انا نے کیوں کہا: آپ میرے نام اور تصویر کا استعمال نہ کریں

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار 

اچانک ایسی کیا بات ہوگئی کہ ٹیم انا اور انا کے درمیان اختلافات سامنے آگئے۔ ایسا کیا ہوگیا کہ انا اتنے ناراض ہو گئے کہ انہوں نے اروِند کجریوال اور ٹیم انا کے لوگوں سے کہا کہ نہ تو آپ میرے نام کا اور نہ میری تصویر کا استعمال کر سکتے ہیں۔ اس میں دو باتیں ہیں۔ سیاسی پارٹی بنانے کا اعلان جنتر منتر کی تحریک کے دوران نہیں ہوا تھا۔ بھوک ہڑتال کے تئیں سرکار اور کانگریس پارٹی بالکل بے پرواہ ہو گئی۔ بات چیت کے راستے ختم ہوگئے۔ اَنشن کر رہے لوگوں کی طبیعت بگڑنے لگی تھی۔ جب کوئی راستہ نہیں دکھائی دے رہا تھا، تب ملک کے کچھ بڑے بڑے لوگوں نے ایک لیٹر تیار کیا، جس کے ذریعے یہ اپیل کی گئی کہ آپ اِن اِن چیزوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے اَنشن واپس لے لیں، جس پر اَنشن واپس لے لیا گیا۔ اس کے تحت سیاسی پارٹی کی بات نہیں تھی، سیاسی متبادل کی بات تھی۔ مطلب یہ کہ ایک سیاسی متبادل تیار ہونا چاہیے، لیکن سوال یہ تھا کہ وہ سیاسی متبادل کیا ہو؟ سیاسی پارٹی کی شکل میں ہو، کوئی ایک ایسا سول سوسائٹی کا گروپ بنے، جو کسی سیاسی پارٹی کی حمایت کرے، کیوں کہ سیاسی متبادل ایک بڑا ہی الجھانے والا اور وسیع لفظ ہے، جس کے کئی مطلب نکالے جا سکتے ہیں۔

انّا ہزارے اور ٹیم انا الگ کیا ہوئے کہ ان کے مخالفین کو لگا کہ انہوں نے مہابھارت جیت لی۔ کانگریس پارٹی کے کئی لیڈروں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ انا کو اب عقل آئی ہے، کیوں کہ اروِند کجریوال اور ان کے ساتھی ان کا استعمال کر رہے تھے۔ کچھ نے یہ بھی کہا کہ ٹیم انا کے ممبر پہلے ہی سیاست کر رہے تھے اور آندولن کا یہ ناٹک صرف رکن پارلیمنٹ بننے کے لیے کیا جا رہا تھا۔ کیا انا ہزارے کے الگ ہونے سے بدعنوانی کے خلاف تحریک ختم ہو گئی، کیا ٹیم انا کی سیاسی پارٹی بنانا ایک غلطی ہے؟

سیاسی متبادل کی ضرورت کیوں ہے، انا کی مخالفت کا مطلب کیا ہے اور آگے کیا ہوگا، یہ سمجھنا ضروری ہے۔ جس دن یہ فیصلہ لیا گیا کہ تحریک روک کر ہم ایک سیاسی متبادل کی تلاش کریں گے، اس دن میڈیا نے یہ اعلان کر دیا کہ ٹیم انا اب ایک سیاسی پارٹی بنائے گی۔ جنتر منتر پر انڈیا اگینسٹ کرپشن کے کارکنوں کو بھی لگا کہ اب یہ تحریک سیاسی پارٹی میں تبدیل ہونے والی ہے۔ اچانک جنتر منتر پر ہنگامہ مچ گیا۔ وہاں اندھیرا تھا، ٹی وی چینلوں کے رپورٹر بہت کم تھے اور جو تھے، انہیں سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا ہو رہا ہے۔ انڈیا اگینسٹ کرپشن کے کئی کارکن آگ بگولہ تھے۔ وہ سیاسی پارٹی بنانے کے فیصلہ کی مخالفت کر رہے تھے۔ کئی کارکنوں نے اپنا بیچ، آئی کارڈ اور ٹی شرٹ وغیرہ پھینکنا شروع کر دیا۔ جنتر منتر پر ایسے ناراض لوگوں کی تعداد 100 سے زیادہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس تحریک میں سیاسی متبادل تیار کرنے کے لیے نہیں شامل ہوئے۔ انڈیا اگینسٹ کرپشن کی پوری تنظیم آئڈیولوجیکل طور پر بیچ سے ٹوٹ گئی۔ نوجوان کارکنوں کو لگا کہ بدعنوانی ختم کرنے کا صحیح راستہ صرف تحریک ہے۔ اُدھر ٹی وی چینلوں پر لگاتار لوگوں کی رائے لی جا رہی تھی کہ کیا انا ہزارے کو سیاسی پارٹی بنانا چاہیے یا نہیں۔ ہر چینل کی پولنگ یہی بتا رہی تھی کہ بغیر سیاسی پارٹی بنائے بدعنوانی ختم نہیں کی جاسکتی ہے۔ ویسے سچائی یہ بھی ہے کہ ٹیم انا نے سیاسی پارٹی بنانے کا فیصلہ تحریک شروع ہونے سے پہلے ہی کر لیا تھا، جس کا اعلان اَنشن کے دوران ہونا تھا۔
سیاسی پارٹی بنانے کے مدعے پر اروِند کجریوال اور ٹیم انا کی سوچ بہت صاف اور صحیح ہے۔ اگر اس ملک سے بدعنوانی کو ختم کرنا ہے، لوک پال بنانا ہے، سرکاری کام کاج میں شفافیت لانی ہے، تو اس کی کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی سے امید نہیں کی جاسکتی ہے۔ اگر افسروں کی جوابدہی طے کرنی ہے اور سرکاری مشینری کو عوام کے تئیں حساس بنانا ہے، تو پارلیمنٹ میں اچھے لوگوں کی ضرورت پڑے گی۔ اگر ملک میں غریبوں، دلتوں، اقلیتوں اور آدیواسیوں کی بات سننے والی سرکار اور ان کی ترقی کے لیے پالیسیاں بنانی ہیں تو سیاسی پارٹی کی ضرورت پڑے گی۔ اگر اس طرح کی تبدیلی کے لیے لوگ سڑک پر آتے ہیں تو وہ سڑک پر آتے ہی رہ جائیں گے، کیوں کہ دورِ حاضر میں سرکار بنانے والی سیاسی پارٹیاں سدھرنے والی نہیں ہیں۔ یہ بالکل صحیح بات ہے، کیوں کہ ان سیاسی پارٹیوں پر الیکشن، پیسے، چاپلوسی اور پیروی کا بوجھ ہوتا ہے۔ اس کے بغیر ان کا کام نہیں چلتا ہے۔ یہ الیکشن سے پہلے ہر صنعت کار سے بھیک مانگتے ہیں کہ پیسہ دو، کیوں کہ انہوں نے ملک کے اندر ایک ایسا سسٹم بنا لیا ہے کہ اگر آپ کروڑوں خرچ نہیں کر سکتے تو الیکشن نہیں جیت سکتے۔ اگر اس سسٹم کو بدلنا ہے تو تبدیلی پارلیمنٹ سے ہوگی۔ پارلیمنٹ میں اچھے لوگ جائیں تو وہاں سے یہ کھیل شروع ہوگا۔
اروِند کجریوال اور ٹیم انا کی یہ سوچ بالکل صحیح ہے، لیکن انا ہزارے کی رائے ٹیم انا کی رائے سے الگ ہے۔ دراصل، انا ہزارے ایک سچے گاندھی وادی ہیں، ایک اچھے آندولن کاری ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ کسی بھی جمہوریت میں عوام سب سے اوپر ہوتے ہیں، اس لیے عوام کی تحریک کے سامنے سرکار کو جھکنا ہی پڑے گا اور عوام کے دباؤ میں سیاسی پارٹیوں کو چال ڈھال، کردار اور چہرہ بدلنا پڑے گا۔ انا ہزارے کو عوام کی اس طاقت پر بھروسہ ہے اور اب تک وہ آندولن کرتے ہوئے کئی بار سرکاروں کو جھکانے میں کامیاب رہے ہیں۔ اچانک سے ان کے سامنے ایک ایسی صورتِ حال پیدا ہوگئی، جہاں ان کی تحریک ایک سیاسی پارٹی میں تبدیل ہونے جا رہی تھی۔ جس طرح گاندھی نے اپنے اصولوں کے لیے کئی تحریکوں کو بیچ میں ہی روک دیا تھا، ویسی ہی صورتِ حال انا کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ آندولن کیا جائے یا سیاسی پارٹی چلائی جائے، یہی سوال ان کے سامنے تھا۔ انا کا فیصلہ تحریک کے حق میں ہوگا، یہ پہلے سے ہی طے تھا۔ انا کا ماننا ہے کہ ایک سیاسی لڑائی تحریک سے ہٹ کر لڑنی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سیاسی پارٹی بنانے والے اپنے پیروکاروں سے الگ ہو گئے۔ انڈیا اگینسٹ کرپشن سے، انا کی تحریک سے نوجوانوں میں امید جگی۔ انہیں لگا کہ تحریک کے ذریعے ملک میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ ملک بھر کے نوجوان اور عام لوگ انا کی تحریک سے جڑ گئے۔ انا کے حامیوں میں ایسے لوگوں کی تعداد زیادہ ہے، جو سیاست کو حقارت آمیز نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس لیے اگر ٹیم انا سیاسی پارٹی میں تبدیل ہو جاتی ہے تو ایسے لوگ، جو ملک میں تحریک چلانا چاہتے ہیں، آواز اٹھانا چاہتے ہیں، ان کے لیے پھر کوئی جگہ نہیں بچتی۔ سچائی یہ ہے کہ بدعنوانی کے خلاف مضبوط تحریک جاری رہے، یہی وقت کی مانگ ہے اور ساتھ ہی ایک سیاسی متبادل تیار ہونا بھی ضروری ہے۔ اس لیے جو تحریک چلا رہے ہیں، وہ بھی صحیح کر رہے ہیں، وہ انا کے ساتھ ہو جائیں گے اور وہ لوگ، جو اس بات میں یقین کرتے ہیں کہ بغیر سیاسی پارٹی کے، بغیر سیاسی متبادل کے، پارلیمنٹ میں اچھے لوگوں کو بھیجے بغیر کوئی حل نہیں نکل سکتا، ان کے لیے ٹیم انا کام کرے گی۔ سارے میڈیا نے کہا کہ ٹیم انا ٹوٹ گئی، ختم ہو گئی، ٹیم انا کو تو الیکشن ہی لڑنا تھا، لیکن یہ غلط تجزیہ ہے۔ سب سے بڑی بات یہ نظر آ رہی ہے کہ بدعنوانی کے خلاف جو تحریک اس ملک میں تیار ہوئی ہے، اس میں یہ پھوٹ ایکسیلیٹر کا کام کرے گی۔ اسے تحریک کے پھیلاؤ کی شکل میں دیکھنا چاہیے۔ چراغ بھی جلے گا، ووٹنگ بھی ہوگی اور تحریک چلانے والے یہی لوگ پارلیمنٹ کے اندر بیٹھ کر پالیسیاں بھی بنائیں گے۔
ایک خبر آئی کہ بابا رام دیو، انا ہزارے اور جنرل وی کے سنگھ کی ملاقات کسی جگہ پر ہوئی اور اگر یہ تینوں اس تحریک کو آگے بڑھاتے ہیں تو اس ملک کے لیے اس سے اچھی خبر آج کی تاریخ میں کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ لوک پال، کالا دھن اور بدعنوانی کے خلاف عوامی بیداری پیدا کرنے میں ان تینوں کا بڑا رول ہے۔ اس لیے یہ تینوں تبدیلی کی اس تحریک کے نیچرل لیڈر ہیں۔ ان کے پاس وہ اخلاقی اختیار ہے، جن سے لوگوں میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے ان تینوں کا ایک ساتھ آنا بہت بڑی بات ہے اور ہندوستان کے لیے اس سے بہتر کچھ نہیں ہو سکتا۔ یہ تینوں ایک ساتھ آئیں اور ملک میں لوٹ کھسوٹ کرنے والے نظام، وزیروں اور نوکرشاہی کو بے نقاب کریں۔ لوٹ کھسوٹ کے اس پورے نظام کو ایک عوام حامی، غریبوں سے ہمدردی رکھنے والے سسٹم کے روپ میں تبدیل کریں، ایسی امید کرنی چاہیے۔ کچھ منفی باتیں میڈیا میں پھیلائی جا رہی ہیں کہ ٹیم ٹوٹ گئی، انا الگ ہو گئے، رام دیو بھی الگ ہو گئے، تحریک ختم ہو گئی وغیرہ وغیرہ۔ ایسے لوگوں کو ایک بات معلوم نہیں ہے کہ عوام جب تک خود کو ٹھگا ہوا محسوس کریں گے، جب تک انہیں لگے گا کہ ٹیکس کے نام پر سرکار لوٹ رہی ہے، جب تک انہیں لگے گا کہ ملک میں بدعنوانی ہے، یہ ملک لوگوں کو غلام بنا کر رکھ رہا ہے، جب تک وہ مہنگائی سے پریشان رہیں گے، تب تک تحریکیں ختم نہیں ہوں گی۔ تحریکیں چلیں گی اور زیادہ مضبوطی سے چلیں گی۔
آج انا الگ ہوئے ہیں، کل جڑ بھی سکتے ہیں۔ یہ تحریک ہے۔ کانگریس پارٹی جب آزادی کی لڑائی لڑ رہی تھی، اس دوران بہت سارے لوگ باہر ہو گئے تھے۔ سبھاش چندر بوس نے تحریک چھوڑ دی تھی، مہاتما گاندھی روٹھ کر گھر بیٹھ جاتے تھے، پارٹی کی بات نہیں مانتے تھے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ سب کچھ ختم ہو گیا تھا۔ اس کا اس نظریہ سے تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ بات بہت عام سی ہے، یہ ملک بحران کے دور سے گزر رہا ہے اور جب تک یہ بحران ہے، تب تک تحریک ہے۔ لیڈر پیدا ہوں گے، بحران میں ہی سماج میں تبدیلی ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں، جو ریاستوں میں حکومت چلا رہی ہیں اور مرکز میں بھی، ان کے پاس موقع ہے اِن سچائیوں کو سمجھنے کا، ان کے مطابق پالیسیاں اختیار کرنے کا۔ لیکن وہ ٹھیک اس کے برخلاف کر رہی ہیں۔ ایک استثنیٰ ہے۔ ہمیں ممتا بنرجی کو سلام کرنا چاہیے، کیوں کہ وہ ایک امید جگاتی ہیں کہ آج بھی ملک میں سیاست کرنے والوں میں ایسے لوگ ہیں، جو اصول کے لیے، آئڈیولوجی کے لیے، عوام کے حق کے لیے لڑ سکتے ہیں، ایف ڈی آئی، رسوئی گیس میں کمی یا مہنگائی کے خلاف۔ ایسی سیاسی پارٹیاں بہت کم ہیں، جو عوام کا درد اپنے ساتھ لے کر 6-6 وزارتوں کو ٹھوکر مار دیں۔ یہ بتاتا ہے کہ آنے والے دنوں میں تبدیلی طے ہے، بدعنوانی ختم ہونا بھی طے ہے۔ اس میں کتنا وقت لگے گا، نہیں معلوم، لیکن ایک اشارہ جو ممتا بنرجی نے دیا ہے، وہ مثبت ہے۔ آنے والے دنوں میں سیاسی ماحول بھی اس ملک میں بدلے گا۔ اس لیے جو لوگ شفاف ہیں، جو غریبوں، اقلیتوں اور آدیواسیوں کے لیے کھڑے ہو رہے ہیں، وہ چاہے اروِند کجریوال ہوں، انا ہزارے ہوں، جنرل وی کے سنگھ ہوں یا بابا رام دیو، ان کا اس ملک میں استقبال ہونا چاہیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *