انسداد فرقہ وارانہ تشدد بل:بے سود ہے اگر

Share Article

وصی احمد نعمانی
انسدا فرقہ وارانہ اور نشان زد تشدد (انصاف تک رسائی اور باز آبادکاری) بل 2011 ‘ کے عنوان پر ’’چوتھی دنیا‘‘ میں دو مضامین قسط وار شائع ہو چکے ہیں۔ ان دونوں مضامین میں اغراض و مقاصد، تاریخی پس منظر، مسلم عمائدین کی جانب سے دیے گئے نہایت قیمتی مشورے اور اس کے ردّ عمل میں بی جے پی کی جانب سے سخت تنقید پیش کی جا چکی ہیں۔ ساتھ ہی مرکزی کانگریسی متحدہ محاذ کی جانب سے پختہ ارادہ کا اظہار بھی پیش کیا جا چکا ہے کہ بل کو لاگو کرکے رہیں گے، وغیرہ۔ اگرچہ ’رسائی برائے انصاف‘ بل 2011 میں بین الاقوامی اور ہندوستانی، بہت سے قوانین کا ساتھ لیا گیا ہے اور اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ فرقہ وارانہ فساد بل کے ذریعہ پوری طرح کنٹرول کیا جاسکتا ہے اور فساد کے نتیجہ میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کی تلافی کی جاسکتی ہے، مگر اس سے جو نتیجہ حاصل ہونے کی امید لگا رکھی ہے وہ صرف ایک وہم و گمان کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ خدا کرے میرا یہ اندازہ غلط ثابت ہو اور یہ بل قانون کی شکل لے کر اپنے پورے آب و تاب کے ساتھ ملک کی سلامتی، بھائی چارہ، مذہبی غیر جانبداری کے جذبات کو فروغ دینے میں کامیاب ہو، آمین۔ اور یہی بل کا اہم مقصد بھی ہے۔
راقم الحروف نے قسط نمبر 2 میں اس بات کو دہرایا تھا کہ اس بل کے صرف سات دفعات ہی اگر نیک نیتی سے لاگو کر دیے جائیں تو مقاصد کا خاطر خواہ حصہ پورا کر لیا جاسکتا ہے۔ ان سات دفعات میں سے الگ الگ پیرایہ میں کچھ کا ذکر کرنے کی کوشش کریں گے۔ مثال کے طور پر ’’قومی اتھارٹی‘‘ کی تشکیل، کمانڈ کرنے والے حکام کی ذمہ داری کا تعین، تفتیشی کمیٹی کو مجرمین کے خلاف رپورٹ درج کرانے کی ہدایت جاری کرنے کا اختیار، کیمپوں میں جاکر پولس حکام کے ذریعہ ایف آئی آر درج کرنے، مظلومین کا بیان درج کرنے، کیمپ میں ہی مظلومین کا ڈاکٹری معائنہ کرانے، متفق نہ ہونے پر مدعی کو اس بات کا اختیار دینا کہ وہ خود تحریری طور پر ’’قومی اتھارٹی‘‘ کو حالات کی اطلاع دے، اور اس پر رپورٹ کی طرح ہی کارروائی وغیرہ کرنے کی دفعات نے اس بل کو زیادہ وسیع، با اختیار اور با وقار بنا دیا ہے۔ ہم عام شہریوں کی جانکاری کے لیے چند دفعات اور بل کے چند مضامین کا تذکرہ کرنا زیادہ مناسب سمجھتے ہیں۔ مثال کے طور پر ’دفعہ 2‘ کے حساب سے کوئی شخص ہندوستان کے کسی قانون بشمول موجودہ بل کے خلاف کوئی جرم کرتا ہے اور چاہے وہ جرم ہندوستان کے باہر رہ کر ہی کیوں نہ کیا گیا ہو، اس کی سماعت اس شخص کے خلاف ہندوستان ہی میں اسی طرح ہوگی گویا کہ اس شخص نے ہندوستان کے باہر نہیں بلکہ ہندوستان کے اندر رہ کر مخصوص جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ اسی طرح کسی تنظیم کی اگر ہندوستان کے باہر رہ کر کوئی آدمی مدد کرتا ہے، یا وہاں سے ٹیلی فون، گروپ یا ’ٹولی‘ کی مدد کرکے کوئی جرم کرتا ہے، تو اس کے خلاف ہندوستان میں مقدمہ چلے گا۔ اس کے ہندوستان آنے کا انتظار نہیں کیا جائے گا۔ اس بل کو قانون کی شکل لیتے ہی ایک سال کے اندر لاگو کردیا جائے گا تاکہ اصل مقصد فوت نہ ہونے پائے۔
اس بل میں دفعہ 2(c) میں Communal and Targeted Violence یا ’فرقہ وارانہ نشان زد تشدد‘ کی شمولیت نے، مخصوص قسم کے جرم اور مجرم کا محاصرہ کیا ہے، جس کا مطلب خاص گروپ، طبقہ، علاقہ کے خلاف اچانک یا لگاتار کوئی عمل منصوبہ بند ہو، یا کسی شخص یا اس کی ملکیت کو مجروح کرنے یا نقصان پہنچانے کی غرض سے تشدد کیا گیا ہو، یا کسی آدمی کو دانستہ طور پر ایسی ہدایت دی گئی ہو جس سے ملک کے سیکولر تانے بانے کو نقصان پہنچے، اسے ’نشان زد‘ یا ’ٹارگیٹیڈ تشدد‘ سمجھا جائے گا۔ دفعہ 2(e) میں ’گروپ‘ کی تعریف کی گئی ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ اس گروپ سے مراد مذہبی، لسانی گروپ لیا جائے گا۔ اس کی تعریف میں ہندوستان کے دستور کے آرٹیکل 366 کے ذیلی کلاز 24، 25 میں مذکورہ شیڈولڈ کاسٹ اور شیڈولڈ ٹرائب بھی شامل سمجھے جائیں گے۔ اس طرح مذہبی، لسانی اقلیت کے دائرہ کو وسیع کرکے ایس سی اور ایس ٹی کو بھی اس بل کا فائدہ پہنچانے کا منصوبہ ہے۔ یوں بل کی افادیت بڑھا کر اسے کافی پھیلا دیا گیا ہے۔
اسی طرح دفعہ 2(f) کسی گروپ کے خلاف مکدر فضا (Hostile Environment Against a Group)  پیدا کرنے کو بھی جرم کے طور پر لیا گیا ہے، اور مکدر فضا کی حد بندی کے ساتھ تعریف کی گئی ہے، یعنی اگر ’مجوزہ‘ گروپ کے خلاف ایسی فضا یا ایسا ماحول پیدا کر دیا جائے، جس سے وہ گروپ یا اس کا کوئی آدمی مجبور ہو کر، اپنا گھر بار چھوڑ کر جہاں وہ عام بود و باش رکھتا ہے، کہیں اور پناہ کی غرض سے یا حفاظت کے لیے چلا جائے، جس کی وجہ سے وہ اپنی روزی روٹی سے بے دخل ہو جائے یا کوئی ایسا عمل اس گروپ یا اس گروپ کے کسی آدمی کے خلاف کرے جو بظاہر جرم تو نہ ہو لیکن ایسے عمل کا مقصد اسے خوفزدہ کرنا ہو، یا ناموافق فضا پیدا کرنا ہو، تو یہ سمجھا جائے گا کہ ’’ہوسٹائل ماحول‘‘ یا مکدر فضا پیدا کی جا رہی ہے۔ اسی طرح اگر اس گروپ کے خلاف ’’کاروباری بائیکاٹ‘‘ کیا جاتا ہے، یا ایسی حالت پیدا کی جاتی ہے جس سے وہ اپنی روزی روٹی کو بحال نہیں کر پاتا ہے، یا کسی طرح کی توہین کی جاتی ہے، تعلیم یا صحت سے متعلق یا کسی طرح کی نقل و حمل، یا عوامی خدمات کا بائیکاٹ کیا جاتا ہے یا اس کی کسی طرح کی تضحیک کرتا ہے یا اس کو کسی بھی بنیادی حق سے محروم کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے، تو یہ سب کے سب جرم کے دائرے میں آتے ہیں اور اب اس بل کے مطابق مجرمین کو سزا دی جائے گی۔ اسی طرح گروپ کے کسی بھی فرد کو جسمانی، ذہنی، نفسیاتی، مالی نقصان پہنچایا گیا ہے، یہاں تک کہ اگر ان کے کسی رشتہ دار کو بھی اس نیت سے نقصان پہنچایا گیا ہے کہ جس سے گروپ کی تضحیک، حوصلہ شکنی، بے عزتی وغیرہ ہو، تو یہ سب عمل جرم کے خانے میں آتے ہیں اور ایسے شخص یا گروپ کو victim یا مظلوم مانا جائے گا، اور قانون اپنا عمل پورا کرکے ضابطہ کے مطابق اس ایکٹ کے تحت سزا دی جائے گی۔
دنگا فساد میں عام طور پر عورتوں اور بچوں کے ساتھ ’’صنفی‘‘ یا sexual assault ہوتا ہے۔ ایسے ناپسندیدہ عمل کو اس بل میں شامل کرکے جرم کے خانہ میں رکھا گیا ہے، یعنی اگر کوئی آدمی کسی ایسے فرد کے خلاف کوئی مندرجہ ذیل جرم کرتا ہے جو اس مخصوص مذہبی، لسانی اقلیتی گروپ کا فرد ہے، تو وہ شخص ’’جنسی جرم‘‘ کا مرتکب ہوگا جسے زنا، اجتماعی زنا یا اس شخص کی مرضی کے خلاف جسم کا کوئی حصہ بشمول اعضاء رئیسہ کو کھولنے کے لیے مجبور کرنا، کوئی چیز شرم گاہ، منھ، مقعد وغیرہ میں کسی حد تک داخل کرنا، اس کے اعضاء رئیسہ کو کسی بھی حد تک نقصان پہنچانا، اس کے جسم کے کپڑوں کو پورا یا کم سے کم بھی ہٹانا یا بے لباس ہونے کے لیے مجبور کرنا، عوام میں یا کسی بھی جگہ بے لباس ہو کر پریڈ کرنے کے لیے کہنا وغیرہ، یہ سب اہم جرم ہیں جس کی سزا سخت سے سخت تجویز ہے۔ اس طرح کے واقعات لگ بھگ ہر چھوٹے بڑے دنگوں میں دیکھنے اور سننے کو ملتے رہے ہیں اور ان تمام جرائم کی دیدہ و دانستہ پردہ پوشی کردی جاتی تھی، لیکن اب یہ ممکن نہیں ہوگا۔
اس بل کو قانون بناکر نہایت مؤثر طریقے سے لاگو کرنے کے لیے ایک نہایت طاقتور ادارہ کا قیام کرنے کی بات کہی گئی ہے اور اس ادارہ کو کافی اختیارات دیے گئے ہیں، بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ خود مختار اداروں کی طرح ہی اس کے مراتب طے کیے گئے ہیں۔ اس کی تشکیل کے طریقے اور مجوزہ اختیارات کو غور سے پڑھنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ، ہائی کورٹ، الیکشن کمیشن جیسے خود مختار اداروں کی طرز پر اس کی تشکیل کا منصوبہ ہے۔ اس ادارہ کا نام ہوگا National Authority for Communal Harmony, Justice and Reparation  یا شارٹ میں ’’قومی اتھارٹی‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ اس کی تشکیل کے طریقے اور افراد کی شمولیت کی طرز سے لگتا ہے کہ اسے کافی اہمیت حاصل ہوگی اور یہ ادارہ خاطر خواہ نتائج برآمد کرکے ہندوستان کے سیکولر کردار کو بچانے میں کامیاب ہوگا۔
قومی اتھارٹی کی تشکیل  :  اس اتھارٹی میں ایک چیئرمین، ایک وائس چیئرمین اور پانچ عدد دیگر ممبران ہوں گے، مگر اس میں لازم ہوگا کہ کم سے کم چار ممبران بشمول چیئرمین، وائس چیئرمین کا تعلق اس گروپ سے ہوگا جو مذہبی، لسانی اقلیت سے تعلق رکھتے ہوں۔ اسی طرح بے حد اہم بات یہ ہے کہ ہمیشہ اور ہر حالت میں چار خواتین بشمول چیئرمین، وائس چیئرمین ہوں گی۔ ایک ممبر ہر حال میں شیڈولڈ کاسٹ یا شیڈولڈ ٹرائب سے ہوگا بشرطیکہ ہمیشہ صرف دو ممبران بشمول چیئرمین، وائس چیئرمین ریٹائرڈ پبلک سروینٹ ہوں گے۔ اس تشکیل کے طریقہ پر بہت سارے شبہات پیدا ہوتے ہیں جس سے اس تشکیل کا اصلی مقصد فوت ہو نے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ فی الحال اس پر بحث کا موقع نہیں ہے، مگر بات اہم ہے۔ چلئے اس کا ذکر بعد میں کریں گے۔
قومی اتھارٹی کے ممبران کی تقرری :  صدرِ جمہوریہ وارنٹ کے ذریعہ، جیسے سپریٹ کورٹ، ہائی کورٹ کے ججوں، الیکشن کمیشن کے ممبران کا تقرر کرتے ہیں، اسی طرح ان کا بھی تقرر ہوگا۔ مگر ہر ایک ممبر یا چیئرمین، وائس چیئرمین کی تقرری کے لیے سفارش ایک کمیٹی کرے گی۔ اس کمیٹی کی تشکیل میں کافی شفافیت لگتی ہے۔ اس لیے امید ہے کہ ’’قومی اتھارٹی‘‘ کی تشکیل بھی نہایت شفافیت سے ہوسکے گی۔ اس لیے کارکردگی میں بھی کافی ستھراپن ہو سکتا ہے۔
تقرری کمیٹی: اس کمیٹی میں وزیر اعظم چیئرمین ہوں گے، لوک سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر، وزیر داخلہ، لوک سبھا میں تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے لیڈران، ممبران ہوں گے۔ قومی اتھارٹی کے ممبران کی تقرری چھ سال کے لیے ہوگی۔
اس بل کی دفعہ25″ کے تحت چیئرمین، وائس چیئرمین، ممبران کو صرف صدر جمہوریہ ہی ان کے عہدہ سے ہٹا سکتا ہے، بشرطیکہ صدر جمہوریہ نے ریفرنس کے ذریعہ سپریم کورٹ سے مشورہ طلب کیا ہو اور سپریم کورٹ ثبوت و دستاویز کی بنیاد پر ممبران یا چیئرمین اور ؍ یا وائس چیئرمین کو غلطیوں کا مرتکب مانتی ہے۔ اس طرح ان سب کا عہدہ نہایت معتبر اور با وقار و خود مختار ہے۔ اس لیے بغیر کسی دباؤ اور اثر کے ’’قومی اتھارٹی‘‘ کو کام کرنے کا موقع مل سکتا ہے، مگر حالات، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کے خلاف بھی ہوتے رہے ہیں، ان کے خلاف الزامات عائد ہوتے رہے ہیں، یہاں تک کہ سپریم کورٹ کے جج کو استعفیٰ تک دینا پڑا ہے۔ اس لیے تقرری میں شفافیت اور ان کو عہدوں سے ہٹانے کے سخت ضابطہ کے ساتھ کارکردگی کے لیے نہایت نیک نیتی کی ضرورت ہے جو صرف وقت پر ہی پرکھی جا سکتی ہے۔ ابھی تو صرف بل پاس ہونے کا مرحلہ ہی ہے۔
’’قومی اتھارٹی‘‘ کے فرائض درج ذیل ہوں گے :
فرقہ وارانہ فساد یا نشان زد تشدد کو روکنا، تشدد پھوٹنے، بڑھنے، بھڑکنے یا بھڑکانے کے اقدام کو روکنا، منصوبہ بند، نشان زد یا منظم فرقہ وارانہ فسادات کی روک تھام کرنا، ریلیف، بازآبادکاری، نقصان کی تلافی کرنا، اس ایکٹ کے ضوابط کے پیش نظر، رسائی برائے انصاف کے مقاصد کو حاصل کرنا، اور یہ سب کچھ بے لوث ہو کر کرنا ہوگا۔
خود بخود جرائم کی تفتیش کرنا، پبلک سروینٹ کی جانب سے فرقہ وارانہ تشدد کی روک تھام میں تساہلی یا کوتاہی کرنا، عدم دلچسپی کا اظہار کرنا، ان سب کے خلاف خود کارروائی کرنا قومی اتھارٹی کا فرض ہے۔
اسی طرح خود بخود اطلاعات حاصل کرنا، صوبائی اتھارٹی کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرنا، مضروب، مہلوک کی لسٹوں کا ریکارڈ تیار کرنا، فساد دوبارہ نہ پھوٹے، سازش کار کامیاب نہ ہوں، پھر سے کوئی ٹارگیٹ نہ بنایا جائے، ان سب پر مستقل نگاہ رکھنا اور رپورٹ سہ ماہی کم سے کم تیار کرنا۔
صوبائی ریلیف کیمپوں میں جانا اور حالات کا جائزہ لینا، عدالتوں کی سماعتوں کی نگرانی کرنا، فرقہ وارانہ فسادات میں یا ٹارگیٹ بنائے گئے لوگوں کی بنیاد پر چاہے تمام مقدموں یا ضرورت کے مطابق مقدموں میں فریق بن کر مظلومین کے لیے انصاف حاصل کرنا  –  اگر صوبائی اتھارٹی کی تفتیش سے مطمئن نہیں ہے تو یہ ’’قومی اتھارٹی‘‘ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ خود تفتیش کرے اور مجرم کو سزا دینے کے لیے اقدام کرے۔
قومی اتھارٹی کے اہم اختیارات :  فرائض کے ساتھ قومی اتھارٹی کو بے پناہ اختیارات حاصل ہیں۔ مجوزہ بل 2011 ’’رسائی برائے انصاف‘‘ کے تحت مندرجہ ذیل اختیارات حاصل ہوں گے جس سے استعمال سے بل کے مقاصد کے حصول میں کامیابی کے دروازے کھلنے کی امید ہے:
(1)  قومی اتھارٹی اپنے اختیارات کے تحت مرکزی و صوبائی حکومتوں سے یا یونین ٹیری ٹوری سے یا کسی بھی افسر یا حاکم یا شعبہ سے مطلوبہ اطلاع حاصل کرے گی۔
(2)  کسی بھی فرد، حاکم، افسر، عملہ کو کسی بھی تفتیش کے لیے کسی خاص مدت کے لیے تقرر کرے گی۔
(3)  کسی بھی صوبائی اتھارٹی کو ہدایت جاری کرکے کسی بھی تفتیش کے بارے میں اطلاع حاصل کرے گی بشرطیکہ مرکزی اتھارٹی کے ذریعہ جاری کسی بھی حکم نامہ کی پابندی صوبائی اتھارٹی کے لیے ضروری ہوگی۔
(4)  33(2) کے تحت قومی اتھارٹی کو ملے اختیارات کے پیش نظر سمن جاری کرنا، دستاویز طلب کرنا، اطلاع اور گواہی حاصل کرنا شامل ہے، اگرچہ یہ عام سوال عدالتوں جیسے اختیارات ہیں مگر 33(1) کے تحت ان اختیارات میں مضبوطی ملتی ہے۔
(5)  اگر مرکزی اتھارٹی صوبائی اتھارٹی کی کسی تفتیش سے مطمئن نہیں ہے تو خود اپنی تفتیش کرے گی، ایسا کرنا اس کے فرائض اور اختیارات دونوں میں شامل ہے۔
(6)  اگر قومی اتھارٹی رپورٹ کی بنیاد پر اس نتیجہ پر پہنچتی ہے کہ اسے ثبوت کے ساتھ یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ کسی پبلک سروینٹ نے اس ایکٹ کی کسی دفعہ کے خلاف تساہلی، طرفداری، بے توجہی، تعاون بے جا، یا کسی طرح سے بھی اپنے فرض منصبی کے خلاف کام کیا ہے، تو قومی اتھارٹی ایسے پبلک سروینٹس کے خلاف کارروائی کی شروعات کرے گی، یہاں تک کہ سپریم کورٹ، ہائی کورٹ سے رجوع کرے گی کہ ایسے نا اہل اور فرض ناشناس پبلک سروینٹس کے خلاف ضروری قانونی کارروائی کی جائے اور ایک ماہ کے اندر متعلقہ حکومت کو ایسے پبلک سروینٹس کے خلاف رپورٹ پیش کردے اور تفتیش کی ایک نقل مدعی کو بھی دے دیگی وغیرہ وغیرہ۔مگر یہ سب بے سود ہوگا اگر قانون بننے کے بعد اس کی تمام دفعات کو ان کے صحیح تناظر میں لاگو نہیں کیا جاتا ہے۔
(آخری قسط میں ملاحظہ فرمائیں کچھ اور قانونی نکات)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *