیمہ بھی پریشان تھا۔ منگل پانڈے، جو سی پی ٹھاکر کی ٹیم میں جنرل سکریٹری کی حیثیت سے کام کر رہے تھے، گزشتہ سال پہلی بار بی جے پی کی سیاست میں اس وقت ابھر کر سامنے آئے تھے، جب بہار قانون ساز کونسل کے چیئر مین پنڈت تارا کانت جھا کا ٹکٹ کاٹ کر انہیں ان کی جگہ کونسل میں لایا گیا تھا۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ مانی گئی تھی کہ وہ ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی کے چہیتے ہیں۔ مودی نہ صرف نتیش حکومت میں اہمیت کے حامل ہیں، بلکہ پارٹی میں بھی ان کی بڑی اہمیت ہے اور ان کی بات سنی اور سمجھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر سی پی ٹھاکر او رریاستی وزیر گری راج سنگھ ، تارا کانت جھا اور دوسرے ریاستی وقومی سطح کے نریندر مودی حامی رہنمائوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود پارٹی اعلیٰ کمان نے نہ صرف منگل پانڈے کے نام پر مہر لگائی، بلکہ مرکزی مشاہد او ربہار کے انچارج اورمعاون انچارج کی مدد سے ان کے متفقہ انتخاب کو بھی یقینی بنایا۔ یہ دراصل منگل پانڈے کی نہیں، بلکہ سشیل مودی کی جیت تھی، جو حال کے دنوں میںبہار میں نریندر مودی کا کاٹ بن کر ابھرے ہیں۔ بہار میں جب بھی گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو بلانے کی بات ہوتی ہے، وزیر اعلیٰ نتیش کمار یہی کہتے ہیں کہ یہاں تو پہلے سے ہی ایک مودی موجود ہیں اور اچھا کام کر رہے ہیں، پھر باہر سے کسی مودی کو بلانے کی کیا ضرورت ہے؟ خود سشیل مودی بھی انہیں الفاظ میں نریندر مودی کی بات کاٹ دیتے ہیں۔ مودی بی جے پی کے ایسے رہنما ہیں، جو نہ صرف اپنے لیے، بلکہ پارٹی کی صحت کے لیے بھی جنتا دل یو کے ساتھ اتحاد کو بہار میں کم از کم اس وقت تک ضروری مانتے ہیں،جب تک پارٹی اپنے بل بوتے پر حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہ آجائے۔ اس کا اظہار انہوں نے منگل پانڈے کی تاجپوشی کی تقریب میں پارٹی کے قومی اور ریاستی رہنمائوں سے خطاب کے دوران بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ محض جذبات سے سیاست میں کام نہیں چلتا اور نہ ہی حکومت بنتی ہے۔ موجودہ دور اتحاد کی سیاست کا دور ہے، اس میں سب کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہوتا ہے اور جوش سے زیادہ ہوش سے کام لینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ وہ دراصل ان لوگوں کا جواب دے رہے تھے، جو بار بار نریندر مودی کو وزیر اعظم کا امید وار بنانے اور انہیں پارٹی کی ہُنکار ریلی میں مدعو کرنے کی بات کر رہے تھے۔ ریاستی صدر کے عہدہ سے ہٹائے گئے ڈاکٹر سی پی ٹھاکر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ بہار میں گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کا آنا اس لیے بھی ضروری ہے، کیوں کہ ان کا بھوج ابھی باقی ہے اور مجھے امید ہے کہ ہمارے نئے صدر (منگل پانڈے) اس کام کو انجام دیں گے، لیکن منگل پانڈے یا سشیل مودی نے اس بارے میں کچھ بھی نہیں کہا اور نریندر مودی کا نام لینے سے بھی گریز کیا۔ منگل پانڈے کو اس سلسلے میں میڈیا نے جب بہت زیادہ کریدا تو ایک دن بعد انہوں نے یہ بیان دیا کہ گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو پارٹی کی ریلی میں بلانے یا نہ بلانے کا فیصلہ مرکزی قیادت کو کرنا ہے اور مرکزی قیادت نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ دراصل سشیل مودی اور ان کے حامی جانتے ہیں کہ مودی کو بلانے یا انہیں بھوج دے کر سمّان دینے کا جذباتی فیصلہ ریاست میں حکمراں اتحاد کی صحت کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور ان کی پارٹی جنتا دل یو، بی جے پی میں نریندر مودی کو لے کر پک رہی کھچڑی پر نظر گڑائے ہوئے ہیں۔ بہار کا معاملہ تو کسی طرح سشیل مودی نے سنبھال لیا ہے، مگر قومی سطح پر بی جے پی قیادت کیا فیصلہ لیتی ہے، یہ ابھی دیکھا جانا باقی ہے۔ نتن گڈکری جو مودی کی وکالت کر رہے تھے، اب صدارتی دوڑ سے باہر ہو چکے ہیں اور راج ناتھ کے ہاتھ میں پارٹی کی کمان دوبارہ آگئی ہے۔ ایسے میں اس بات کا اندیشہ ہے کہ اگر نئی ٹیم نریندر مودی کو پارٹی میں ترجیح دیتی ہے ، انہیں پارٹی کی انتخابی مہم کی کمان سونپتی ہے، جیسی کہ قیاس آرائی چل رہی ہے، تو پھر مودی کا بہار آنا اور پارٹی کی ہُنکار ریلی میں شریک ہونا یقینی ہو جائے گا، کیوں کہ وہ ریلی بہار میں لوک سبھا انتخاب کے لیے بی جے پی کی مہم کا نقطہ آغاز ہوگی اور اس موقع پر اگر بھوج کا معاملہ گرمایا تو پھر نتیش کمار کے لیے یہ بات ناقابل برداشت ہو جائے گی۔ خیال رہے کہ یہ وہی بھوج ہے جو 2010 میں بی جے پی کی پٹنہ میں ہونے والی قومی مجلس عاملہ کی میٹنگ کے وقت بہار کے وزیر اعلیٰ اتحادی پارٹی کے رہنمائوں کو دینے والے تھے، مگر عین وقت پر اخبارات میں مودی کے ساتھ نتیش کی ایک پرانی تصویر کی اشاعت سے نتیش اس قدر ناراض ہو گئے تھے کہ انہوں نے بھوج کا پروگرام ہی ملتوی کر دیا تھا۔ اس بات کو بی جے پی اور خود نریندر مودی نے اپنی ہتک سے تعبیر کیا تھا اور تلخی اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ اتحاد ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا، مگر بعد میں دونوں فریقوں نے سیاسی مصلحت کے پیش نظر معاملے کو طول نہیں دیا اور بات نہیں بگڑی، لیکن اگر اس معاملے کو دوبارہ اس طرح زندہ کرنے کی کوشش کی گئی یا لوک سبھا انتخاب میں نریندر مودی کو وزیر اعظم کا امید وار بنا کر پیش کیا گیا تو پھر بہار میںجنتا دل یو- بی جے پی اتحاد کو بچانا مشکل ہو جائے گا۔
اپوزیشن راشٹریہ جنتا دل کو اُسی دن کا انتظار ہے اور اسے معلوم ہے کہ وہ دن اب زیادہ دور نہیں، اس لیے وہ اس موقع کا فائدہ اٹھانے کے لیے کمر بستہ ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے قومی کونسل کے اجلاس میں لالو پرساد نے پارٹی رہنمائوں سے پارٹی کی پریورتن ریلی اور آئندہ اسمبلی انتخاب کی تیاریوں میں جٹ جانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو سامنتی نہ کہیں، کسی کا دل نہ دکھائیں، کسی کو تکلیف نہ دیں اور ہر معاملے میں صبر و ضبط سے کام لیتے ہوئے مصیبت زدگان کی مدد کرنے اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کریں، کیوں کہ ہر فرقہ او رہر ذات برادری میں ہمارے ووٹروں کی اچھی خاصی تعداد ہے، اس لیے سب کو ہمارا سیلوٹ ہے۔ ہمیں بہار کی جنتا نے جتنا مان اور سمان دیا وہ کسی کو نہیں دیا۔ انہوں نے بہار کے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان کی غلطیوں کو معاف کرکے ایک بار پھر موقع دیں۔ اب انہیں کسی شکایت کا موقع نہیں دیں گے۔ لالو کی نظر چونکہ بی جے پی میں نریندر مودی کو آگے بڑھانے اور اس کے نتیجے میں این ڈی اے میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ پر بھی ہے، اس لیے انہوں نے کہا کہ پارٹی نے لگاتار ان کو قیادت سونپ کر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے، وہ اس پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے اور ہر حال میں اس اعتماد کی لاج رکھیں گے، ہر فرقہ اور ذات کے لوگوں کو ساتھ لے کر چلیں گے اور کسی بھی حالت میں دہلی کے تخت پر فرقہ پرست طاقتوں کو قابض نہیں ہونے دیں گے، سیکولر طاقتوں کو جوڑنے کی کوشش کریں گے اور بہار میں بی جے پی کا راستہ روکنے کی کوشش کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ چھوٹی سی بھول سے بہار میں بی جے پی کو قدم جمانے کا موقع ملا، اب وہ بھول نہیں ہونے دی جائے گی۔ انہوں نے جھارکھنڈ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جھارکھنڈ میں ابھی صدر راج نافذ ہو گیا ہے، لیکن ان کی کوشش ہوگی کہ سیکولر جماعتوں سے بات چیت کرکے وہاں 6 ماہ کے اندر غیر بی جے پی حکومت قائم کی جائے۔ آئندہ لوک سبھا انتخاب میں پارٹی کی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے لالو نے کہا کہ اس بار 50 فیصد ٹکٹ نئی نسل کے مرد و خواتین کو دیے جائیں گے، لیکن 50 فیصدسیٹوں پر پرانے، تجربہ کار اور آ زمودہ لوگوں کو موقع دیا جائے گا، کیوں کہ ان کے تجربہ کی پارٹی اور حکومت کو قدم قدم پر ضرورت پڑے گی۔ لالو کا اندازہ غلط نہیں ہے۔ ایک طرف تو عوام میں نتیش حکومت میں بری طرح پنپ رہی بد عنوانی اور نا انصافی سے مایوسی ہے، تو دوسری طرف آنے والے انتخاب میں گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے ممکنہ قائدانہ رول سے ریاست کے سیکولر عوام، بالخصوص مسلمانوں میں سخت بیزاری ہے اور وہ ابھی سے لالو اور ان کی پارٹی کے حق میں گول بند ہوتے نظر آرہے ہیں۔ نتیش کمار کے اس دعوے کے بر عکس کہ لالو یادو کا دور ختم ہو چکا ہے اور اب وہ کبھی بہار کی سیاست میں واپسی نہیں کر سکتے، لالو کی حالیہ پریورتن یاترا کے دوران یہ بات عام طور پر دیکھنے میں آئی کہ جہاں بھی لالو گئے، ہر جگہ یکساں جوش و خروش اور حمایت کا والہانہ انداز نظر آیا۔ ہر فرقہ اور طبقہ کی یہی خواہش تھی کہ آرجے ڈی حکومت دوبارہ قائم ہو۔ لالو اپنی پریورتن یاترا کے دوران اب تک 60 ہزار کیلو میٹر کا دورہ کر چکے ہیں اور جس بڑے پیمانے پر ان کا استقبال ہو رہا ہے، اس سے لوگوں کے بدلتے ہوئے رجحان کا اندازہ ہوتا ہے۔ اسی سے حوصلہ پاکر انہوں نے پریورتن ریلی کا اعلان کیا ہے۔ پریورتن ریلی، جس کی کامیابی کا ان کے مخالفین کو بھی یقین ہے، بہار کی سیاست میں تبدیلی کا نقطہ آغاز بن سکتی ہے اور اسی کو یقینی بنانے کے لیے لالو اب اپنے پرانے اور جانے پہچانے انداز میں دوبارہ سرگرم ہو چکے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here