انا کی تحریک کا اثر نظر آنے لگا ہے

Share Article

نیرج سنگھ 
Mastپانچ ریاستوں کے حالیہ انتخابات سے پہلے ملک کے دانشور طبقہ کے درمیان ایک بحث چل رہی تھی کہ یہ انتخابات اس لیے اہم ہیں، کیوں کہ ملک بیداری کی راہ پر آگے بڑھ رہا ہے۔ انتخابات کے نتائج آئے اور ان نتائج میں لیڈر نہیں جیتے، عوام کی جیت ہوئی۔ وہ عوام جنہوں نے اپنے اوپر اِن الزامات کی چادر اوڑھ لی تھی کہ وہ ووٹ دینے گھر سے باہر نہیں نکلتے۔ جن کے اوپر الزام تھا کہ وہ ذات پات کی سوچ کے ساتھ پولنگ بوتھ تک آتے ہیں۔ وہ عوام جن کے اوپر الزام تھا کہ وہ علاقائیت کے دائرے میں قید ہیں۔ یہ عوام کے ذریعے چوطرفہ پیدا کیے گئے دباؤ کی ہی جیت ہے کہ سرکار جن لوک پال جیسے عوامی مفاد کے موضوعات پر بحث کرنے کے لیے مجبور ہوئی ہے۔ ان سب سے بڑھ کر عوام کو جو سب سے بڑی جیت ملی، وہ ہے پاور ٹو دی پیوپل۔
غور کریں تو تبدیلی کی اس مہم کا منظرنامہ ایک دن میں تیار نہیں ہوا ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے ہمیں دو سال پیچھے لوٹنا ہوگا، جب انا ہزارے نے جنتر منتر اور رام لیلا میدان سے جن لوک پال کی مشعل جلائی تھی۔ ملک نے کروٹ بدلی اور پھر سے ایک بار ’’سنگھاسن (تخت) خالی کرو کہ جنتا آتی ہے‘‘ جیسے جملے لوگوں کی زبان پر چڑھنے لگے۔ اسی دور میں انا ہزارے نے کہا تھا کہ میں تو محض ایک کاز ہوں، اصلی لڑائی تو آپ کو لڑنی ہے۔ ملک کے نوجوان قابل مبارکباد ہیں کہ وہ اس مشعل کو لے کر آگے بڑھے اور تبدیلی کے گواہ بنے۔
گزشتہ دو سالوں میں ملک میں سماجی سطح پر کئی بار ہم نے عوام کی آواز سنی، جو سسٹم کو صحیح راستے پر لانے کے لیے زور آزمائش کر رہے تھے۔ کوئی بھی طبقہ ہو، جب اسے لگا کہ سسٹم بدلنا ضروری ہے، تو اس نے آواز اٹھائی اور لوگ ساتھ ہو لیے۔ پھر چاہے وہ ہزاروں پیروکاروں کے ساتھ ہونے کا دعویٰ کرنے والے نام نہاد مذہبی رہنما ہوں، صحافی ہوں، جج ہوں، سیاسی لیڈر ہوں، جو بھی شک کے دائرے میں آیا، اسے عوام کی عدالت میں آنا ہی پڑا۔ دامنی کو انصاف دلانے کے لیے انڈیا گیٹ پر امڈی بھیڑ اور یو پی ایس سی میں انگریزی کے بڑھتے ہوئے اثر کی مخالفت کر رہے پارلیمنٹ کی گھیرا بندی کرنے والے طلبہ حقیقت میں امن کے راستے پر بڑھتے ہوئے اپنے مطالبات کو رکھ رہے تھے، جو راستہ انا ہزارے نے دکھایا ہے۔ ملک بھر سے ایسی ہی مثالیں سامنے آنے لگیں۔ سیاسی سطح پر ابھی ایسی مثالیں سامنے نہیں آ رہی تھیں۔ اسی درمیان اکتوبر 2011 میں ہریانہ کے حصار میں ذیلی انتخاب ہوا۔ انا ہزارے نے حصار کے عوام سے اپیل کی کہ چونکہ کانگریس جن لوک پال کے توسط سے آپ کے ہاتھوں میں طاقت نہیں دینا چاہتی، اس لیے آپ اسے ہرائیے۔ کانگریس الیکشن ہار گئی۔ انا کے ساتھ آکر عوام نے تبھی اس بات کی آہٹ دی تھی کہ ملک ایک بار پھر سیاسی بیداری کے اسی دور میں لوٹ رہا ہے، جس کی ایک مثال 70 کی دہائی میں دکھائی دی تھی۔ لیکن 70 کی دہائی میں سیاسی بیداری اور آج کی سیاسی بیداری میں فرق ہے۔ انا نے اندرا ہٹاؤ کی طرز پر سونیا ہٹاؤ کی اپیل نہیں کی۔ انا کی اپیل ہے سسٹم میں عملی تبدیلی لانے کی، عوام کی حصہ داری بڑھانے کی اور فریق اور پارٹیوں کے ذریعے کیے گئے آئینی قبضے کو ختم کرنے کی۔ سیاست سے ذات پات، علاقائیت اور اقربا پروری ختم کرنے کی۔ انا رائٹ ٹو رجیکٹ، رائٹ ٹو ریکال، نن آف دی ایبو اور گرام پنچایتوں کو اور طاقت دینے جیسے ایشوز کی مانگ کرتے رہے۔ گزشتہ دو سالوں سے انا اپنے اس پیغام کو لے کر عوام کے درمیان جن تنتر یاترا کرتے رہے۔ اس یاترا کے بعد یہ پہلا موقع تھا، جب ملک میں کوئی بڑا انتخابی ماحول بنا تھا۔ اس لیے پانچ ریاستوں کے ان اسمبلی انتخابات میں جتنا امتحان انا ہزارے کے اصولوں کا تھا، اس سے کہیں زیادہ ان ریاستوں کے عوام کا تھا کہ وہ حقیقت میں تبدیلی چاہتے ہیں یا اسی بدحال سیاسی ڈھرے پر بنے رہنا چاہتے ہیں۔ اور ان انتخابی نتائج نے واضح کر دیا کہ لوگ تبدیلی چاہتے ہیں، بس انہیں صحیح قیادت اور صحیح رہنمائی کی ضرورت ہے۔
سبھی ریاستوں میں زیادہ تر موجودہ ایم ایل اے وزیر الیکشن ہار گئے، عوام نے ان کو خارج کر دیا۔ پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار دہلی سے 70 میں سے 55 اور چھتیس گڑھ میں 90 میں سے 49 ممبرانِ اسمبلی کو شکست کا منھ دیکھنا پڑا۔ چھتیس گڑھ میں بی جے پی نے اپنے 50 میں سے 37 ممبرانِ اسمبلی کو دوبارہ موقع دیا تھا، جن میں سے 21 الیکشن ہار گئے۔ وہیں کانگریس نے 38 میں سے 34 ممبرانِ اسمبلی کو پھر سے موقع دیا تھا، جن میں سے 27 الیکشن ہار گئے۔ راجستھان میں گہلوت سرکار کے 22 وزیر الیکشن ہار گئے۔ مدھیہ پردیش میں شو راج سنگھ چوہان کے 10 وزیر الیکشن ہار گئے۔ دہلی میں کانگریس کے لیڈر چودھری پریم سنگھ 1958 سے آج تک لگاتار الیکشن جیتتے آ رہے تھے، وہ بھی تبدیلی کی اس لہر میں بہہ گئے۔ حقیقت میں یہ صرف اینٹی اِن کمبینسی نہیں ہے۔ یہ ناراضگی ہے ان امیدواروں سے، جو صرف وعدوں کے سہارے اپنی سیاسی زمین تلاش کر رہے تھے۔ عوام نے انہیں خارج کر دیا ہے۔
تبدیلی کی اس لہر نے ذات پات اور علاقائیت پر مبنی سیاست کے دائرے کو بھی توڑا۔ حالانکہ جن ریاستوں میں الیکشن ہوئے، وہاں اہم پارٹی کے طور پر بی جے پی اور کانگریس ہی تھی، لیکن تیسری پارٹی بننے کے لیے سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی نے پوری طاقت جھونک دی تھی۔ مدھیہ پردیش، دہلی، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں سماجوادی پارٹی کا کھاتہ بھی نہیں کھل سکا۔ پچھلی بار سماجوادی پارٹی کو مدھیہ پردیش اور راجستھان میں ایک ایک سیٹ ملی تھی۔ دہلی اور چھتیس گڑھ میں بھی اس کا کوئی امیدوار نہیں جیت سکا۔ بی ایس پی بھی 17 سے 8 سیٹوں پر آگئی۔ دہلی، راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے پچھلے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کو 17 سیٹیں ملی تھیں۔ اس بار سیٹوں کی تعداد 8 پر سمٹ گئی۔ دونوں ہی پارٹیوں کی بنیاد ذات پات ہے اور اسی میں وہ اپنا مستقبل تلاش کر رہی ہیں۔ ذات پات سے آگے بڑھ کر علاقائیت کی طرف چلیں، تو اسے بنیاد بنا کر الیکشن لڑنے والی پارٹیوں کو بھی ووٹروں نے آئینہ دکھایا۔ دہلی میں اپنی پارٹی کے حق میں پرچار کرتے ہوئے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار دہلی میں گھوم گھوم کر بہاری آبادی کو اپنی مٹی کی یاد دلاتے ہوئے ووٹ مانگ رہے تھے، بہاری اعزاز کی یاد دلا رہے تھے۔ لیکن جب نتیجے سامنے آئے، تو جے ڈی یو کے 27 امیدواروں میں سے 26 کی ضمانت ضبط ہو گئی۔ جس مٹیا محل اسمبلی حلقہ سے جے ڈی یو کے امیدوار الیکشن جیتے ہیں، وہاں بہاری ووٹروں کی تعداد نہ کے برابر ہے۔ وزیر اعلیٰ وہاں ریلی کرنے بھی نہیں گئے تھے۔ صاف ہے، ووٹروں نے ووٹ علاقہ کی بنیاد پر نہیں، بلکہ امیدوار کی بنیاد پر دیا۔
انا ہزارے نے سیاسی پارٹیوں میں شفافیت کے لیے تقریباً ہر پلیٹ فارم سے کہا کہ سیاست کو اگر اپنی کھوئی ہوئی شان حاصل کرنی ہے، تو سیاست سے جرائم کی ذہنیت رکھنے والے لوگوں کو باہر کرنا ہوگا۔ مدھیہ پردیش اسمبلی میں اس بار منتخب ہونے والے ممبران کی اچھی بات یہ ہے کہ 67 فیصد امیدوار ایسے ہیں، جو پڑھے لکھے ہیں۔ یہ تعداد صرف مدھیہ پردیش کی ہی نہیں ہے، بلکہ راجستھان، دہلی اور چھتیس گڑھ اسمبلی کی بھی ہے۔ مدھیہ پردیش میں بی جے پی، کانگریس اور بی ایس پی تینوں پارٹیوں کے کل 120 امیدواروں میں سے 77 امیدوار ایسے تھے، جن کے خلاف جرائم پر مبنی سنگین معاملے درج ہیں اور یہ سبھی الیکشن ہار گئے۔
دہلی میں مجرمانہ پس منظر رکھنے والے ممبرانِ اسمبلی کی تعداد میں 7 فیصد کی کمی آئی ہے۔ گزشتہ الیکشن میں 43 فیصد (تعداد 29) ایم ایل اے اسمبلی میں پہنچے تھے۔ یہ تعداد اس بار 36 فیصد (تعداد 25) تک سمٹ گئی ہے۔ سنگین معاملوں والے 94 امیدواروں میں سے 74 کو عوام نے خارج کر دیا۔ نکسل متاثرہ ریاست چھتیس گڑھ جرائم کے نقطہ نظر سے چاروں ریاستوں میں سب سے صحت مند اسمبلی کے طور پر ابھر کر آیا ہے، یعنی اس بار اسمبلی میں سب سے کم مجرم پہنچ سکے۔ ان انتخابات میں اقربا پروری کو بھی نقصان پہنچا۔ کئی لیڈروں کے بیٹے اور بیٹیاں الیکشن ہار گئے۔ سیاسی بپوتی کا طلسم ٹوٹا۔ شیلا دکشت کا نام ایسی ہی مثالوں میں شامل کیا جائے گا۔ g
اسی سال نومبر مہینہ میں الہ آباد یونیورسٹی میں انا ہزارے کی ایک ریلی ہونی تھی، جس میں ریاست کی سبھی یونیورسٹیوں سے طلبہ شرکت کر رہے تھے۔ صحت ٹھیک نہ ہونے کے سبب انا ہزارے اس ریلی میں شامل نہیں ہو پائے۔ انہوں نے یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین کے عہدیداروں کو مخاطب کرتے ہوئے خط لکھا، جس میں انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے میں یہ کہتا آ رہا ہوں کہ طلبہ کی طاقت ہی قوم کی طاقت ہے۔ ماضی میں طلبہ کی سیاست نے ہمیشہ ہی مرکزی سیاست کی سمت طے کی ہے۔ لیکن فریق اور پارٹیوں نے انہیں اپنی جیب کی تنظیم بنا لیا ہے۔ طالب علموں کو اس سے آزاد ہونا ہوگا، تبھی صحیح سمت میں طلبہ کی سیاست کی اہمیت قائم ہو پائے گی۔ یونیورسٹی کے طالب علموں نے اسے بنیاد بناتے ہوئے ایک مہم چھیڑ دی۔ دسمبر کے پہلے ہفتہ میں الیکشن کے نتائج آئے اور یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین کی ایک سیٹ کو چھوڑ کر سبھی سیٹوں پر پارٹی کی اسٹوڈنٹ یونٹ کے عہدیدار الیکشن ہار گئے اور آزاد امیدواروں نے جیت حاصل کی۔
انتخابی نتائج کے الٹ پھیر کے ذمہ دار عناصر میں اس بار نن آف دی ایبو (نوٹا) کو بھی جوڑا جا رہا ہے۔ حالانکہ انتخابات سے پہلے ہی اس بات کے قیاس لگائے جا رہے تھے کہ نوٹا صرف علامتی مخالفت کا ٹیبو بھر بن کر رہ جائے گا۔ انا ہزارے نے سپریم کورٹ کے نوٹا سے متعلق فیصلہ پر کہا تھا کہ نن آف دی ایبو ہی ہمیں رائٹ ٹو ریکال اور رائٹ ٹو رجیکٹ کی طرف لے جائے گا۔ یہی ہو رہا ہے۔ نوٹا کو لے کر اگر اسمبلی انتخابات کے نتائج کا تجزیہ کریں، تو واضح ہوتا ہے کہ ووٹروں نے اسے صرف علامتی مخالفت کے طور پر ہی نہیں لیا، بلکہ کئی سیٹوں پر ہار جیت کے کھیل کو نوٹا کے تحت پڑے ووٹوں نے ہی بدلا۔ چار ریاستوں میں 16 لاکھ سے زیادہ ووٹروں نے نوٹا کو چنا۔ کئی سیٹوں پر ہار جیت کے فرق سے زیادہ نوٹا متبادل آزمانے والوں کی تعداد زیادہ تھی۔ چھتیس گڑھ میں 13 امیدواروں کے جیت کے فرق سے زیادہ ووٹ نوٹا پر پڑے۔ راجستھان کی 11 سیٹوں پر یہی حالت رہی۔ راجستھان میں جے پور کی آٹھ سیٹوں میں سے پانچ سیٹوں پر نوٹا تیسرے نمبر پر رہا۔ ان سیٹوں پر ووٹروں نے بی جے پی اور کانگریس کے بعد سب سے زیادہ بٹن نوٹا کے دبائے۔ مدھیہ پردیش کے اسمبلی انتخابات کے دوران 6 لاکھ 43 ہزار 144 ووٹروں نے ای وی ایم اور ڈاک ووٹ باکس میں نوٹا، یعنی ان میں سے کوئی نہیں کا استعمال کیا۔ غور طلب ہے کہ مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ، جہاں نوٹا کا سب سے زیادہ استعمال ہوا ہے، وہاں پر انا نے اپنی جن تنتر یاترا کے دوران لوگوں سے اپنی پسند کا امیدوار نہ ہونے کی حالت میں نوٹا کے استعمال کی اپیل کی تھی۔ انا کی طرف سے جن سنسد ابھیان سمیتی نے بھی نوٹا کے بارے میں بیداری مہم چلائی تھی، جنہیں سرکاری مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔
عوام نے صحیح معنوں میں اب اپنی جمہوری قدروں کو سمجھ لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پانچ ریاستوں کے ان انتخابات میں ریکارڈ ووٹنگ ہوئی۔ مدھیہ پردیش میں اب تک سب سے زیادہ ووٹنگ 72.52 فیصد ہوئی۔ دہلی میں 66 فیصد ووٹنگ ہوئی اور اس میں مردوں اور عورتوں کے حق رائے دہی کی حصہ داری برابری کی رہی۔ سال 2008 کے اسمبلی انتخابات میں ووٹنگ کا کل فیصد 57.58 رہا تھا۔ راجستھان میں بھی تاریخی ووٹنگ ہوئی اور 75.20 فیصد ووٹ پڑے۔ یہاں عورتوں نے 75.51 فیصد ووٹنگ کرکے مرد ووٹروں کو (74.91 فیصد) پیچھے چھوڑ دیا۔ چھتیس گڑھ میں 77 فیصد ووٹنگ ہوئی۔
تو یہ مانا جائے کہ ملک اب سیاسی پیمانے پر بھی نہ صرف سنبھل رہا ہے، بلکہ نئی نئی عبارت بھی لکھ رہا ہے۔ گزشتہ دو سالوں سے پورا ملک جن لوک پال کے لیے لڑ رہا ہے اور یہ ملک کی سیاسی بیداری کا ہی نتیجہ ہے کہ سرکار اب جاکر اس سمت میں سنجیدہ ہوئی ہے۔ اس تبدیلی کی قیمت تب اور بڑھ جاتی ہے، جب پورا ملک تبدیلی کے راستے پر بڑھ چلا ہے اور تحریک میں شروع سے اخیر تک ایک پتھر نہیں چلا، کسی بس کا شیشہ نہیں ٹوٹا، کہیں کرفیو نہیں لگا، کوئی زخمی نہیں ہوا، کیوں کہ یہ تبدیلی بدلے کے کلچر کی نمائندگی نہیں کرتی۔ یہ صرف اپنی بنیادی مانگوں کو حاصل کرنے کی لڑائی ہے اور یہ بنیادی ضرورتیں ہمارے آئین میں درج ہیں۔ اس لیے ملک وہی مانگ رہا ہے، جس پر اس کا حق ہے۔ آئین کے ہی راستے پر چل کر مقصد کو حاصل کرنے کی مانگ انا ہزارے نے ہمیشہ کی ہے اور یہ کامیابیاں ان کی اس سوچ کو سو فیصد جائز ثابت کرتی ہیں۔
سیاسی پارٹیوں کے اندر غور و فکر کا سلسلہ چل رہا ہے۔ نئے عہدے، نئی قیادت اور میک اوور پر بحثیں ہو رہی ہیں۔ ایسا اس لیے، کیوں کہ انہیں بھی یہ لگنے لگا ہے کہ عوام کے اندر سے اب ایسی آوازیں اٹھنے لگی ہیں کہ اگر اب بھی وہ نہ بدلے، تو بدل دیے جائیں گے۔ انتخابی ماحول کے اندر سے نکلے یہ نتائج یہ ثابت کرتے ہیں کہ ملک کے عوام مثبت تبدیلی کی طرف دیکھتے رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں۔ بس انہیں ایک قیادت کی ضرورت رہی ہے اور ہے۔ جب بھی خستہ ہوچکے نظام کو بدلنے کی کوشش ہوئی، اسے ایک قائد کی ضرورت پڑی۔ 1857 کی آزادی کی لڑائی کی ناکامی کے اسباب میں پہلی وجہ یہی گنائی جاتی ہے کہ اس لڑائی کا کوئی قائد نہیں تھا۔ اس لڑائی کے قائد کے طور پر پورا ملک انا ہزارے کی طرف دیکھ رہا ہے، اس لیے انا خود بھی مانتے ہیں کہ میں دوسری آزادی کی فیصلہ کن لڑائی لڑ رہا ہوں اور اس لڑائی کے لیے اگر شہادت دینی پڑی، تو پہلا شہید میں ہی ہوں گا۔
مہاتما گاندھی نے سچائی کی لڑائی کے ذریعے اس ملک کو بدلا۔ نیلسن منڈیلا نے انسانیت کو اپنی ترجیح بناکر سب کو ساتھ لے کر چلنے کا راستہ دکھایا۔ انا اسی کڑی کے حصے میں آگے بڑھتے ہوئے اس ملک میں تبدیلی کے قائد کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ سماج کو تقویت دینے کے لیے آئیے امن کے اس نئے مسیحا کو اپنی سطح سے اور تقویت فراہم کریں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *