میگھناد دیسائی

جے پرکاش نارائن ایک الگ طرح کے ہیرو تھے۔ ان کی آئڈیولوجی انہیں مارکسواد اور سماجواد سے گاندھی واد کی طرف لے گئی۔ ان کی پوری زندگی کا منصوبہ تھا ، گاندھی کے بھودان، شرمدان اور گرام دان جیسے موضوعات پر تعمیری کام کرنا۔ مجھے اس بات پر شک ہے کہ وہ بہت زیادہ تعمیری کام کرپائے، لیکن جس کام میں انہیں مہارت حاصل تھی، وہ کام تھا تحریک کی قیادت کرنا۔ 1942 میں انہوں نے برطانوی حکومت کے خلاف تحریک چلائی اور اس کے بعد 1974 میں اندرا گاندھی کے خلاف تحریک کی قیادت کی۔ ان کی قیادت میں دونوں تحریکیں مؤثر ثابت ہوئیں۔ اندرا گاندھی کے خلاف تحریک میں پہلے تو طالب علموں کو اکٹھا کیا گیا اور بعد میں یہ تحریک عام لوگوں تک پہنچ گئی۔ انہوں نے عام لوگوں کے ذریعہ اندرا گاندھی پر لگام لگایا۔حالانکہ وہ ایمرجنسی ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے، لیکن اس کے بعد کے انتخاب میں جو اثر نظر آیا، وہ ان کی ہی کامیابی تھی۔ اندرا گاندھی کی پارٹی انتخاب میں ہار گئی اور جنتا پارٹی کی سرکار بنی، لیکن ایک بار پھر وہ اس معنی میں ناکام رہے کہ جنتا پارٹی کی سرکار ان کے منشا کے مطابق کام کرنے میں ناکام رہی۔ ان کے وارث کی شکل میں ملائم سنگھ یادو، لالو یادو، رام ولاس پاسوان اور نتیش کمار وغیرہ ابھی بھی سیاست کر رہے ہیں۔ انا ہزارے نے گزشتہ سال تحریک شروع کی۔ انہوں نے جے پرکاش کی اتباع کی ہے ۔و ہ گاندھی وادی ہیں، ان کا تخلیقی کام قابل ستائش ہے۔پچھلے سال اپریل میں انہوں نے بدعنوانی کے خلاف جو تحریک چلائی، اس تحریک کو عوامی حمایت ملی۔یو پی اے سرکار نے جو رویہ اختیار کیا، اس سے اگست 2011 میں ان کی تحریک کو فائدہ ہوا اور عوامی حمایت بڑھی۔ ان کی تحریک میڈیا میں بنی رہی،انہیں عالمی تائید ملی۔لوگوں کو ان میں امید کی ایک کرن دکھائی دی اور پارلیمنٹ نے بھی ان کی مانگوں کو عزت دی۔انا ہزارے کی تحریک نے ایک اہم کردار ادا کیا، لیکن میرے حساب سے انہوں نے کچھ غلط فیصلے بھی کیے۔ انہیں ایک بدعنوانی مخالف پارٹی کی تشکیل کرنی چاہیے تھی، ریاستی سطح کے انتخاب میں حصہ لینا چاہیے تھا، ساتھ ہی کم سے کم 2014 کے لوک سبھا کے لیے ایک بنیاد تیار کرنی چاہیے تھی، تاکہ سیاست میں اصلاح کی جاسکے، لیکن انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ تحریک اپنی رفتار سے چلتی رہی اور جن امیدواروں کو بدعنوان مانا گیا، ان کے خلاف تشہیر کی گئی ۔یہی وجہ ہے کہ انتخاب میں تحریک کا بہت کم اثر دیکھنے کو ملا۔
کسی نہ کسی حد تک تحریک نے اپنی مقبولیت کھونی شروع کردی ہے۔ ان کے لیڈروں کے درمیان اتحاد میں فقدان نظر آرہا ہے۔ ان کے اپنے اپنے ایجنڈے ہیں۔ یوں تو اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ سارے لوگ ایماندار ہیں، لیکن ان کی تحریک اتنی مؤثر نہیں رہی۔ صرف خبروں میں بنے رہنے کے لیے کیے گئے کام کو تحریک نہیں کہا جاسکتا ہے۔ ابھی حال میں وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کے 14 وزیروں پر جو الزام لگائے گئے ہیں، انہیں تازہ مثال مانا جاسکتا ہے ۔انا ہزارے خود اس بات سے انجان ہیں کہ ان کے نام پر کیا کیا جا رہا ہے۔ ایسا ہی کچھ جسٹس ہیگڑے کے ساتھ بھی ہے۔ یہ طے نہیں ہو پا رہا ہے کہ آخر کار بدعنوانی کہاں ہے۔ سی اے جی کی سبھی رپورٹوں کو بد عنوانی کو منظر عام پر لانے کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ ہمیشہ قابل استعمال نہیں ہوگا۔مثال کے طور پر 2 جی معاملے کو لیا جاسکتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ این ڈے نے صحیح فیصلہ کیا کہ اسپکٹرم کا الاٹمنٹ’ پہلے آئو پہلے پائو‘ کی پالیسی کی بنیاد پر رکھا، تاکہ اس پالیسی کے ذریعہ صارفین کو فائدہ پہنچایا جاسکے، انہیں سستی قیمت پر موبائل ملے۔ اس کا مقصد موبائل کا استعمال بڑھانا تھا۔ اس معاملے میں یہ پالیسی تو کامیاب رہی۔ اے ر اجا نے اپنے دوستوں کی مدد کی یا نہیں، یہ ایک الگ سوال ہے، لیکن یہ تو سچ ہے کہ موبائل استعمال کرنے والوں کی تعداد 900 ملین ہوگئی ہے۔ کم قیمت پر لوگوں کو سہولتیں دینے کا یہ سب سے اچھا طریقہ کہا جا سکتا ہے۔ ایک پل بنایا جاتا ہے تو اس کے بعد اس کا رکھ رکھائو کم خرچ میں ممکن ہوجاتا ہے۔ صارفین کو کم قیمت میں سہولتیں مہیا ہونی چاہئیں، بجائے اس کے کہ انہیں زیادہ دینے کے لیے کہا جائے۔ پیسے کے نقصان کا موازنہ لوگوں کو دی جانے والی سہولتوں سے نہیں کیا جاسکتا۔ یو پی اے میں کسی کے پاس بھی یہ دلیل نہیں تھی۔ ہمیں یہ بتایا گیا کہ 2 جی میں 1.76 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوا ۔جنہوں نے لائسنس پائے، انہوں نے فائدہ اٹھایا اور ان کے شیئر کی قیمت بڑھی۔ ایسا اس لیے ہوا، کیونکہ انہوں نے وہ پروڈکٹ بیچا، جس کی بازار میں کافی مانگ تھی۔ کیا ان کمپنیوں نے لوگوں سے زیادہ پیسہ لیا، تاکہ موبائل ایک مخصوص طبقے تک سمٹ جائے؟ اگر موبائل کا استعمال بہت مہنگا ہوتا تو اسے طاقت کا غلط استعمال اور ساتھ ہی بدعنوانی کہا جا سکتا تھا۔ انا جی لوگوں کی فکر کیجئے، نہ کہ کابینہ کی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here