اتراکھنڈ میں انا

Share Article

p-4جن تنتر یاترا کے پہلے اور دوسرے مرحلے کی کامیابی کے بعد 13مئی سے جن تنتر یاترا کا تیسرا مرحلہ اتراکھنڈ کے رشی کیش سے شروع ہوا۔ صوبے میں جن تنتر یاترا رشی کیش سے شروع ہو کر برمہکھل، سری نگر، رودر پریاگ، جوشی مٹھ، بدری ناتھ، الموڑہ، نینی تال، ہلدوانی اور رودرپور پہنچے گی۔ مشہور سماجی کارکن انّا ہزارے کی رہنمائی میں چل رہی جن تنتر یاترااپنے تیسرے مرحلے میں 14مئی بروز منگل کو اترا کھنڈ کے رشی کیش سے ہوتے ہوئے بدکوٹ پہنچی۔ رشی کیش میں انّا ہزارے نے گنگا آرتی کے بعد اپنی یاترا شروع کی۔ یہاں ایک جلسۂ عام کو خطاب کرتے ہوئے انّا ہزارے نے کہا کہ بدعنوان سیاسی نظام کے خلاف اب لوگوں کو کھڑے ہونے کی ضرورت ہے، کیونکہ سیاستدانوں نے آزادی کے بعد عوامی فلاحی پالیسیوں کو نافذ کرنے کی بجائے اپنا مفاد حاصل کیا ہے۔ ان کے مطابق، سیاستدانوں کو عوامی مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انّا ہزارے نے رشی کیش کے عوام سے اپیل کی کہ وہ ماہ ستمبر کے پہلے ہفتے میں دہلی ضرور آئیں اور عوامی پارلیمنٹ میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں۔ ان کے مطابق، آزادی کی ساڑھے چھ دہائیاں بیت جانے کے باوجود ملک کے عام لوگ تمام طرح کی پریشانیوں میں مبتلا ہیں، لیکن سیاسی پارٹیوں کو اس سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ سینئر صحافی سنتوش بھارتیہ نے اس موقع پر کہا کہ یہ ملک بدعنوان سیاستدانوںکے چکر میں پھنس گیا ہے۔ ایسے میں عوام انّا ہزارے جیسے گاندھی وادی سماجی کارکن کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیاسی پارٹیوں نے نہ صرف عوام کے ساتھ دھوکہ کیا ہے، بلکہ انھوں نے آئینِ ہند کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے۔ ان کے مطابق، جن لوک پال کے مدعے پر کانگریس، بی جے پی، بی ایس پی، ایس پی اور بائیں بازو کی پارٹیوں نے داخلی اتحاد دکھاتے ہوئے اس بل کو پاس نہیں ہونے دیا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ سیاسی پارٹیاں بدعنوانی کے مدعے پر کچھ بھی نہیں کرنا چاہتیں، لیکن ان کی یہ تکڑم بازی اب زیادہ دنوں تک نہیں چلنے والی ہے۔ مسٹر بھارتیہ کے مطابق، ملک میں مہنگائی، بدعنوانی ور بے روزگاری سے عوام پریشان ہیں اور انھیں لیڈروں سے نفرت ہونے لگی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ کئی علاقوں کے ممبرانِ پارلیمنٹ اور ممبرانِ اسمبلی عوام کی ناراضگی سے بچتے پھر رہے ہیں۔ انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب ممبرانِ پارلیمنٹ اور ممبرانِ اسمبلی کی تنخواہ میں اضافے کا سوال آتا ہے، تو سبھی پارٹیاں متحد ہو جاتی ہیں، لیکن جب عوام کی بات آتی ہے، تو یہی سیاستداں خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ جن تنتر یاترا 15مئی کو اتراکھنڈ کے برمہکھل اور ڈونڈی کے راستے اتر کاشی پہنچی۔ برمہکھل اور ڈونڈی میں عوامی جلسوں کو مخاطب کرتے ہوئے انّا ہزارے نے کہا کہ ان کی یہ یاترا نظام میں تبدیلی کے لئے ہو رہی ہے، کیونکہ انگریزوں نے اس ملک کو جتنا لوٹا، اس سے کہیں زیادہ ہمارے لیڈروںنے اس ملک کی درگت بنائی ہے۔ ان کے مطابق، موجودہ سیاسی نظام سے ملک کا ہر طبقہ مایوس اور پریشان ہے۔ کہیں کسان اقتصادی پریشانیوں کی وجہ سے خود کشی کر رہے ہیں، تو کہیں پڑھے لکھے نوجوان ملازمت نہ ملنے کے سبب ڈپریشن میں مبتلا ہیں۔ ملازمت پیشہ سے لیکر عوام کا ہر طبقہ پریشانیوں سے دوچار ہے۔ انّا ہزارے کے مطابق، آئینِ ہند میں کہیں بھی فریق اور پارٹی بنانے کی بات درج نہیں ہے، لیکن آزادی کے بعد اس ملک میں ہزاروں کی تعداد میں پارٹیاں کھڑی ہو گئیں، لیکن عوام کے مسائل ختم نہیں ہوئے۔ انّا ہزارے نے مرکزی سرکار پرنشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ بدعنوانی کے مدعے پر وہ ذرابھی سنجیدہ نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جن لوک پال قانون منظور کرنے کے عہد سے وہ پیچھے ہٹ گئی، کیونکہ حکومت کو یہ محسوس ہو گیا کہ اگر یہ قانون پاس ہو جاتا ہے، تواس کی گرفت میں لیڈر اور افسر ہی آئیں گے۔ انّا نے ہنکارتے ہوئے کہا کہ انھیں نوجوانوں سے خاص امیدیں ہیں، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ملک پر کوئی بحران آیا ہے، تب نوجوانوں نے ہی اہم کردار ادا کیا ہے۔ عوامی جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے انھوں نے لوگوں سے اپیل کہ ستمبر کے پہلے ہفتے میں وہ بڑی تعداد میں دہلی آئیں،کیونکہ عوام مخالف مرکزی حکومت کے خلاف عوامی پارلیمنٹ کا انعقاد کیا جا ئے گا۔ ان کے مطابق عوامی پارلیمنٹ، پارلیمنٹ اوراسمبلیوں سے بڑی ہوتی ہے، لیکن بدعنوان سیاستداںعوام کی طاقت کو بھول چکے ہیں۔ سنتوش بھارتیہ نے ریلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مرکزی سرکار گھوٹالے کرنے میں نت نئے ریکارڈ بنارہی ہے۔ سرکار کی کارگزاریوں سے ملک کے عوام پریشا ن ہیں۔ ان کے مطابق، انّا ہزارے کو نوجوانوں کے روپ میں ایسے سپاہیوں کی ضرورت ہے، جو کم سے کم ملک کے لئے ایک سال کا وقت دے سکیں۔ انھوں نے سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ملک کس طرف گامزن ہے، یہ کوئی نہیںجانتا، عوام کیا چاہتے ہیں ، اس سے لیڈروں کو کوئی سروکار نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اب سرکار کی مخالفت میں کھل کر سامنے آرہے ہیں۔ واضح ہو کہ انّا ہزارے کی یاترا 31مارچ سے امرتسر کے جلیانوالا باغ سے شروع ہوئی تھی۔ پنجاب، ہریانہ، اتر پردیش اور راجستھان سے ہوتے ہوئے ان کہ یہ یاترا ان دنوں اترا کھنڈ میں ہے۔ جن تنتر یاترا 16مئی کو اتراکھنڈ کے چمبا، نئی ٹہری ہوتے ہوئے سری نگر پہنچی۔ چمبا اورنئی ٹہری میں عوامی ریلیوں کو مخاطب کرتے ہوئے انّا ہزارے نے کہا کہ ان کی یاترا کا مقصد ملک میں بدعنوان سیاسی نظام سے لوگوں کو نجات دلانا ہے۔ ان کے مطابق، موجودہ مرکزی اور صوبائی حکومتیںعوامی امیدوںپر کھری نہیں اتر پارہی ہیں۔ خواہ کسان ہو یا مزدور، نوکر پیشہ ہو یا خاتون خانہ، سبھی پریشان ہیں۔ انّا کے مطابق، سیاستدانوں کا مقصد عوامی بہبود کرنا نہیں، بلکہ کسی طرح اقتدار حاصل کرنا ہے۔ انّا نے منموہن سرکار پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کی لاچاری سے ملک شرمسار ہے۔ اس موقع پر انّا نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ نظام میں تبدیلی کی اس لڑائی میں وہ فیصلہ کن کردار ادا کریں۔ عوامی جلسے کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ماہ ستمبر کے پہلے ہفتے میں بڑی تعداد میں دہلی آئیں، کیونکہ عوام مخالف مرکزی سرکار کے خلاف، عوامی پارلیمنٹ(جن سنسد) کا انعقاد کیا جائے گا۔ ان کے مطابق، پارلیمنٹ اور اسمبلیوں سے بڑی عوامی پارلیمنٹ ہوتی ہے، لیکن بدعنوان سیاستداں عوامی طاقت کو بھول چکے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *