انا تحریک کو عوام سے جڑا ہونا چاہئے

Share Article

سنتوش بھارتیہ
انا ہزارے اور بابا رام دیو جیسے لوگوں کو ہوشیار ہو جانا چاہیے۔ اتنے دنوں کے بعد بھی انہیں یہ سمجھ نہیں آرہا کہ کون سا سوال اٹھانا چاہیے اور کون سا نہیں۔ ایک وقت آتا ہے جسے انگریزی میں سیچوریشن پوائنٹ کہتے ہیں۔ شاید جو نہیں ہونا چاہیے وہ ہو رہا ہے، یعنی جمہوریت سیچوریشن پوائنٹ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ جن روایتوں اور قدروں کی وجہ سے جمہوریت سب سے اچھے نظام کے طور پر جانی جاتی ہے، وہ روایتیں اور قدریں ہندوستان میں کسی بھی سیاسی پارٹی کو اب راس نہیں آرہی ہیں۔ اتنی چھوٹی سی بات انا ہزارے اور بابا رام دیو کو کیوں سمجھ میں نہیں آر ہی ہے۔ ان جیسے لوگ کیوں اس بھرم میں ہیں کہ ملک میں جمہوری طریقے سے آواز سنی جائے گی۔
انا ہزارے اور بابا رام دیو کو ایک اصول کو اور سمجھنا ہوگا۔ ہمارا قانون کہتا ہے کہ 4 لاکھ کروڑ چرانے کی سزا بھی وہی ہے، جو 4 آنے چرانے کی سزا ہے۔ آخر چوری چوری ہے، کورٹ اقتدار کی دلیل پر کہتا ہے کہ 4 آنے چرانے والے کو پہلے سزا دو اور 4 لاکھ کروڑ چرانے والے کو سزا دینے میں دیر کرو، شاید اسی لیے ان دنوں کئی محترم جج غلطی سے قانون کے شکنجے میں آ گئے ہیں۔ سرکار جسے چاہے اسے بے ایمان قرار دے دے، جسے چاہے اسے بے عزت کر دے، جسے چاہے اسے ملک کا غدار بنا دے، اور جب سب کچھ نہ کر سکے تو اسے دہشت گرد بنا دے، اور جب اس میں اس کا ساتھ اپوزیش کے ناطے کام کر رہی پارٹیاں دینے لگیں، تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ جمہوریت سیچوریشن پوائنٹ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ بابا رام دیو اور ان کے ساتھیوں کے اوپر سنگین الزام ہیں۔ کرن بیدی نے ایکونومی کلاس کا ٹکٹ لے کر بزنس کلاس کا کرایہ وصول کیا اور دونوں کے درمیان کا فرق آرگنائزیشن میں جمع کرا دیا۔ اروِند کجریوال اور منیش ششودیا کے ساتھ پرشانت بھوشن پر غیر اخلاقی الزامات لگائے گئے۔ بابا رام دیو کے ساتھی بال کرشن کو سی بی آئی نے جیل میں بھیج دیا۔ لیکن برسر اقتدار اور اپوزیشن سے جڑے لوگ کسی بھی الزام کے دائرے میں نظر نہیں آرہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر بدعنوانی یا کالے دھن کو لے کر ذرا بھی تیز آواز ہوگی تو اسے اقتدار اور اقتدار کی بی ٹیم، اپوزیشن اپنے لیے بغاوت کا نام دے دے گا اور بغاوت کی سزا ہندوستان کے آئین میں ہے۔ پہلے مانا جاتا تھا کہ بدعنوانی کرنا ملک سے غداری کرنے کا کام ہے، لیکن گزشتہ 20 سالوں میں اس میں تبدیلی آ گئی کہ اب بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانا ملک سے غداری ہے۔ اگر اس چھوٹی سی بات کو انا ہزارے اور رام دیو سمجھ جائیں تو وہ خود بھی تکلیف سے بچیں گے اور دہلی میں اقتدار اور اپوزیشن کا لکا چھپی کا کھیل کھیلنے والے سیاست داں بھی تکلیف سے بچیں گے اور ان سب کے ساتھ ممبئی میں نریمن پوائنٹ پر بیٹھے سرمایہ دار یا پیسے والے لوگ بھی آرام سے سو پائیں گے۔ ان کے آرام میں خلل ایک ڈر کی وجہ سے پڑ رہا ہے اور وہ ڈر ہے کہ انا ہزارے اور رام دیو کی وجہ سے اگر لوگوں میں کچھ نئی امیدیں پیدا ہوگئیں اور ان امیدوں کو پورا اگر یہ لوگ نہ کر پائے تو جو ناامیدی پیدا ہوگی، وہ ناامیدی انتشار اور نکسل واد کو بڑھاوا دے سکتی ہے۔ بڑے پیسے والوں کا ڈر ختم ہو سکتا ہے، جب ملک میں انا ہزارے اور رام دیو جیسے لوگ تھوڑا ادب سیکھ جائیں اور خاموشی اختیار کر لیں۔
انا ہزارے اور بابا رام دیو کی سمجھ سیاسی طور سے بھی بہت چھوٹی ہے۔ انہیں یہ کیوں نہیں دکھائی پڑ رہا کہ ان کا سامنا کون کر رہا ہے۔ غنڈہ گردی کی بات چھوڑ دیں تو سیاسی طور سے ان کا سامنا ملائم سنگھ، لالو یادو، نتیش کمار، شرد یادو اور رام ولاس پاسوان جیسے جنگجو لیڈروں سے ہے۔ ان کی سیاسی مخالفت کرنے میں کانگریس اور بی جے پی پیچھے چلی گئی ہے، اب ان کا سامنا کانگریس اور بی جے پی کی اوٹ سے یہ لیڈر کر رہے ہیں۔ ان لیڈروں کا وجود تحریکوں سے بنا ہے، یہ سارے لیڈر ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اور لوک نائک جے پرکاش نارائن کے شاگرد کہلاتے ہیں۔ ڈاکٹر لوہیا اور جے پرکاش نارائن نے غیر کانگریس اور فرقہ واریت مخالف تحریک چلائی۔ پر المیہ یہ ہے کہ یہ لیڈر کانگریس اور بی جے پی کی حمایت والے سسٹم کو بچانے میں لگ گئے ہیں۔ انا ہزارے اور رام دیو اپنی حکمت عملی سے متعلق کمزوری سے خود تو ہاریں گے ہی، اس ملک کے ان لوگوں کو بھی ہروا دیں گے جو تکلیف، دکھ اور درد سے کراہ رہے ہیں۔ اس کے پیچھے کوئی بہت بڑی وجہ نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی لڑائی میں ان لوگوں کو حصہ داری نہیں دی، جن کا مسئلہ ہندوستان کی جمہوریت بن رہا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اگر سرکاروں نے اور سرکار کا حصہ بن چکی اپوزیشن نے اپنا رویہ نہ بدلا اور عام لوگوں کی تکلیف، ان کی روٹی، ان کی بھوک، ان کی بیماری اور ان کی عزت کو ایڈجسٹ نہیں کیا تو نکسل واد کا اور انتشار کا خطرہ ان کے دروازے پر دستک دینے لگے گا۔ ابھی بھی کئی ریاستوں میں سرکاریں ہیں، لیکن شام کے 7 بجتے بجتے ان کا اقتدار صرف راجدھانی اور کچھ بڑے شہروں میں ہی رہ جاتا ہے، باقی جگہوں پر یا تو نکسل وادی ہوتے ہیں یا انتشار پیدا کرنے والے عناصر ہوتے ہیں۔ غریب، محروم کے من میں چل رہی آندھی کو جتنا سرکاریں اندیکھا کر رہی ہیں، اتنا ہی اندیکھا ہندوستان کی کارپوریٹ دنیا کر رہی ہے۔ کارپوریٹ دنیا سماجی ذمہ داری کے تحت اپنی عام ذمہ داری بھی پوری نہیں کر رہی ہے۔ کارپوریٹ دنیا میں بھی گروہ بن گئے ہیں، ایک گروہ نریندر مودی کو وزیر اعظم بنانا چاہتا ہے تو دوسرا گروہ راہل گاندھی کے پیچھے کھڑا ہو گیا ہے۔ کچھ کارپوریٹ گھرانے تو ایسے ہیں جنہوں نے راہل گاندھی کو ایک روپیہ اور نریندر مودی کو ساٹھ پیسے کی مقدار میں بجٹ ایلوکیٹ کر دیا ہے۔ اپنے ملک میں سیاسی پارٹیوں کے درمیان ہونے والی لڑائی کتنی ہوگی اور کیسی ہوگی، اس کا فیصلہ بھی چند بڑے گھرانے کر رہے ہیں۔ وہ آسانی سے سیاسی فیصلے بدلوا دیتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب سیاسی لیڈروں کے یہاں سرمایہ دار بہت ڈرتے ہوئے جاتا تھا کہ کہیں اسے کوئی دیکھ نہ لے، لیکن آج سرمایہ داروں کے یہاں سیاسی لیڈر اپنی حاضری لگوانے میں اپنی شان سمجھتے ہیں۔
جب اندرا گاندھی وزیر اعظم تھیں تو ان کے وزیر خزانہ ڈی پی چٹوپادھیائے تھے۔ ایک دن ڈی پی چٹوپادھیائے ایک بریف کیس میں 3 لاکھ روپے لے کر اندرا جی کے پاس چلے گئے۔ اندرا جی نے انہیں بہت ڈانٹا اور دھون کے ذریعے انہیں فوراً گھر سے نکال دیا اور حکم دیا کہ وہ یہ پیسہ پارٹی کے خزانچی سیتارام کیسری کو لے جا کر دے دیں۔ آج کے بڑے لیڈر اسے پارٹی میں ہی کنارے کر دیتے ہیں، جو انہیں پیسے نہیں پہنچاتا۔ انا ہزارے اور رام دیو، ان سچائیوں کو جب تک نہیں سمجھتے تب تک انہیں پریشان رہنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ وہ 14-15 وزیروں کے خلاف بدعنوانی کے الزام لگا رہے ہیں، تو سرکار کہہ رہی ہے کہ الزام غلط ہیں اور پھر انا ہزارے اور رام دیو لوک نائک جے پرکاش نارائن کی طرزپر نظام کو بدلنے کی بات کر رہے ہیں۔ لوک نائک جے پرکاش نارائن کے وارث ہونے کا دم بھرنے والے لوگ اب تحریکوں میں بھروسہ نہیں کرتے۔ لوگوں کے من میں مایوسی بھی جلدی آ جاتی ہے، اور یہ مایوسی اقتدار کے لیے بہت بڑا سہارا ہوتی ہے۔ ہر چیز خریدی جاسکتی ہے کی طرز پر عوام کی خوشی، خواب اور مستقبل خریدنے والے لوگ یہ نہیں جانتے کہ آج ہو یا کل، جب عوام کی تیسری آنکھ کھلے گی تو اس میں بہت کچھ برباد ہو جائے گا۔ لیکن انا ہزارے اور رام دیو اپنے ساتھ عوام چاہتے ہیں، خود عوام کے ساتھ کھڑے ہونا نہیں چاہتے۔ شاید یہی ان دونوں کا المیہ ہے۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *