انا کا قد میڈیا سے بہت بڑا ہے

Share Article

سنتوش بھارتیہ 
شاید میڈیا کے لیے انا ہزارے اب فروخت ہونے والی چیز نہیں رہے۔ انا ہزارے سے زیادہ آسا رام باپو اور نارائن سائیں فروخت ہونے والی چیز ہیں۔ میڈیا یہ مانتا ہے کہ آسا رام باپو اور نارائن سائیں کی سیکس کہانیاں لوگ زیادہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسی بیچ میں ترون تیج پال آگئے اور میڈیا کے لوگوں کو ان کی سیکس کہانیاں دکھانے اور لکھنے میں زیادہ مزہ آنے لگا۔ اب کوئی سوال پوچھے، تو کیسے پوچھے کہ ایک لڑکی کے ساتھ بدسلوکی کرنے کی وجہ سے کیا ان کی ساری صحافت خارج کر دی جائے؟ میڈیا کے ہمارے ساتھی بھی کھیل کرتے ہیں۔ ہندی اور انگریزی میں جنسی چھیڑ چھاڑ، عصمت دری اور ریپ کے ایک معنی ہیں۔ لفظی چھیڑ چھاڑ، بدسلوکی اور جسمانی چھیڑ چھاڑ کے ایک اور معنی ہیں۔ لیکن پورے میڈیا نے ترون تیج پال کو جنسی چھیڑ چھاڑ اور عصمت دری کا مجرم بنا دیا۔ جو جرم ترون تیج پال نے نہیں کیا، وہ اس جرم کے مجرم بن گئے۔ وہ لوگ جو ترون تیج پال کی صحافت سے جلتے تھے، انہوں نے بڑھ چڑھ کر ترون تیج پال کو مجرم ٹھہرانے میں حصہ لیا۔ اس پورے معاملہ میں میڈیا نے سیکس رس سے جم کر ناظرین اور قارئین کو محظوظ کرایا۔ میڈیا یہ مانتا ہے کہ ملک کے لوگ صرف سیکس کہانیوں میں ہی دلچسپی رکھتے ہیں، اس لیے اس نے ایجنڈا سیٹ کر دیا ہے کہ مجرمانہ سیکس کہانیاں مزیدار سیکس کہانیوں میں ڈبوکر لوگوں کو دکھائی جائیں۔ شاید اسی لیے پچھلے تین مہینے سے بھوک، پیاس، بیماری، بے روزگاری اور مہنگائی سے جڑی خبریں نہ ٹیلی ویژن پر آ رہی ہیں اور نہ ہی اخباروں میں دکھائی دے رہی ہیں۔ میڈیا کے مطابق، اب بدعنوانی کی خبریں بھی لوگوں کو مشتعل نہیں کرتیں۔
انا ہزارے کے ساتھ چونکہ کوئی سیکس کہانی نہیں جڑ سکتی، اس لیے انا ہزارے اور اروِند کجریوال کے ہٹنے اور ان کے اختلافات کو کچھ اس طرح پینٹ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، گویا یہ بھی ایک مجرمانہ سیکس کہانی ہو۔ انا کتنا بھی کہیں کہ ان کا اور کجریوال کا الگ ہونا اہم نہیں ہے، اہم ہے ملک میں جاری بھوک، پیاس، غریبی اور بے روزگاری۔ اہم ہے گاؤں کی خستہ حالت، مہنگائی اور بدعنوانی۔ ہمارے عظیم اور عقل مند صحافی پھر چاہے وہ ٹیلی ویژن کے ہوں یا پرنٹ کے، ان سوالوں کو سوال ہی نہیں مانتے۔ ان سوالوں سے پیدا ہونے والا درد انہیں پریشان نہیں کرتا۔ اسی لیے وہ ان سوالوں کے اوپر کسی کا دھیان نہیں کھینچتے۔ ٹیلی ویژن کی بحثوں اور اخباروں کے ادارتی صفحہ کے مضامین ان سوالوں کو واہیات مانتے ہیں۔

انا ہزارے کا رالے گن سدھی میں اَنشن کرنے کا فیصلہ بھی انہیں مخول لگتا ہے۔ یہیں پر میڈیا کی عوام سے دوری دکھائی دیتی ہے۔ انا ہزارے 5 دسمبر کو سابق صدر جمہوریہ شری اے پی جے عبدالکلام سے ملنے اور ان کی خبر خیریت دریافت کرنے کے لیے ان کے گھر گئے۔ ان کے گھر پہنچتے ہی سابق صدر کا سارا اسٹاف، جس میں ان کے سکریٹری سے لے کر چپراسی تک شامل تھے، عقیدت سے انا کے پاس دوڑے ہوئے آئے، ان کے پیر چھوئے، انہیں نیک خواہشات پیش کیں اور ان کے ساتھ ہر ایک نے الگ الگ فوٹو کھنچوائی۔ وہاں جتنے ملاقاتی بیٹھے تھے، سب نے کہا کہ انا ہم سب بہت امید سے آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

انا ہزارے کا رالے گن سدھی میں اَنشن کرنے کا فیصلہ بھی انہیں مخول لگتا ہے۔ یہیں پر میڈیا کی عوام سے دوری دکھائی دیتی ہے۔ انا ہزارے 5 دسمبر کو سابق صدر جمہوریہ شری اے پی جے عبدالکلام سے ملنے اور ان کی خبر خیریت دریافت کرنے کے لیے ان کے گھر گئے۔ ان کے گھر پہنچتے ہی سابق صدر کا سارا اسٹاف، جس میں ان کے سکریٹری سے لے کر چپراسی تک شامل تھے، عقیدت سے انا کے پاس دوڑے ہوئے آئے، ان کے پیر چھوئے، انہیں نیک خواہشات پیش کیں اور ان کے ساتھ ہر ایک نے الگ الگ فوٹو کھنچوائی۔ وہاں جتنے ملاقاتی بیٹھے تھے، سب نے کہا کہ انا ہم سب بہت امید سے آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
انا جب ٹرین سے چلتے ہیں، تو تقریباً پوری ٹرین ان سے بات کرنے کے لیے ان کے ڈبے میں ٹوٹ پڑتی ہے۔ پلیٹ فارم کا نظارہ اس سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے، کیوں کہ ہر آدمی انا کے پیر چھونا چاہتا ہے۔ انا جب ہوائی اڈے پر جاتے ہیں، تو ایک بھگدڑ جیسا ماحول ہو جاتا ہے۔ ہر آدمی انا کے پیر چھونا چاہتا ہے، فوٹو کھنچوانا چاہتا ہے اور انہیں اپنی حمایت دینا چاہتا ہے۔ سرکاری آفیسر، چھوٹے ہوں یا بڑے، جب ہوائی اڈے پر یا ہوائی جہاز میں انا سے ملتے ہیں، تو انا کو اپنی حمایت کا وعدہ کرتے ہیں اور سب سے مزے کی بات کہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں، پولس ہو یا فوج ہو، ان میں کام کر رہے لوگ انا کو اندھی حمایت دیتے ہیں۔
ایک طرف انا، دوسری طرف سیاست کے سرکردہ لیڈر، لیکن میڈیا کو صرف انا اور کجریوال دکھائی دیتے ہیں۔ دہلی میں انا نے یہ اعلان کیا کہ میں جن لوک پال کے لیے اپنے گاؤں رالے گن سدھی میں غیر معینہ اَنشن کرنے جا رہا ہوں، لیکن پرنٹ میڈیا نے ان کے اس اعلان کو تقریباً نظر انداز کر دیا۔ ٹیلی ویژن نے اسے صرف تین گھنٹے تک دکھایا۔ ایسا لگتا ہے کہ میڈیا تفریحی سیریلوں کا بھونڈا ایڈیشن بن کر رہ گیا ہے۔
اب تو پریس کانفرنسوں میں صحافی سوال بھی نہیں پوچھ پاتے۔ میرا یہ لکھنا بہت سارے صحافیوں کو برا لگے گا، لیکن میں اس سے آگے بڑھ کر کہنا چاہوں گا کہ بہت سارے ایڈیٹروں کو بھی کیا سوال پوچھنا چاہیے، اس کی سمجھ نہیں ہے۔ ہندی کی ایک کہاوت یاد آ رہی ہے کہ کابل میں گدھے بھی چنا کھاتے ہیں۔ لگتا ہے کہ کابل کے گدھے ہندوستان کے میڈیا ورلڈ میں بڑی تعداد میں ٹہلنے آ گئے ہیں۔
ایسی حالت میں یہ امید کرنا کہ انا ہزارے نام کا فقیر ملک کے لوگوں کے لیے جان کی بازی لگانے جا رہا ہے، اس لیے اسے میڈیا میں جگہ ملے گی، بیوقوفی ہے، کیو ںکہ میڈیا کے پسندیدہ موضوع نارائن سائیں اور ترون تیج پال ہیں۔ کتنا روئیں؟ ہندوستان کے میڈیا کو جب دنیا کے سب سے پسندیدہ لیڈر کا تمغہ حاصل کر چکے آنجہانی نیلسن منڈیلا کی اہمیت کا پتہ نہیں، تو اسے بھگت سنگھ، سکھ دیو، راج گرو اور انا ہزارے کی اہمیت کا کیا پتہ ہوگا؟ لیکن ملک کے طالب علموں کو، کسانوں کو، مزدوروں کو انا ہزارے کی اہمیت معلوم ہے۔ لیکن اگر ٹاٹا، بڑلا، امبانی جیسے پیسے والوں کو انا ہزارے متوجہ نہیں کرتے، تو ظاہر ہے میڈیا کو کیسے متوجہ کریں گے۔ افسوس ہوتا ہے کہ ہم ایسی برادری کے رکن ہیں اور تب یاد آتے ہیں اگیہ جی، پربھاش جوشی، سریندر پرتاپ سنگھ، اُدین شرما، اشوِن سرین، ایم جے اکبر، پرتیش نندی اور پی سائیں ناتھ۔ ان جیسے لوگوں کا رشتہ بھی میڈیا برادری سے ہے۔ آج کے میڈیا کو دیکھ کر ’گولیور اِن للیپُٹ‘ کی کہانی یاد آتی ہے، جہاں سب بونے ہی بونے تھے۔
سوچ کر ہنسی آتی ہے کہ انا جان کی بازی لگائے ہوئے بھوک ہڑتال کر رہے ہیں اور ہماری برادری کے نئے نئے درونا چاریہ وہاں پہنچیں اور پوچھیں کہ انا اَنشن کرتے ہوئے آپ کو کیسا لگ رہا ہے؟ میں افسوس کے ساتھ لکھ رہا ہوں، لیکن سچ یہی ہونے والا ہے۔ اسی لیے جیسے بازار نے اس ملک کے 85 فیصد لوگوں کو خارج کر دیا ہے، ان کے آنسو، ان کی بھوک، ان کے درد، ان کی بے وقت موت جب میڈیا کو پریشان نہیں کرتی، تب انا ہزارے کا اَنشن اور ملک کے لیے شہید ہونے کا جذبہ میڈیا کو کیسے پریشان کر سکتا ہے؟ اس پوری تحریر کا خلاصہ یہ ہے کہ انا کا قد میڈیا سے بہت بڑا ہے، کیوں کہ انا کے قد کو عوام کی حمایت وسیع بنا رہا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *