سیاستدانوں کے لئے خطرہ ہیں انا ہزارے

Share Article

سنتوش بھارتیہ
میں پچھلے دنوں انا ہزارے کی یاترا میں ان کے ساتھ تھا۔ مجھے ایسا لگا کہ انا ہزارے شاید دوبارہ تاریخ رقم کرنے کے راستے پر نکل سکتے ہیں۔ انا ہزارے کی یاترا امرتسر سے شروع ہوئی اور پنجاب ہوتے ہوئے ہریانہ پہنچی۔ ہریانہ کے بعد وہ اتر پردیش گئی۔ اس یاترا میں پہلی خاص چیز یہ دیکھنے میں آئی کہ انا ہزارے کا ساتھ دینے کے لیے ہر عمر کا آدمی آج بھی تیار ہے۔ پلکھوا میں 98 سال کے ایک بزرگ نے مرتے دَم تک انا ہزارے کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔ سولہ، سترہ، اٹھارہ سال کے نوجوان آگے بڑھ کر انا ہزارے کو اپنی حمایت دینے کا یقین دلا رہے ہیں۔
انا ہزارے نوجوانوں سے ان کا ایک سال مانگتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بدعنوانی، مہنگائی اور بے روزگاری سمیت ملک کے جتنے بھی اہم مدعے ہیں، جن میں کسانوں کی زمین پر قبضہ، ان کی خود کشی، تعلیم کا ٹوٹا ہوا تانا بانا، بدلی ہوئی تعلیم یا پھر برباد ہوچکا طبی نظام، ان سب کے خلاف لڑنے کے لیے وہ سپاہی مانگ رہے ہیں۔ ان کا یہ ماننا ہے کہ انہیں اگر ایک سال دینے والے ایک ہزار لوگ مل جائیں، تو وہ اس ملک میں موجودہ سیاست کے خلاف ایک مہم چھیڑ سکتے ہیں۔ آج کی تاریخ میں انا ہزارے اکیلے ہی یہ مہم چھیڑے ہوئے ہیں۔ اس میں ان کا ساتھ جنرل وی کے سنگھ اور مولانا صوفی جیلانی قتال دے رہے ہیں، لیکن انا اس لڑائی کو اور وسعت دینا چاہتے ہیں۔
انا ہزارے نے ایک جوا کھیلا ہے۔ انہوں نے ستمبر کے پہلے ہفتہ میں دہلی میں جن سنسد (عوامی پارلیمنٹ) بلائی ہے۔ اپنی یاترا میں وہ ہر جگہ کے لوگوں کو جن سنسد میں آنے کی دعوت بھی دے رہے ہیں۔ میں اگر جن سنسد سے کچھ سمجھا ہوں، تو وہ یہ ہے کہ اس یاترا کے دوران وہ اپنے 25 نکاتی پروگرام کے اوپر لوگوں کی رائے لیں گے اور اس کے بعد اس 25 نکاتی پروگرام میں کن مدعوں کے اوپر سب سے زیادہ زور دیا جائے، یہ وہ رام لیلا میدان میں طے کریں گے۔ وہاں پر لوگوں کا سیلاب ہوگا یا ہوسکتا ہے کہ صرف کچھ ہزار لوگ ہی موجود ہوں۔ انا ہزارے خود کہہ رہے ہیں کہ وہاں ایک ہزار لوگ آئیں گے، دس ہزار آئیں گے، ایک لاکھ آئیں گے یا ایک کروڑ آئیں گے، انہیں نہیں معلوم۔ پر ابھی انا ہزارے کو مل رہی حمایت کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ان کے بلانے پر ایک کروڑ لوگ دہلی میں آ جائیں گے۔ یہ تصور کرتے ہی ایک کروڑ لوگ دہلی میں آئیں گے، تو دہلی کا کیا حال ہوگا، من تھوڑا کانپ جاتا ہے، لیکن شاید اس نظام کو بیدار کرنے کا اس کے علاوہ اور کوئی چارہ بھی نہیں ہے، یعنی اتنے لوگ دہلی میں لے آؤ کہ لوگوں کی آواز پر دھیان نہ دینے والا نظام چونک کر خود کو سدھارنے میں لگ جائے۔ اگر انا ہزارے کی یہ اپیل کامیاب ہو جاتی ہے اور دہلی میں لوگ آ جاتے ہیں، تو کیا کیا ہو سکتا ہے؟
پہلی چیز تو یہ کہ مہم ٹائیں ٹائیں فش ہو سکتی ہے۔ لوگ آئیں گے، انا ہزارے کی تقریر سنیں گے اور واپس چلے جائیں گے۔ پر اگر کہیں ان کے من کی سچائی اور تڑپ نے نوجوانوں کو چھو لیا، تو پھر اس ملک میں موجودہ سسٹم کے خلاف عوامی امیدوار کھڑا کرنے کا عمل شروع ہو جائے گا۔ انا چاہتے ہیں کہ آنے والے لوک سبھا الیکشن میں عوامی امیدوار کھڑے ہوں اور ہر جگہ کے لوگ اپنے بیچ کا امیدوار خود طے کریں۔ انا الیکشن میں سدھار بھی چاہتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ رائٹ ٹو رجیکٹ فوراً نافذ ہونا چاہیے۔ عوام کویہ حق ملنا ہی چاہیے۔ پاکستان میں گزشتہ دنوں وہاں کے الیکشن کمیشن نے اپنی طرف سے اپنے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے رائٹ ٹو رِجیکٹ نافذ کردیا اور وہاں کوئی شور نہیں ہوا۔ ہمارے ملک میں ہمارا الیکشن کمیشن بھی سیاسی لیڈروں کے اشارے پر چلتا ہے، اسی لیے وہ کبھی بھی کوئی سخت فیصلہ نہیں لے پاتا۔ الیکشن کمیشن کو یہ فیصلہ لینا چاہیے کہ ہندوستان میں بھی رائٹ ٹو رِجیکٹ نافذ ہو، اور دوسرا فیصلہ الیکشن کمیشن کو یہ لینا چاہیے کہ عام انتخابات سے قبل ساری سیاسی پارٹیوں کے چناؤ نشان ردّ کر دیے جائیں۔ سارے چناؤ نشان فری ہوں اور انہیں ایک پروسیس کے تحت لاٹری سسٹم کی طرح بانٹا جائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے، تو امیدواروں کو اس ملک کے لوگوں کے سامنے جاکر اپنی ایمانداری کا ثبوت دینا پڑے گا اور اپنے پروگراموں کی بنیاد پر انہیں سمجھانا پڑے گا، نہیں تو وہ الیکشن ہار جائیں گے۔ اسی لیے رائٹ ٹو رِجیکٹ اور چناؤ نشان کو فریز کرکے ہر عام انتخابات میں نئے سرے سے سارے امیدواروں، ساری پارٹیوں کو نئے چناؤ نشان نئے سرے سے تقسیم کرنا، یہ دو کام فوری طور پر کرنے کی ضرورت ہے۔ انا ہزارے اس میں رائٹ ٹو رِجیکٹ پر تو زور دے رہے ہیں، شاید چناؤ نشان فریز کرنے اور انہیں نئے سرے سے بانٹنے کے سوال کو بھی وہ جن سنسد میں اٹھائیں۔ لوگ انا ہزارے کی طرف بہت امید سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ امید اسی لیے اور بھی اہم ہو جاتی ہے، کیوں کہ 120 کروڑ لوگوں کے اس ملک میں عوام کی آواز اٹھانے والا کوئی بھی آدمی رہا ہی نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ساری سیاسی پارٹیاں اور ان کے لیڈر ایک دوسرے سے مقابلہ آرائی کر رہے ہیں کہ کون عوام کے خلاف زیادہ بڑھ چڑھ کر بول سکتا ہے یا کون عوام کو زیادہ بیوقوف بنا سکتا ہے۔ سوال اب سیدھے انا ہزارے اور ہندوستان کے عوام کا ہے۔
انا ہزارے کے پاس پیسہ نہیں ہے، اس کے باوجود وہ ملک میں گھوم رہے ہیں۔ انا ہزارے کے پاس منظم حمایت بھی نہیں ہے، غیر منظم حمایت ہے، لیکن اگر یہ غیر منظم حمایت کہیں منظم ہوگئی، تو یہ ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں کے لیے خطرہ پیدا کر دے گی۔ انا یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ قلم کار ہو، صحافی ہو، ڈرامہ نگار ہو، شاعر ہو، ٹیچر ہو، ڈاکٹر ہو یا وکیل، ان سب کو اپنے اپنے دائرے سے نکلنا چاہیے اور ملک کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔ انا کی اپیل لوگ سن رہے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ بہت سارے صحافی، خاص کر ان اداروں کے صحافی، جن کے ایڈیٹر اپنے اوپر سوالیہ نشان اوڑھے گھوم رہے ہیں، کچھ ہتھیاروں کی دلالی کے سلسلے میں اور کچھ وزیروں کے پبلک رلیشن آفیسر کا رول نبھانے میں، ایسے اخباروں کے صحافیوں نے انا کو اپنی حمایت دینے کا وعدہ کیا ہے۔ انا کی حمایت میں جب پولس اور فوج کے لوگ شامل ہو جائیں، افسر اور چھوٹے ملازم شامل ہو جائیںاور اگر کہیں کہ انا ہم آپ کے ساتھ ہیں، تو پھر یہ ماننا چاہیے کہ عام لوگوں کی امید ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ میں نے لوگوں کو انا ہزارے کی تقریر ہاتھ جوڑ کر سنتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ لوگ انا ہزارے میں ایک سنت کو دیکھ رہے ہیں، جو نظام میں تبدیلی کی زبان بول رہے ہیں اور ان کا ساتھ دینے کے لیے جین مُنی، سناتنی سادھو، بودھ اور پادری، یعنی ہر طرح کے لوگ سامنے آ رہے ہیں۔ ایک صوفی سنت تو ان کے ساتھ ہی چل رہے ہیں۔ اسی لیے انا ہزارے کو کمزور نہیں سمجھنا چاہیے اور ان کے اگلے قدموں کو پوری توجہ کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔
ہاں، ایک بات ضرور ہے کہ میڈیا انہیں نظر انداز کر رہا ہے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ جہاں پر 8 ہزاروں لوگوں کی میٹنگ ہو رہی ہے، وہاں کانگریس سے جڑے اور اس کی ملکیت میں چل رہے ٹیلی ویژن چینل کہتے ہیں اور وہ بھی گرافکس کے سہارے کہ وہاں کوئی بھی نہیں تھا، جہاں پر پہلے پورا ہال بھرا رہتا تھا۔ انہیں یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ جھوٹ کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ اگر وہاں ان کا کیمرہ مین تھا، تو انہیں گرافکس کے سہارے کی کیا ضرورت تھی، وہ خالی پنڈال دکھاتے۔ اس کے بعد ان کا کیمرہ انا کی میٹنگوں میں نہ کبھی نظر آیا اور نہ نظر آئے گا۔ اس ٹیلی ویژن چینل نے کانگریس اور بی جے پی کے مشترکہ پرچار اور جو بھی ان دونوں کے خلاف ہیں، ان کی شبیہ خراب کرنے کا ٹھیکہ لے لیا ہے۔ اس گروپ کے پاس میگزین ہے، اخبار ہے اور بے انتہا پیسہ بھی ہے، جس سے ٹیلی ویژن چینل خریدے جا رہے ہیں، لیکن کوئی بھی ٹیلی ویژن چینل ساکھ نہیں بنا پا رہا ہے۔ انا ہزارے کے اوپر ان چیزوں کا کوئی اثر نہیں پڑ رہا ہے۔ وہ لگاتار چلتے جا رہے ہیں، چلتے جا رہے ہیں، چلتے جا رہے ہیں ۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *