کمل مرارکا 
انا ہزارے نے جن لوک پال بل کے پاس کرانے کے اپنے مطالبہ کا اعادہ کرتے ہوئے وزیر اعظم ہند کو ایک خط لکھا ہے۔ دو برس قبل پورا ملک لوک پال کے بخار میں مبتلا تھا اور یہ بخار حکومت کے اس وعدہ کے ساتھ ختم ہوا تھا کہ لوک پال بل بھلے اس شکل میں نہ ہو، جیسا کہ انا اور ان کے ماننے والے چاہتے ہیں، مگر وہ اعلیٰ سطحوں پر کرپشن سے نمٹنے کے لیے یقینا ایک میکانزم ہوگا۔ بدقسمتی سے دو برس گزر چکے ہیں اور ابھی تک کچھ بھی سامنے نہیں آیا ہے۔
انا نے وزیر اعظم کو یہ کہتے ہوئے مکتوب لکھا ہے کہ متعدد ایشوز پر بہت سے بل پاس کیے جا چکے ہیں، مگر یہ بدنصیبی ہے کہ جس ایشو پر عوام بل کو پاس کرنے کے خواہاں ہیں، وہ بل پاس نہیں کیا جا رہا ہے۔ یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ کانگریس پارٹی کو دیگر اتھارٹیز، جو پہلے سے وہاں موجود ہیں، کو ڈسٹرب کیے بغیر ایک ایسا میکانزم تیار کرنے میں دقت درپیش ہے۔ بہرحال، جب ایک بار کمٹمنٹ ہو جاتا ہے، تب حکومت کو ایک ایسا طریقہ وضع کرنا چاہیے، جس کی مدد سے لوک پال کے نام پر ایک میکانزم عملی جامہ پہن سکے۔ یقینا اگر کانگریس ایسا نہیں کرتی ہے، تب اسے آئندہ لوک سبھا انتخابات میں بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ معاملہ عوام کی یادداشت کا ہے، مگر اعلیٰ سطحوں پر کرپشن سے نمٹنے کا بنیادی ایشو ابھی بھی موزوں ایشو بنا ہوا ہے۔ یہ بھی صحیح ہے کہ نہ بی جے پی اور نہ ہی کسی اور پارٹی نے اس مسئلہ سے نمٹنے کے لیے کسی متبادل میکانزم کا مشورہ دیا ہے۔ لیکن اگر حکومت انا سے باضابطہ کمٹمنٹ کرنے کے بعد اس ایشو پر کچھ نہیں کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے، تو یہ کانگریس پارٹی اور ملک کے لیے سانحہ ہوگا۔
حکومت کم سے کم جو کر سکتی ہے، وہ اس تعلق سے ایک کمیٹی کی تشکیل ہے۔ ممکن ہے کہ وہ دانشوروں اور سول سوسائٹی کو لے کر آل پارٹی کمیٹی ہو، جو یہ مشورہ دے کہ اعلیٰ سطحوں پر کرپشن سے نمٹنے کے لیے کیا کم خرچیلا اور زیادہ مؤثر طریقہ ہو؟ انا کی تجویز بہت دور رس ہو سکتی ہے، کیوں کہ وہ ہزاروں سرکاری ملازمین کو لوک پال کے دائرے میں کور کرنا چاہتے ہیں، جس سے ایک دوسری بیورو کریسی وجود میں آئے گی۔ حکومت کو صرف وزارتی سطح کے کرپشن سے نمٹنے کے لیے متبادل تجویز سامنے لانی چاہیے، جو کہ ملک میں صرف سینکڑوں سے نمٹتا ہو، ہزاروں سے نہیں اور درحقیقت جن لوک پال کے طور پر واقعی ایک اعلیٰ اختیار والا شخص ہونا چاہیے، جو کہ سنگین الزامات سے نمٹ سکے اور ان من گڑھت اور بے بنیاد الزامات کو نظر انداز کر دے، جو کہ اس دوران درپیش ہوں۔
اب ہمیںیہ دیکھنا چاہیے کہ وزیر اعظم اس خط کا جواب کیا دیتے ہیں۔ ہمیں اب بھی یہ امید کرنی چاہیے کہ ان سب سے کچھ تعمیری بات نکل کر سامنے آ سکے گی۔ دوسرا سوال جو کہ وزیر اعظم کے لیے فکرمندی کا باعث ہونا چاہیے، وہ یہ ہے کہ ان کے ساڑھے نو برس کے اقتدار کے بعد انہوں نے اس سلسلے میں کیا کیا اور کیا حاصل کیا؟ 2004 میں پانچ برس اور پھر مزید پانچ برس کی مدت کے لیے طے کیے گئے نکات کی فہرست کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ان کے کچھ ذاتی ایجنڈے بھی تھے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ ضرور تنہائی میں سوچ رہے ہوں گے کہ ایسے بہت سے مواقع گنوا دیے گئے، خواہ ان کا تعلق پاکستان میں امن یا چین میں امن یا اقوام متحدہ میں ایک سیٹ سے متعلق ہو یا بین الاقوامی سطح پر ایران سے تعلقات کا معاملہ ہو، جو کہ ہمیشہ دوستانہ رہتے ہوئے بھی حال میں بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔معیشت سے ہٹ کر ہندوستانی فرنٹ پر میں یہ کہوں گا کہ میں ان کو زیادہ موردِ الزام نہیں ٹھہراؤں گا، کیوں کہ معیشت ایک مختصر نہیں، بلکہ لمبے وقت کی پیداوار ہوتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ نظم و ضبط کے تعلق سے کیا رہا؟ ماؤواد مسئلہ کا کیا ہوا؟ ان تمام مسائل میں حکومت کی پیش رفت درکار ہے۔ ماؤ واد نظم و ضبط سے متعلق مسئلہ ہے اور پولس اور فوج کے ذریعے یہ کوششیں اس طرح کی ہوں گی کہ جیسے وہ نریندر مودی کو کمپلیمنٹ پیش کر رہے ہوں اور یہ وہی ہے، جس میں آر ایس ایس اور بی جے پی یقین رکھتی ہیں۔ یہ لوگ مذاکرات میں یقین نہیں رکھتے ہیں، یہ لوگ اختلاف کرنے والوں کو دبانے میں یقین رکھتے ہیں، خواہ فرقہ وارانہ فرنٹ پر مسلمان ہوں، پڑوسی فرنٹ پر پاکستان ہو یا یہ لوگ امریکہ سے رہنمائی حاصل کرتے ہوں۔ امریکہ بھلے ہی ہزاروں میل دور بیٹھا ہوا ہو، مگر وہ طاقتور ہے اور وہ اس فری انٹر پرائز، پرائیویٹ انٹر پرائز میں یقین رکھتے ہیں، جو کہ جن سنگھ اور بی جے پی کی اقتصادی پالیسی رہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ سب کچھ کے باوجود آر ایس ایس کا کیڈر کیا ہے؟ وہ لوگ جڑ وقتی تاجر ہیں، خواہ دہلی میں چاندنی چوک ہو یا ممبئی میں کلبہ دیوی ہو یا جنوب میں اسی طرح کے مارکیٹ ہوں۔ لہٰذا ہر ایک منشور میں اصل ایشو ہمیشہ سیلس ٹیکس اصلاحات کا ہوگا، کیوں کہ وہ ان کے کیڈروں کو سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے۔ حال میں یقینا کارپوریٹس بھی نریندر مودی کے بینڈ ویگن کی جانب بہت ہی آرام سے گئے ہیں۔ جو بھی وزیر اعظم بنے گا، یہ اسی کے بینڈ ویگن کی جانب لپکیں گے۔ ان کے لیے باعث تشویش کوئی بات نہیں ہے۔ اصل قابل تشویش فیکٹر تو یہ ہے کہ جب تک ملک کو درپیش مسائل کی طرف توجہ نہیں کی جاتی ہے، اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور میں نے جو کچھ مشاہدہ کیا ہے، وہ یہ ہے کہ بی جے پی کا یقینا کوئی ایجنڈا نہیں ہے، مگر کانگریس، جو کہ ہمیشہ قومی ایجنڈا رکھتی ہے، وہ اس فرنٹ پر سو رہی ہے۔ اب جب کہ انتخابات میں صرف 6 ماہ رہ گئے ہیں، وزیر اعظم جتنا جلد ان ایشوز پر توجہ کر سکیں، یہ کانگریس اور ملک کے لیے بہتر ہوگا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here