انا ہزارے کے ساتھ اردو صحافیوں کی ملاقات

Share Article

p-12

ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اردو کے عام صحافیوں میں عام طور پر یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ انا ہزارے ملک سے بدعنوانی کو ختم کرنے اور نظام میں تبدیلی کی تحریک تو چلا رہے ہیں، لیکن انہوں نے اپنی کسی بھی ریلی میں اب تک مسلمانوں کے ایشوز کو نہیں اٹھایا۔ یہ غلط فہمی شاید انا ہزارے اور ان کی تحریک سے مسلمانوں اور اردو صحافیوں کی دوری کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے، لہٰذا اسی بات کو محسوس کرتے ہوئے چوتھی دنیا اردو نے گزشتہ 4 جولائی کو دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام منعقد کرکے انا ہزارے اور اردو صحافیوں کی ایک ملاقات کرائی، تاکہ اس غلط فہمی کا ازالہ ہو سکے اور ساتھ ہی انا ہزارے سے متعلق اردو صحافیوں کے ذہن میں جو بھی سوالات ہیں، وہ بغیر کسی رکاوٹ اور تامل کے وہ براہِ راست خود انا سے کر سکیں۔ انا سے اردو صحافیوں کی یہ ملاقات نہ صرف نہایت کارگر رہی، بلکہ بہت ہی کامیاب بھی رہی۔ چوتھی دنیا کے اسی پروگرام پر مبنی ملاحظہ کریں یہ خاص رپورٹ …

انا ہزارے آر ایس ایس کے آدمی ہیں۔ انا ہزارے نریندر مودی کی حمایت میں پاگل پھر رہے ہیں۔ انا نے آج تک مسلم مخالف فسادات پر کچھ نہیں بولا۔ اگر انا ہزارے مسلمانوں کے ایشوز کو بھی اپنی تحریک میں شامل کر لیں، تو ہندوستان کا مسلمان ان کے ساتھ ہو جائے گا۔ یہ اور نہ جانے اس قسم کے کتنے سوالات ہیں، جو اردو صحافیوں اور دانشوروں کی طرف سے بار بار اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ حالانکہ سچائی یہ ہے کہ آج تک اردو کے کسی بھی صحافی نے نہ تو انا ہزارے سے ملاقات کرنے کی کوشش کی اور نہ ہی دوسرے ذرائع سے اپنے اِن سوالات کا تشفی بخش جواب تلاش کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی۔ چوتھی دنیا اردو نے انا کے تعلق سے ان سوالات کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے، جب انا ہزارے سے درخواست کی کہ وہ خود اردو صحافیوں کے درمیان جاکر ان کے اِن سوالات کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں، تو انہوں نے بلا جھجک ہماری اس درخواست کو قبول کیا اور گزشتہ 4 جولائی کو اردو صحافیوں سے دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں ایک ملاقات کی۔ انا سے اردو صحافیوں کی بات چیت اور سوال و جواب کا یہ سلسلہ تقریباً چار گھنٹوں تک چلا، جس میں ہر وہ سوال پہلی بار کھل کر سامنے آئے اور انا نے بھی اپنی طرف سے جواب دیتے ہوئے اردو صحافیوں کو مطمئن کرنے کی پوری کوشش کی۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اردو صحافت اور اس سے جڑے ہوئے صحافی ابھی اتنے بالیدہ نہیں ہو پائے ہیں کہ اشاروں کنایوں کو سمجھ سکیں۔ اس پورے پروگرام کے دوران انا ہزارے سے بار بار یہ سوال کیا جاتا رہا کہ پورے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ہیں اور اب بھی ہو رہے ہیں، جن میں سب سے زیادہ مسلمانوں کی ہی جان و مال کا نقصان ہوا ہے، اس پر انا ہزارے کیا محسوس کرتے ہیں اور کیا وہ ملک کی 30 کروڑ کی آبادی کی سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کچھ کریں گے؟
انا ہزارے اپنے ہر جواب کے ذریعے انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کرتے رہے کہ ہر مسئلہ کی جڑ ہے ملک کی عوامی جمہوریت کو سیاسی پارٹیوں کے ذریعے یرغمال بنا لیا جانا۔ جب تک ہم سیاسی پارٹیوں کی غلامی سے اپنی اس جمہوریت کو آزاد نہیں کرائیں گے، تب تک ملک میں یہ مسائل ہمیں یوں ہی پریشان کرتے رہیں گے۔ لیکن اردو کے صحافی نہ تو انا ہزارے کی اِس بات کو سمجھ پائے اور نہ ہی کھلے دل سے اُن کی اس دلیل کو ماننے کے لیے تیار دکھائی دیے، بلکہ بعض صحافیوں نے تو اُلٹے ہی انا پر ان کے سامنے ہی یہ الزام لگا دیا کہ پہلے وہ جن لوک پال کی بات کر رہے تھے، بدعنوانی کو مٹانے کی تحریک چلا رہے تھے اور اب انہوں نے اچانک اپنا ’ٹریک‘ چینج کیوں کر لیا، کیوں کہ وہ آج کل ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں کو ہی غیر آئینی قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔
چوتھی دنیا کے قارئین کو یاد ہوگا کہ ہم اپنے اخبار کے ذریعے پوری دلیل کے ساتھ اس بات کو ثابت کر چکے ہیں کہ آئین میں کسی بھی سیاسی پارٹی کا ذکر نہیں ہے اور خود انا ہزارے بھی کہہ رہے ہیں کہ آئین کی رو سے تمام سیاسی پارٹیوں کا وجود اسی دن ختم ہوجانا چاہیے تھا، جب ملک میں 26 جنوری، 1950 کو آئین نافذ ہوا اور ملک میں عوامی جمہوریت قائم ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 1952 میں جب ملک میں پہلا الیکشن ہوا، تو اس وقت آئین کی رو سے انفرادی طور پر عوامی نمائندوں کو انتخاب لڑنا چاہیے تھا، لیکن اس کے برعکس سیاسی پارٹیوں نے اپنے اپنے امیدواروں کو انتخابات لڑائے اور اس طرح نہ صرف آئین کی خلاف ورزی کی گئی، بلکہ انگریزوں کے چلے جانے کے بعد اب ملک کے عوام کو یہاں کی مختلف سیاسی پارٹیوں نے اپنا غلام بنا لیا اور اس طرح عوام پر ظلم و زیادتی اور استحصال کا سلسلہ گزشتہ 66 سالوں سے جاری ہے۔ لیکن انا ہزارے کہتے ہیں کہ اب وہ ملک کے عوام کو سیاسی پارٹیوں کی اس غلامی سے نجات دلانا چاہتے ہیں اور اسی لیے وہ ملک کے مختلف حصوں میں گھوم گھوم کر لوگوں کو بیدار کرنے اور سیاسی پارٹیوں کے چنگل سے جمہوریت اور ملک کے آئین کو آزاد کرانے کے لیے تحریک چلا رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ اگر عوام نے ان کا ساتھ دیا، تو وہ اپنی اس لڑائی میں ضرور کامیاب ہوں گے۔
انا کی اس بات پر ہم سب کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ظاہر ہے، جب انا یہ کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں غنڈے، لٹیرے، فسادی، عصمت دری کرنے والے لوگ بیٹھے ہیں، تو بھلا اس ملک میں عوام کو انصاف کہاں سے ملے گا۔ مسلمانوں اور اردو صحافیوں کے ہر سوال کا جواب انا ہزارے کی اسی بات میں پوشیدہ ہے۔ انا جب یہ کہہ رہے ہیں کہ پارلیمنٹ سے ایسے داغی لیڈروں کو نکال باہر کرنا چاہیے اور ان کی جگہ عوام کے درمیان سے ہی چُن کر صاف و شفاف شبیہ والے اصلی عوامی نمائندوں کو وہاں بھیجا جانا چاہیے، تو ہر مسئلہ کا حل اپنے آپ ہی نکل آئے گا۔ انا جیسا سوچ رہے ہیں، ملک میں اگر ویسا ہی نظام قائم ہوگیا، تو پھر نہ تو کہیں فسادات ہوں گے، نہ گھوٹالے ہوں گے اور نہ ہی کسی کو یہ شکایت ہوگی کہ اسے انصاف نہیں مل رہا ہے۔ ایسے میں وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہندو مسلمان کو ایشو نہ بناکر ہم سب کو انا کی تحریک میں پوری طرح شامل ہوجانا چاہیے اور آئین کی طرف سے عطا کی گئی بیش قیمتی عوامی جمہوریت کو سیاسی پارٹیوں کی غلامی سے نجات دلانے کے لیے آزادی کی اس دوسری لڑائی میں پوری طرح شریک ہوجانا چاہیے، تبھی ذات پات، رنگ و نسل اور مذہب و ملت سے اوپر اٹھ کر تمام طبقات بشمول دلتوں، آدیواسیوں اور مسلمانوں و دیگر اقلیتوں کو انصاف ملے گا اور وہ ظلم و زیادتی سے بچ سکیں گے۔ اس ضمن میں انہوں نے مختلف سوالات کے جواب میں کانگریس، بی جے پی و دیگر تمام پارٹیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا اور یہ بھی کہا کہ وہ کسی بھی طرح کے ظلم کے ساتھ کیسے ہو سکتے ہیں۔ اور جہاں تک گجرات سانحہ کا سوال ہے توانہوں نے اس کی اور مودی کی بھی تنقید کی ہے۔ g

 

وسیم الحق صاحب نے انا ہزارے کی تحریک کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ پورا ملک ان کو بابائے قوم مہاتما گاندھی کے روپ میں دیکھتا ہے، اس لیے وہ اور خاص کر مسلمان ان سے بابائے قوم جیسی ہی توقع رکھتے ہیں۔ انہوں نے تحریک خلافت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس تحریک کا تعلق پوری طرح سے مسلمانوں اور وہ بھی ترکی کی خلافت سے تھا، لیکن مہاتما گاندھی نے اس تحریک میں مسلمانوں کا پوری طرح ساتھ دیا، لہٰذا ہندوستان کے مسلمان بھی چاہتے ہیں کہ ان کے مختلف قسم کے مسائل میں انا ہزارے ان کی رہبری کریں، خاص کر ان کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے میں۔

—————————وسیم الحق، ایڈیٹر، روزنامہ اخبارِ مشرق

اردو کے معروف کالم نگار اور انگریزی روزنامہ ’ڈی این اے‘ نئی دہلی کے بیورو چیف افتخار گیلانی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے انا کی تحریک کا ذکر کیا اور ملک میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کا مسئلہ بھی اٹھایا اور اعداد و شمار کی روشنی میں بتایا کہ متعدد مسلمانوں کو دہشت گردی کے الزام میں جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ اس تعلق سے انہوں نے یو پی کی مثال پیش کی۔ انہوں نے انا ہزارے سے کہا کہ جب تک مسلمانوں کے سامنے اپنے تحفظ کا مسئلہ رہے گا، وہ اس کے آگے کسی اور بات کے بارے میں کیسے سوچ سکتے ہیں۔ افتخار گیلانی نے بدعنوانی کے تعلق سے ڈنمارک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کرپشن بالکل نہیں ہے اور سوال کیا کہ کیا ہندوستان ایسا نہیں بن سکتا؟
————————————افتخار گیلانی، سینئر صحافی

اس موقع پر سنتوش بھارتیہ نے کہا کہ اردو کو لوگ محبت کی زبان مانتے ہیں، مگر میں اسے انقلاب کی زبان سمجھتا ہوں، کیوں کہ ہندوستان کی آزادی کی لڑائی میں اردو زبان نے اہم رول ادا کیا ہے۔ انہوں نے اردو صحافیوں سے اپیل کی کہ وہ آگے بڑھ کر ملک میں تبدیلی کی قیادت کریں۔ انہوں نے مسلمانوں سے ایک شکوہ بھی کیا کہ ایک طرف وہ یہ امید کرتے ہیں کہ اُن پر ڈھائے جا رہے مظالم کے خلاف برادرانِ وطن آواز بلند کریں، مگر جب دوسرے فرقے کے لوگوں پر ظلم ہوتا ہے اور کسانوں سے زمینیں چھینی جاتی ہیں، تو اس وقت مسلم قیادت مظلوموں کی حمایت میں سامنے نہیں آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب پورے ملک کے مسائل کو اپنے مسائل سمجھیں۔ اس موقع پر انہوں نے چوتھی دنیا کی طرف سے صحافیوں کے ایک فورم کی تشکیل کرنے کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ ہر پندرہ دن میں ایک بار اردو کے تمام صحافیوں کی کسی ایک جگہ پر میٹنگ ضرور ہونی چاہیے، تاکہ سب مل کر ملک کے مسائل پر غور و فکر کر سکیں اور اردو صحافت ایک بار پھر اپنا انقلابی کردار ادا کر سکے۔ ان کے اس مشورے اور اعلان کا وہاں موجود تمام صحافیوں نے نہ صرف خیر مقدم کیا، بلکہ اس سے پوری طرح اتفاق بھی کیا۔ ———— سنتوش بھارتیہ، چیف ایڈیٹر، ہفت روزہ چوتھی دنیا
——ڈاکٹرقمرتبریز

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *