برسی: شائقین کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں اے کے ہنگل

Share Article
Anniversary: are alive today in the hearts of fans of hangul

شعلے فلم کا ایک مشہور ڈائیلاگ ‘اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی’ آج بھی لوگوں کی ذہن میں ہے اور اسی کے ساتھ ذہن میں آتا ہے ہنگل صاحب کا چہرہ۔ اے کے ہنگل 26 اگست 2012 کو دنیا کو الوداع کہہ گئے تھے۔ لیکن وہ بالی ووڈ کے ایسے آرٹسٹ رہے ہیں، جو آج بھی ناظرین کے دلوں میں زندہ ہیں۔

اے کے ہنگل کی پیدائش یکم فروری 1914 کو ہوئی تھی اور ان کا مکمل نام اوتار کشن ہنگل تھا۔ یہ بنیادی طور پر کشمیری پنڈت تھے، جنہوں نے اپنا زیادہ تر بچپن پشاور میں گزارا تھا۔ بھارت کی جنگ آزادی میں ہنگل نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا، اس کے لئے وہ تین سال تک جیل میں بھی بند رہے۔ لیکن شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا جیل سے باہر آنے کے بعد 1949 میں ہنگل ممبئی آگئے اور بالی و وڈ میں قدم رکھا۔ انہوں نے 1966 میں آئی فلم تیسری قسم سے بالی ووڈ میں انٹری کی۔ اس وقت ہنگل کی عمر 50 سال تھی۔ ہنگل بالی ووڈ میں سب سے زیادہ عمر میں قدم رکھنے والے پہلے اداکار تھے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کی یہ بالی وڈ کا وہ اداکار ہے جو بوڑھا ہی پیدا ہوا ہے۔

فلم ‘شعلے’ میں لوگ ان کی اداکاری کو بھلائے نہیں بھولتے،اس شاندار فلم میں ان کا بہت چھوٹا امام صاحب کے کردار میں تھے لیکن دمدار کردار رہا ۔ فلم ‘شوق’ میں ان کی رنگ مزاجی والی اداکاری بھی قابل تعریف ہے۔ اے کے ہنگل نے نمک حرام، شوق، شعلے، اوتار، ارجن،آندھی، تپسیا، کورا کاغذ، باورچی، چھپا رستم، چت چور، بالیکا بدھو اور گڈی جیسی کئی فلموں میں اداکاری کی ہے۔اپنے پورے کیریئر میں ہنگل نے 200 سے زیادہ فلموں میں اداکاری کی ہے، لیکن ان سب کے باوجود ہنگل کے آخری وقت اقتصادی بحران میں گزرا۔ علاج کے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے فلمی ستاروں نے اقتصادی طور پر ان کی مدد بھی کی۔ ہنگل نے 26 اگست 2012 کو آخری سانس لی۔فلمی دنیا میں اے کے ہنگل کو فلموں میں ان کی اداکاری اور شراکت کے لئے ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *