پولیس اہلکاروں کا دماغی توازن درست رکھنے کے لئے نفسیاتی ماہرین کی ہوگی تقرری

Share Article

 

مانا جاتا ہے کہ محکمہ پولیس میں تعینات پولیس اہلکاروں پر کام کا سب سے زیادہ دباؤ رہتا ہے۔ نتیجتاً ان کے ذہن میں کشیدگی رہتی ہے۔ اب اس صورت حال سے پولیس اہلکاروں کو نکالنے کے لئے ملینیم سٹی گروگرام میں آوٹ سورسنگ پالیسی پارٹ- 1 کے تحت ماہرین نفسیات کی تقرری کی جائے گی۔ فی الحال دو ہی ماہرین نفسیات تقرری کو ہری جھنڈی ملی ہے۔

 

یہ نفسیاتی ماہرین پولیس اہلکاروں کو ذہنی طور پر مضبوط بنانے کے ساتھ ان کی کاؤنسلنگ کریں گے۔ اس عہدے پر سروس پرووائڈرس کے ذریعے صرف ان ماہرین نفسیات کے لیے رکھا جائے گا، جن اس شعبے میں مہارت حاصل ہو۔ ساتھ ہی اس شعبے کے کام کا بھی تجربہ ہو۔ انتخاب کے بعد کانٹریکٹ آوٹ سورسنگ پالیسی پارٹ- 1 کے تحت ایک سال کی مدت کے لئے رکھا جائے گا۔ منتخب کئے گئے ماہرین نفسیات کے کام کی نگرانی وقت وقت پر اسسٹنٹ پولیس کمشنر ہیڈکوارٹر گروگرام کریں گے۔

 

گروگرام ہیڈ کوارٹر میں تعینات پولیس ڈپٹی کمشنر ششانک کمار ساون کے مطابق ایک میٹنگ میں اس بات پر بحث ہوئی تھی کہ محکمہ پولیس میں زیادہ کام ہونے کی وجہ سے پولیس اہلکاروں کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ میں رہتے ہیں۔ کشیدگی کی وجہ سے وہ خاندان اور سماجی زندگی سے دور ہو جاتے ہیں۔ یہی نہیں، اسی کشیدگی کے سبب کئی بار خودکشی کرنے جیسا قدم بھی پولیس اہلکار اٹھا لیتے ہیں۔ اس طرح کے کئی واقعات گروگرام میں ہو بھی چکے ہیں۔ خودکشی کے علاوہ وہ کوئی اور جرم بھی کر بیٹھتے ہیں۔

 

پولیس اہلکار نے کی تھی جج کی بیوی، بیٹے کا قتل
گروگرام میں ہی کچھ ماہ سابق جج کی حفاظت میں تعینات ایک پولیس اہلکار نے مارکیٹ میں جج کی بیوی اور بیٹے کی سروس ریوالور سے گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ پولیس اہلکار کشیدگی میں تھا۔ وہ مسلسل ڈیوٹی کرکے پریشان تھا۔ اس لئے اس نے ایسا جرم کرنے کا قدم اٹھایا۔ اسی وقت حکومت نے اس طرح کے احکامات جاری کیے تھے کہ پولیس اہلکاروں خاص طور وی آئی پی کی سیکورٹی میں تعینات پولیس اہلکاروں کی باقاعدہ کاؤنسلنگ کی جائے گی، تاکہ وہ ذہنی دباؤ میں نہ رہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *