انّا کو ابھی بھی کجریوال جیسے پانچ سو افراد پیدا کرنے ہیں

Share Article

سنتوش بھارتیہ
گزشتہ دنوں ایک حیران کن بات ہوئی۔ ایک تحریک سے وابستہ دوست میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ انا ہزارے نے بھسما سُر پیدا کر دیا ہے۔ میں چونکا! میں نے ان سے پوچھا، بھسما سُر! کون؟ تو انہوں نے اروِند کجریوال کا نام لیا اور کہا کہ انا نے تحریک کی حصولیابی کے روپ میں اروِند کجریوال ملک کو دیا۔ میں نے پوچھا، اس میں بھسما سُر والی کیا بات ہوئی، تو انہوں نے جواب دیا کہ اروِند کجریوال اگر صرف انا سے اپنے راستے جدا ہونے کی بات کو سچ ثابت کرتے، تو کوئی بات نہیں تھی، کیوں کہ دونوں نے الگ الگ کہا ہے کہ ہماری منزل ایک ہے، لیکن ہمارے راستے الگ ہیں۔ لیکن اروِند کجریوال تو انا کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
انا کو اروِند کجریوال کیسے ختم کر سکتے ہیں، یہ میری سمجھ میں نہیں آیا، لیکن انہی دوست نے یہ کہا کہ اروِند کجریوال نے پارٹی بنانے کے بعد ایک بار بھی انا ہزارے سے رابطہ قائم نہیں کیا۔ رشتوں کی ایک خوبصورتی ہوتی ہے، لیکن اروِند کجریوال نے اس کی خوبصورتی کو بھی ختم کر دیا اور وہ ایسے حالات پیدا کر گئے کہ انا ہزارے رالے گن سدھی میں رہنے کے لیے مجبور ہو گئے۔ انا رالے گن سدھی میں اروِند کجریوال کی وجہ سے رہے یا غور و فکر کر رہے تھے، یہ تو معلوم نہیں، لیکن نتیجہ کچھ ویسا ہی نکلا اور اب ہمیں اروِند کجریوال کے ساتھیوں کی بات سننے کو مل رہی ہے۔ دوسرے سدھانت شاستری کہتے ہیں کہ عام آدمی پارٹی نے دہلی میں الیکشن جیت کر انا ہزارے کو غلط ثابت کر دیا۔ اس کے علاوہ تو زیادہ تر یہی کہتے ہیں کہ انا ہزارے تھے کیا؟ مہاراشٹر میں بھی ان کی تحریک کو کوئی نہیں پوچھتا تھا۔ ہم لوگ ہی انہیں دہلی لے کر آئے، انہیں ملک میں لیڈر بنایا اور انہوں نے لیڈر بننے کے بعد پہلی بار اگر کسی کو دھوکہ دیا یا پہلی بار اگر کسی کو حاشیہ پر لانے کی کوشش کی، تو یہ وہی لوگ تھے، جنہوں نے انہیں لیڈر بنایا۔

انا ہزارے نے یہ تو کہہ دیا کہ اروِند کجریوال کو لوک سبھا کا الیکشن نہیں لڑنا چاہیے اور انہیں دہلی میں اپنا دھیان مرکوز کرنا چاہیے، تو پھر لوک سبھا کا الیکشن کون لڑے گا؟ شاید انا کے دماغ میں دو باتیں ہیں۔ یا تو انا ہزارے موجودہ سیاسی پارٹیوں میں ایسی طاقتوں کو تلاش کر رہے ہیں، جن کا نئی اقتصادی پالیسیوں میں اعتماد ہو اور جو لوگوں کو یقین دلا سکیں کہ جو وعدہ وہ کر رہے ہیں، اسے پورا کریں گے۔ یا پھر انا ہزارے الیکشن میں کھڑے ہونے والے ایسے امیدواروں کا انتخاب کریں گے، جو مقابلتاً داغی یا مجرم نہیں ہیں اور جن کا ملک کے عوام میں بھروسہ ہے۔ لیکن یہاں سوال اٹھتا ہے کہ اچھا امیدوار بھی ایک پارٹی سیٹ اَپ میں ہے اور وہ پارٹی ان پالیسیوں میں بھروسہ نہیں کرتی، جنہیں انا ہزارے قائم کرنا چاہتے تھے۔ تو اگر وہ جیت بھی گیا، تو پارلیمنٹ میں کیا کر پائے گا؟

انا کو لے کر ایک دوسری طرح کی بات بھی پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے اور وہ بات ہے ایک افواہ جیسی۔ لوگ کہتے ہیں کہ دہلی میں انا کی سرکار بن گئی۔ یہ وہ لوگ ہیں، جن کا انا کی اخلاقی طاقت پر بھروسہ ہے۔ ان کی تحریک سے انہیں طاقت ملی، ان میں بھروسہ جگا کہ وہ ملک میں کچھ کر سکتے ہیں۔ پہلی بار اتنے بڑے ملک میں لوگ کھڑے ہوئے۔ بچے، بوڑھے، جوان، سب نے نعرے لگائے اور کمال کی بات یہ کہ پورے ملک میں کہیں ایک خوانچہ بھی نہیں لُٹا۔ اب تک لوگ سیاسی پارٹیوں کے جلوسوں کو دیکھتے تھے۔ ان میں حصہ لینے جب بھیڑ چلتی تھی، تو اسٹیشن کے اسٹیشن لُٹ جاتے تھے۔ شاید اسی لیے دہلی میں ہوئی تبدیلی نے ملک میں ایک تصور پیدا کیا کہ یہ سرکار انا کی سرکار ہے۔ دونوں ہی باتیں صحیح نہیں ہیں۔ تحریک کرنے والے دوست کا یہ ماننا کہ انا نے بھسما سُر پیدا کیا، جتنا غلط ہے، اتنا ہی غلط یہ تصور ہے کہ دہلی میں انا کی سرکار چل رہی ہے۔
میں اس کو اس طرح سے دیکھتا ہوں کہ گھنا کہرا تھا اور اس کہرے میں انا امید کی کرن بن کر ابھرے، لوگوں کو سمت دکھائی۔ ایک منتھن ہوا۔ اس منتھن سے نظریہ کے طور پر دو راستے نکلے۔ انا لوک سبھا کو تبدیلی کا راستہ مانتے تھے اور ان کا ماننا تھا کہ لوک سبھا کے انتخابات میں عوام کے امیدوار کھڑے ہونے چاہئیں۔ لیکن دوسری طرف اروِند کجریوال کا ماننا تھا کہ دہلی کے انتخابات مقابلتاً چھوٹے ہیں، کم خرچ میں لوگوں کو لایا جا سکتا ہے، اس لیے اگر یہاں ہم جیتے، تو ملک میں ہم ایک نئی امید پیدا کریں گے۔ انا کا کہنا تھا کہ اگر ذرا بھی غلطی ہوئی، تو دہلی کا تجربہ کاؤنٹر پروڈکٹیو ہو جائے گا اور لوک سبھا کے امکانات مندمل ہو جائیں گے۔ انا کا یہ بھی ماننا تھا کہ ضروری نہیں، اسمبلی کے الیکشن میں جتنے لوگ امیدوار بنیں، وہ نظریاتی طور سے متفق ہوں ہی۔
لیکن انا نے اس منتھن سے ملک کو ایک شخصیت دی، جس کا نام اروِند کجریوال ہے اور جو ایک نئے ستارہ کے روپ میں ابھرا۔ انا آج بھی کہتے ہیں کہ اروِند کجریوال کے انفرادی عزم میں کوئی بھی شک نہیں ہے اور دہلی میں اروِند کجریوال اپنی صلاحیت کے حساب سے جو کریں گے، وہ ٹھیک کریں گے۔ اب انا کے سامنے لوک سبھا الیکشن کی چنوتی ہے۔ انا نے ایک اروِند کجریوال پیدا کیا، لیکن اب ان کے سامنے چنوتی ہے کہ وہ پانچ سو کجریوال کیسے پیدا کریں؟ انا اسی فکر میں مبتلا ہیں، کیوں کہ پانچ سو اروِند کجریوال پیدا کرنا ملک کو بدلنے کے لیے ضروری ہے۔ اگر ایک کجریوال بنے رہے، تو جہاں ملک کے تمام سیاسی لیڈروں میں صرف ایک لیڈر کی بڑھت ملے گی، لیکن اگر پانچ سو کجریوال پیدا ہوتے ہیں، تو ملک میں نظام میں تبدیلی کا راستہ صاف ہوگا، کیوں کہ اس حالت میں لوک سبھا میں زیادہ تر ایسے ممبرانِ پارلیمنٹ کی ضرورت ہے، جن کا بھروسہ ملک کے لوگوں میں ہو، ملک کے لوگوں کے مسائل میں ہو اور ان مسائل کو حل کرنے والی پالیسیاں بنانے میں ان کا نظریہ صاف ہو۔ اگر وہ نظریہ صاف نہیں رکھتے، تو پھر وہ کچھ مسائل تو حل کر پائیں گے، لیکن مسائل کو حل کرنے اور مسائل آگے نہ پیدا ہونے والی پالیسیاں نہیں بنا پائیں گے۔
انا ہزارے نے یہ تو کہہ دیا کہ اروِند کجریوال کو لوک سبھا کا الیکشن نہیں لڑنا چاہیے اور انہیں دہلی میں اپنا دھیان مرکوز کرنا چاہیے، تو پھر لوک سبھا کا الیکشن کون لڑے گا؟ شاید انا کے دماغ میں دو باتیں ہیں۔ یا تو انا ہزارے موجودہ سیاسی پارٹیوں میں ایسی طاقتوں کو تلاش کر رہے ہیں، جن کا نئی اقتصادی پالیسیوں میں اعتماد ہو اور جو لوگوں کو یقین دلا سکیں کہ جو وعدہ وہ کر رہے ہیں، اسے پورا کریں گے۔ یا پھر انا ہزارے الیکشن میں کھڑے ہونے والے ایسے امیدواروں کا انتخاب کریں گے، جو مقابلتاً داغی یا مجرم نہیں ہیں اور جن کا ملک کے عوام میں بھروسہ ہے۔ لیکن یہاں سوال اٹھتا ہے کہ اچھا امیدوار بھی ایک پارٹی سیٹ اَپ میں ہے اور وہ پارٹی ان پالیسیوں میں بھروسہ نہیں کرتی، جنہیں انا ہزارے قائم کرنا چاہتے تھے۔ تو اگر وہ جیت بھی گیا، تو پارلیمنٹ میں کیا کر پائے گا؟
تو کیا انا ہزارے ملک میں پچاس یا سو ایسے امیدوار کھڑے کرنے کے بارے میں سوچیں گے، جن کی رائے نئی اقتصادی پالیسیوں یا بازار پر مبنی اقتصادی پالیسیوں کے خلاف ہو اور جو انا ہزارے کو اپنا حلف نامہ دیں، عوام کے تئیں اپنا اعتماد ثابت کریں۔ لیکن ایسے آزاد امیدوار ان لوگوں کے آسان شکار بن جائیں گے، جو پیسے کے دَم پر سرکاریں خریدتے ہیں، سرکاروں سے فیصلے کراتے ہیں، سرکاریں یا پھر وزیر بنواتے ہیں۔
یہ سارے سوال ہیں۔ ان سوالوں کا جواب کیا ہوگا، کسی کو نہیں معلوم۔ آج شاید انا ہزارے کے پاس بھی اس کا جواب نہیں ہے۔ لیکن میں اس رائے سے متفق نہیں ہوں کہ انا ہزارے نے سیاست میں بھسما سُر پیدا کیا ہے، بلکہ میں اس رائے سے متفق ہوں کہ انا ہزارے کو ابھی اروِند کجریوال جیسے پانچ سو افراد پیدا کرنے ہیں۔ اور ایسے، جو اگست 2011 کے اروِند کجریوال ہیں، دسمبر 2013 کے اروِند کجریوال نہیں، جو کوشش کرکے انا سے اپنی دوری بنا رہے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *