اشرف استھانوی 
بہار کی راجدھانی پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں آئندہ 30 جنوری کوہونے والی انا ہزارے کی جن تنتر ریلی کو کامیاب بنانے کی مہم کا آغاز 15 جنوری کی شام کو کر گل چوک سے ہوا۔ بد عنوانی کے خلاف اس لڑائی کو نتیجہ خیزبنانے کے لیے مہم کا آغاز ملک کے سابق فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے کینڈل مارچ کی قیادت کرتے ہوئے کیا۔ جنرل وی کے سنگھ نے کرگل چوک پر سب سے پہلے شہیدو ںکو خراج عقیدت پیش کیا اور اس کے بعد ہاتھ میں کینڈل لے کر بدعنوانی کے خلاف مارچ کے لیے روانہ ہوئے۔ اس مارچ میں جنرل وی کے سنگھ کے ہمراہ اکھل بھارتیہ گوشالہ سنگھ کے قومی صدر پروفیسر رام پال اگروال ششی کانت، سنجے سیسودیا، یو کے چودھری، ایشان انٹر نیشنل اسکول کے بچے، دیگر بد عنوانی مخالف تنظیموں کے عہدیداران و رضا کاران کے علاوہ کثیر تعداد میں سماج کے مختلف طبقہ اور فرقہ سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوئے، جن میں مسلمانوں کی تعداد بھی قابل لحاظ تھی۔ مارچ میں شامل افراد بد عنوانی اور اس کی سرپرستی کرنے والی حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ نعروں میں ’انا ہزارے مت گھبرانا، تیرے پیچھے سارا زمانہ‘ کا نعرہ سب سے نمایاں تھا۔ کینڈل مارچ کرگل چوک سے شروع ہو کر جے پی چوک پر ختم ہوا۔

انا ہزارے نے دراصل بد عنوانی کے خلاف اپنی مہم کے دوسرے مرحلہ کا آغاز نئی جگہ سے اور نئے انداز میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس مہم کی کمان اس بار ملک کے سابق فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ کو سونپی ہے۔ انا ہزارے کے مطابق بہار کی سرزمین آزادی اور تبدیلی کے لیے جانی جاتی ہے۔ بابائے قوم مہاتما گاندھی نے انگریزو ں کے خلاف آزادی کی لڑائی کی شروعات بہار سے ہی کی تھی۔ لوک نایک جے پرکاش نارائن نے بھی بہار سے ہی مکمل انقلاب کا نعرہ دیا اور طویل جدو جہد کا آغاز کیا تھا، جوبعد میں آزاد ہندستان میں پہلی تبدیلی کاسبب بنا تھا۔ اس لیے بہار کی راجدھانی پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں 30 جنوری 2013 کو ہونے والی جن تنتر ریلی بھی بد عنوانی کے خاتمہ میں کامیاب رہے گی اور ملک میں ایک خوش آئند تبدیلی کی بنیاد پڑے گی۔

جے پی چوک پر مارچ میں شامل عوام کے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے جنرل وی کے سنگھ نے کہا کہ آج ہم نے بد عنوانی کے خاتمہ اور ایمانداری کے راستے پر چلنے کی لڑائی کا آغاز کیا ہے۔ یہ لڑائی ہمیں اپنے گھر سے ہی شروع کرنی ہے، اس لیے مارچ میں شامل بچوں کو بھی اس کے لیے تیار ہونا ہوگا۔ ہمیں سب سے پہلے اپنی ذات، اپنے گھر اور اپنے معاشرے کی اصلاح کرنی ہے، ایمانداری کے تقاضوں کو پورا کرنا ہے اور بد عنوانی کی ہرمحاذ پر حوصلہ شکنی کے لیے تیار رہنا ہے اور اپنے اس عزم کا اظہار کینڈل جلا کر کرنا ہے۔ اس لیے ہم میںسے ہر شخص جہاں بھی ہو، وہ کینڈل جلائے۔ بد عنوانی کی سیاہی دور کرنے کے لیے ہمیں گھر گھر میں کینڈل جلانا ہے اور اپنے دل و دماغ کے علاوہ اپنے گھر اور معاشرے سے بھی بد عنوانی کی سیاہی کا خاتمہ کرنا ہے۔ آئندہ 30 جنوری کو پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان کو بھر کر انا ہزارے کی جن تنتر ریلی کو کامیاب بنانا ہے اور بدعنوانوں اور ان کے سرپرستوں پر واضح کر دینا ہے کہ ملک کے عوام اب بدعنوانی کو مزید جھیلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس لیے بد عنوان حکومت اور اس کے سربراہ یا تو سدھریں یا سدھاریں اور سنگھاسن خالی کریں۔ ملک کے عوام اب تبدیلی چاہتے ہیں اور ایک ایسے ملک کا خواب شرمندۂ تعبیر کرنا چاہتے ہیں، جس میں بد عنوانی، ظلم اور نا انصافی کے لیے کوئی جگہ نہ ہو۔
انا ہزارے نے دراصل بد عنوانی کے خلاف اپنی مہم کے دوسرے مرحلہ کا آغاز نئی جگہ سے اور نئے انداز میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس مہم کی کمان اس بار ملک کے سابق فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ کو سونپی ہے۔ انا ہزارے کے مطابق بہار کی سرزمین آزادی اور تبدیلی کے لیے جانی جاتی ہے۔ بابائے قوم مہاتما گاندھی نے انگریزو ں کے خلاف آزادی کی لڑائی کی شروعات بہار سے ہی کی تھی۔ لوک نایک جے پرکاش نارائن نے بھی بہار سے ہی مکمل انقلاب کا نعرہ دیا اور طویل جدو جہد کا آغاز کیا تھا، جوبعد میں آزاد ہندستان میں پہلی تبدیلی کاسبب بنا تھا۔ اس لیے بہار کی راجدھانی پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں 30 جنوری 2013 کو ہونے والی جن تنتر ریلی بھی بد عنوانی کے خاتمہ میں کامیاب رہے گی اور ملک میں ایک خوش آئند تبدیلی کی بنیاد پڑے گی۔ اس لیے بلا امتیاز مذہب و ملت ہر فرقہ اور طبقہ کے عوام و خواص، مرد و عورت، خصوصاً طلبا، طالبات اور نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ 30 جنوری کو پٹنہ کے گاندھی میدان پہنچ کر ملک کو بدلنے کی مہم کی قیادت کرکے اپنا قومی فریضہ انجام دیں۔
انا ہزارے کی طرف سے تیاری کی ذمہ داری سونپے جانے کے بعد سے جنرل وی کے سنگھ لگاتار بہار میں عوامی رابطہ مہم چلارہے ہیں اور سماج کے ہر فرقہ اور طبقہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جنرل وی کے سنگھ نے اس ماہ کے آغاز میں پٹنہ کے مسلم دانشوروں سے ملاقات کرکے ان سے ملک کے موجودہ نظام میں تبدیلی کی لڑائی میں ساتھ دینے کی اپیل کی تھی اور مسلم دانشوروں نے بھی انا ہزارے اور جنرل وی کے سنگھ کی اس مہم میں ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا تھا۔ جنرل سنگھ جہاں بھی جاتے ہیں، بلا امتیاز ان تمام لوگوں سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو بد عنوانی سے پریشان اور نالاں ہیں اور ملک کے فرسودہ نظام میں تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ اس بار انہوں نے مسلمانوں کے با وقار مذہبی اور روحانی اداروں میں جا کر وہاں کے سربراہوں کی دعائیں اور حمایت حاصل کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
اپنی اس کوشش میں وہ اس بار امارت شرعیہ، بہار و جھارکھنڈ اور بہار میں مسلمانوں کے روحانی مرکز خانقاہ مجیبیہ، پھلواری شریف میں حاضری دی ہے اور امیر شریعت حضرت مولانا سید نظام الدین نیز صاحب سجادہ حضرت مولانا سید شاہ آیت اللہ قادری سے دعائیں حاصل کی ہیں۔ جنرل سنگھ نے اخبارات اور ٹی وی چینل کے مدیران اور سینئر صحافیوں سے باقاعدہ ملاقات کرکے اُن سے بھی تبدیلی کی اس لڑائی میں خصوصی تعاون کی درخواست کی ہے۔ حالانکہ میڈیا اس سے پہلے بھی بد عنوانی کے خلاف انا ہزارے یا جنرل وی کے سنگھ کی مہم کی زبردست حمایت کرتا آرہا ہے۔
مسلم فلاحی اور لسانی تنظیمیں بھی اب کافی سرگرم ہو گئی ہیں اور اپنے اپنے حلقہ اثر میں مسلمان مرد و عورت کے علاوہ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبا کے درمیان بھی جن تنتر ریلی کے سلسلے میں عوامی بیداری مہم چلا رہی ہیں۔ گھریلو اور پردہ نشیں خواتین میں بھی کافی بیداری دیکھی جا رہی ہے اور گھر گھر میں اب 30 جنوری کی ریلی اور انا ہزارے و جنرل وی کے سنگھ کی صاف ستھری شبیہ کا ذکر ہونے لگا ہے اور لوگ اسے ایک اہم تبدیلی کا آغاز ماننے لگے ہیں۔ سب کو پتہ ہے کہ یہ کسی سیاسی پارٹی کی ریلی نہیں، جس کے لیے بڑے بڑے سرمایہ کاروں سے چند ہ اکٹھا کیا جاتا ہے، بلکہ یہ تو عوامی ریلی ہے او ر اس کے ہیرو انا ہزارے ہیں۔ اس لیے اس کی تیاری بھی مختلف انداز سے رضا کارانہ طور پر چل رہی ہے۔
راجدھانی کے علاوہ ضلع میں بھی ریلی کی تیاری کے سلسلے میں میٹنگوں او رکارنر میٹنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ لوگ اپنے طور پر پوسٹر بینر کا انتظام کرکے اور اپنا قیمتی وقت صرف کرکے عوامی رابطہ مہم چلا رہے ہیں اور اس طرح کا بندوبست کر رہے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ریلی اور انا ہزارے کے پروگرام سے با خبر ہو سکیں او رزیادہ سے زیادہ تعداد میں 30 جنوری کو پٹنہ کے گاندھی میدان میں پہنچ سکیں۔ بہار میں انا حامیوں کی تعداد پہلے سے ہی بہت زیادہ ہے۔ ٹیم انا کے ٹوٹنے سے ان میں جو مایوسی آئی تھی، وہ انا ہزارے کے دوبارہ سرگرم ہونے اور انہیں سابق فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ جیسا رضا کار مل جانے سے ان کے حوصلے کافی بلند ہیں۔ بہار کے لوگ اس بات سے بھی بہت خوش ہیں کہ انا ہزارے نے اپنی مہم کا آغاز اس بار بہار سے کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کے ساتھ پہلے جیسے غلط لوگ نہیں ہیں۔ اس لیے انہیں اس تبدیلی مہم سے کافی توقعات ہیں اور وہ اپنا یہ امیج بھی قائم رکھنا چاہتے ہیں کہ بہار کی سرزمین ہمیشہ انقلاب کا مرکز رہی ہے اور یہاں سے جو تحریک جنم لیتی ہے، وہ کبھی ناکام نہیں ہوتی ہے۔ بہار ہمیشہ سے تبدیلی کی راہ دکھاتا آیا ہے اور ہر معاملے میں ملک کی رہنمائی اور قیادت کا فریضہ انجام دیتا رہا ہے، خاص طور پر جب قیادت مہاتما گاندھی، لوک نائک جے پرکاش نارائن یا انا ہزارے جیسے بے لوث اور بے داغ رہنمائوں کے ہاتھوں میں ہو۔
پٹنہ ہائی کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ انجم باری 30 جنوری کی جن تنتر ریلی کو کامیاب بنانے کے لیے کافی سرگرم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ریلی کو کامیاب بنا کر بہار کے لوگ اپنی قومی ذمہ داری نبھا سکتے ہیں، اس لیے مسلمانوں کی بھی اس میں کثیر تعداد میں شرکت ہونی چاہیے، کیوں کہ اس کا مقصد نظام میں تبدیلی لانا ہے۔ جب تک نظام میں انقلابی تبدیلی نہیں آئے گی، صرف چہرے بدلنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ پہلے لالو، پھر نتیش، اس کے بعد پھر لالو۔ اس سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ نظام میں تبدیلی لا کر ہی ہم کچھ کر سکتے ہیں اور اس کے لیے تمام سیاسی مصلحتوں سے اوپر اٹھ کر ایک بے لوث قائد کی قیادت میں پریشر گروپ بنانا ہی ہوگا۔
ائمہ مساجد اور علماء کونسل بہارکے صدر مولانا سجاد ندوی کا کہنا ہے کہ 30 جنوری کو ہونے والی انا ہزارے کی ریلی میں مسلمان کثیر تعداد میں شریک ہوں گے اور ہونا بھی چاہیے، کیوں کہ بد عنوانی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی نا انصافی سے سب سے زیادہ اس ملک میں مسلمان ہی متاثر ہوئے ہیں۔ اس لیے بابائے قوم مہاتما گاندھی کے یوم شہادت کے موقع پر 30 جنوری کو ہونے والی انا ہزارے کی جن تنتر ریلی میں شریک ہو کر ہمیں نظام میں تبدیلی میں سرگرم کردار ادا کرنا ہی ہوگا۔ مشہور سماجی کارکن، انجینئر حسین جو اس ریلی کو کامیاب بنانے کی مہم میں دل و جان سے جٹے ہوئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس ریلی میں مسلمانوں کی ریکارڈ شراکت داری ہوگی، کیوں کہ پہلی بار مسلمانوں کو بد عنوانی مہم میں باقاعدہ شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور قیادت ایسے لوگوں کے ہاتھ میںہے، جس سے مسلمانوں کو کوئی پرہیز یا گریز نہیں ہے۔ نوشاد علی خاں، چیئرمین او رضلع اوقاف کمیٹی سہسرام کا دعویٰ ہے کہ جن تنتر ریلی میں سہسرام سے کثیر تعداد میں لوگ شرکت کے لیے آئیں گے، جن میں مسلمانوں کی تعداد قابل لحاظ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بہار سے انقلاب کی جو بھی آندھی اٹھی ہے، وہ اپنا مقصد حاصل کر کے رہی ہے۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوگا۔ انا ہزارے ایک بے لوث قائد اور مخلص قومی رہنما ہیں اور ان کا دامن مہاتما گاندھی کی طرح بے داغ ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here