جامع مسجد کی سیڑھیوں پر شہریت مخالف احتجاج، تمام مذاہب کے لوگوں کی شرکت

لنچنگ (ہجومی تشدد) کے خلاف سب سے مؤثر تحریک چلانے والی سماجی تنظیم ’ناٹ ان مائی نیم (میرے نام پر نہیں )‘ نے دہلی کی جامع مسجد کی سیڑھیوں پر مرکزی حکومت کے سماج کو بانٹنے والا شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا، جس میں تمام مذاہب کے لوگوں نے شرکت کی اور اپنے اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ تنظیم کی سرکردہ شخصیت میں سے ایک راہل نے 18 جنوری کی اہمیت پر روشنی ڈالی جس کی مناسبت سے کل کا احتجاج منعقد کیا گیا تھا۔

راہل نے بتایا کہ 18 جنوری 1948 کو مہاتما گاندھی نے کئی تنظیموں بشمول آر ایس ایس اور ہندو مہاسبھا کی ہندوستان میں مسلمانوں کی حفاظت کی یقین دہانی کے اعلانیہ پر دستخط کے بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں ہندو مسلم اتحاد کے لئے 18 جنوری کی بہت اہمیت ہے۔ اس کے بعد تنظیم کی روح رواں سبا دیوان نے عوام کے سامنے وہ سات نکات پڑھ کر سنائے جن پر 18 جنوری 1948 کو تمام تنظیموں نے دستخط کیے تھے۔ اس اعلانیہ میں ہندوستان کے مسلمانوں کو مکمل حفاظت کی یقین دہانی کرائی گئی تھی اور اس اعلانیہ پر دستخط کے بعد ہی مہاتما گاندھی نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کی تھی۔

معروف شخصیت سہیل ہاشمی نے آئین کا تمہیدی بیان پڑھا جو وہاں موجود سینکڑوں لوگوں نے ان کے ساتھ پڑھا۔ سکھ سماج کے نمائندہ دیا سنگھ نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا جب تک اس ملک میں مسلمان اور سکھ موجود ہیں تب تک اس ملک کے سیکولر ڈھانچہ کو کئی خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ 84 کے سکھ مخالف فسادات کے لئے بھی آر ایس ایس ذمہ دار تھی اور آج کے حالات کے لئے بھی وہی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مودی اور شاہ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ملک کے تمام طبقات کو متحد کرا دیا ہے۔پرشوتم اگروال نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدم تشدد ہی بنیادی طور پر انسانیت ہے۔ انہوں نے 18 جنوری کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گاندھی جی کی بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لئے سنگھ اور ہندو مہاسبھا نے اس لئے دستخط کیے تھے کیونکہ ان میں سے کسی کی ہمت نہیں تھی کہ وہ گاندھی جی کے انتقال کی ذمہ داری اپنے سر لے سکیں۔ گاندھی جی کی شخصیت ایسی تھی اور اس شخصیت کی وجہ ان کی عدم تشدد کی تحریک تھی۔

اس مظاہرہ میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور مقامی لوگوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ جلسہ گاہ میں کوئی بد انتظامی نہ ہو اور کسی کو بھی کسی طرح کی کوئی پریشانی نہ ہو۔ یہ مظاہرہ لال کنواں دہلی سے کینڈل مارچ کی شکل میں شروع ہونا تھا لیکن لال کنواں پر شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پہلے سے چل رہے مظاہرہ کی وجہ سے ناٹ ان مائی نیم کے کارکنان نے اس جلسہ میں شرکت کی اور وہاں سے جامع مسجد پہنچے جہاں جمع ہو کر مظاہرین سے خطاب کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *