انا ہزارے سے چوک ہو گئی

ڈاکٹر منیش کمار
انا ہزارے کی تحریک بے سمتی کا شکار ہو گئی ہے، بے سمتی کئی سطح پر نظر آ رہی ہے، بے سمتی کا مطلب اس بات سے ہے کہ انا ہزارے اور ان کے تمام خوبیوں سے آراستہ منیجروں نے تحریک تو شروع کر دی لیکن یہ اندازہ ہی نہیں لگا پائے کہ آنے والے دنوں میں کون کون سی چنوتیاں آنے والی ہیں۔ اپنے بیانات اور رویہ سے دوستوں کو بھی دشمن بنا دیا۔ ایک ہی جھٹکے میں دشمنوں کو متحد ہونے کی وجہ دے دی۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ جس کے خلاف وہ بدعنوانی کی لڑائی لڑ رہے تھے، آج وہ بدعنوانی مٹانے والے نظر آ رہے ہیں اور جو ملک سے بدعنوانی مٹانے نکلے تھے وہی بدعنوان ثابت ہو رہے ہیں۔تحریک کی خاصیت یہ ہے کہ عوامی حمایت سے اس تحریک نے زبردست کامیابی حاصل کی لیکن پہلی ہی میٹنگ میں سب کچھ گنوا دیا۔
ملک کے عوام انتظار کر رہے تھے کہ کوئی شخص ہوگا جو بدعنوانی کی لڑائی لڑے گا لیکن لگتا ہے کہ بدعنوانی کی لڑائی ٹوٹنے لگی ہے بکھرنے لگی ہے۔ ذرا سوچئے ایک طرف پرنب مکھر جی، پی چدمبرم، کپل سبل، ویرپا موئلی، سلمان خورشید اور دوسری طرف شانتی بھوشن اور پرشانت بھوشن ، انا ہزارے، ہیگڑے اور اروند کیجریوال۔ حکومت کی طرف سے جن لوگوں کو اس کمیٹی میں رکھا گیا ہے وہ قانون اور سیاست کے ماہر ہیں۔اپنی دلیلوں سے مخالفین کو شکست دینے میں ماہر ہیں اور دوسری طرف قانون کے دو ماہرین شانتی بھوشن اور پرشانت بھوشن ہیں۔ دونوں الزامات کے گھیرے میں ہیں۔ شانتی بھوشن کی عمر کا اثر بھی نظر آتا ہے۔ ویسے انگریزی نہ جاننا کوئی گناہ نہیں ہے، لیکن ہمارا ملک بھی تو عجیب ہے۔ جن لوک پال کا مسودہ بھی انگریزی میں بنا ہے۔ بحث انگریزی میں ہوگی کیونکہ کمیٹی کے کئی لوگوں کو ہندی نہیں آتی۔ اب انا ہزارے اس بحث میں کیسے حصہ لیں گے انہیں انگریزی نہیں آتی اور نہ ہی وہ قانون کے ایسے ماہر ہیں جو سرکاری اراکین کو شکست دے سکیں۔ اروند کیجریوال سماجی کارکن ہیں۔ یہ تنہا رکن ہیں جو میٹنگ کے دوران سرکاری فریق سے جواب طلب کر رہے تھے۔ جب آپ کسی میٹنگ میںمذاکرات کر رہے ہیں، تو سامنے والے سے آپ کے اندر کی جسمانی اور ذہنی طاقت اکیس ہی ہونی چاہئے انیس نہیں۔ یہی بات انا ہزارے کو سمجھ میں نہیں آئی۔ جب پہلی میٹنگ کے بعد یہ لوگ باہر آئے تو ان کی باڈی لینگویج سے ہی پتہ چل گیا کہ اندر کیا ہوا۔ پہلی میٹنگ میںلوک پال کی تقرری اور میٹنگ کی ویڈیو گرافی پر بات ہوئی ۔دونوں ایشوز پر سرکاری فریق حاوی رہا۔لوک پال کی تقرری کی ذمہ داری میں وزیر اعظم اور اپوزیشن کے لیڈر شامل ہو گئے۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے کہ چیف ویجلنس کمشنر کی تقرری میں ہوتا ہے۔ اسی ضابطہ کی طرح پی جے تھامس کی تقرری ہوئی تھی۔ پی جے تھامس پر بدعنوانی کا معاملہ چل رہا تھا پھر بھی وہ اسی ضابطہ کے تحت سی وی سی بننے میں کامیاب رہے تھے۔اس ایشو پر حکومت کٹہرے میں آ گئی۔ میٹنگ کی ویڈیو گرافی پر بھی سول سوسائٹی کے نمائندوں کو کامیابی نہیں ملی۔ اس میٹنگ میں آڈیو ریکارڈنگ پر ہی اتفاق رائے ہو پایا۔لوک پال قانون بنانے کی اس لڑائی میں ایک آرمی جنرل کا بیان یاد آتا ہے جو اس نے 1971کی جنگ کے بارے میں دیا تھا۔ وہ بیان یہ تھا کہ ہم پاکستان سے میدان میں جنگ تو جیت گئے لیکن شملہ میں ٹیبل پر ہار گئے۔ڈر اس بات کا ہے کہ یہ سچ ثابت نہ ہو جائے۔
انا ہزارے سے کئی غلطیاں ہوئی ہیں جس سے بدعنوانی کے خلاف تحریک ہی بے سمت ہو گئی ہے ۔پہلا جھٹکا بابا رام دیو نے دیا جب انھوں نے بل ڈرافٹ کرنے والی کمیٹی میں کرن بیدی کا نام پیش کر دیا۔یہ معلوم ہو گیا کہ تحریک چلا رہے لوگوں میں اتحاد نہیں ہے ۔ اس تحریک کی خامیاں جیسے ہی اجاگر ہوئیں دلالوں نے حملے شروع کردئے۔ پرشانت بھوشن اور شانتی بھوشن جو جوائنٹ کمیٹی ڈرافٹ کی جا رہی ہے لوک پال بل کے رکن ہیں، چیئر مین ہیں ، ان پر نئے نئے الزام لگے۔ اس پوری کہانی کے درمیان ایک کہانی چھپ سی گئی ہے  اور وہ کہانی ہے کہ بلیک منی کو لے کر اس ملک میں جو عوامی تحریک یا عوامی ا شتعال شروع ہوا وہ بابا رام دیو سے شروع ہوا ، پھر انا ہزارے نے لوک پال بل کے لئے جنتر منتر پر مظاہرہ کیا۔ بابا رام دیو اور انا ہزارے میں دوریاں بڑھتی گئیں، تحریک جیسے ہی الگ تھلگ ہوئی دلالوں نے سچ کے سپاہیوں پر حملہ شروع کر دیا۔
انا ہزارے سے لوگوںکو امید تھی لیکن یہ سمجھ لینا کہ ہندوستان کی سول سوسائٹی کو صرف تحریک میں شامل لوگ نمائندگی کرتے ہیں یہ بھی ایک بھول ہے۔جو لیڈر آئے انہیں وہاں سے بھگا دیا گیا۔اوم پرکاش چوٹالہ، اوما بھارتی کو بھگا دیا اور انوپم کھیر کے آنے پر سب لوگ خوش ہو گئے۔ کسی بھی تحریک میں اگر کسی لیڈر کی حمایت ملتی ہے تو اسے قبول کرنا چاہئے، یہ بھی ایک بھول تھی۔ تحریک ختم ہونے کے بعد جب شانتی اور پرشانت بھوشن پرالزام لگا تو انا نے سونیا گاندھی کو خط لکھا، سونیا کاجواب بھی آگیا، یہ بھی جلد بازی میں اٹھایا گیا قدم تھا۔ ایک اور غلطی یہ ہوئی کہ پوری تحریک پر چار پانچ لوگ قبضہ کئے بیٹھے تھے۔ اس کی ایک مثال بابا رام دیو بھی ہیں۔ بابا رام دیو کو ئی عام شخص نہیں ہیں، بابا رام دیو جنتر منتر پر آئے تو انہیں وہاں بیٹھنے بھی نہیں دیا گیا۔انا ہزارے کی تحریک کو82لاکھ روپے ملے ہیں، جس میں37لاکھ خرچ ہوئے ، خبر یہ بھی آئی کہ پیسہ کانگریسی کنبہ جندل نے دیا۔تحریک کے دوران جنتر منتر پر صرف انا ہزارے ہی نہیں بھوک ہڑتال کر رہے تھے، بلکہ ان کے ساتھ 150آدمی بھی ’’آمرن برت‘‘ پر بیٹھے۔ ان لوگوں نے تین تین روز تک بھوک ہڑتال کی لیکن ان کا نام تک نہیں لیا گیا۔ انا ہزارے کو ان کے درمیان میں بیٹھنا تھا۔ کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ انا ہزارے کی تحریک کانگریس چلا رہی تھی تاکہ بابا رام دیو کی تحریک کمزور پڑ جائے۔ ایک کنبہ سے دو آدمیوں کو رکھنا سب سے بڑی بھول ہے۔
بابا رام دیو اور انا ہزارے میں ایک یکسانیت یہ ہے کہ دونوں ہی بہت ہی سکریٹیو ہیں۔ دونوں ہی اپنے چند صلاح کاروں کی باتوں پر عمل کرتے ہیں۔ دونوں ہر چیز کو انڈر کنٹرول رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ کوئی بھی آئے وہ ان کے اندر کام کرے۔بابا رام دیو کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ گروکل میں پڑھے ہیں۔ دیانند سرسوتی کے آریہ سماج کا بابا رام دیو پر کافی اثر ہے۔ذہنی طور پر وہ آر ایس ایس کے مرید ہیں۔ کئی بار تقریر میں وہ متحد ہندوستان کی پیروی کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا بدعنوانی کے خلاف جو تحریک چلی وہ ختم ہو چکی ہے؟ میرا ماننا ہے کہ ابھی یہ ختم نہیں ہوئی ہے۔ اس کے محور نہ بابا رام دیو ہیں اور نہ انا ہزارے ہیں۔ ناکام ہو جانے دو دونوں کوپھر کوئی لیڈر آ جائے گا، اس ملک میں لیڈروں کی کمی تھوڑی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ انا ہزارے اور ان کے ساتھیوں کا ہدف جن لوک پال بل کو نافذ کرنا ہی نہیں بلکہ اس کا کریڈٹ لینا ہے۔اگر جن لوک پال بل کو نافذ کرانا مقصد تھا تو ایک ہی دائوں میں جن لوک پال قانون بن جاتا اور حکومت کو سنبھلنے کا موقع تک نہیں ملتا۔انا ہزارے یہ سمجھ نہیں سکے کہ اس ملک میں بدعنوانی سے لڑنے والے آدمیوں کی کوئی کمی نہیں ہے، وہ یہ بھی نہیں سمجھ رکھتے کہ سیاسی جماعتوں سے لڑنے کے لئے سیاست آنی چاہئے۔قانون کے ماہرین کی بھی کمی نہیں ہے اور یہ کہنا کہ جن لوک پال بل ہم نے بنایا ہے اور کوئی دوسرا اسے سمجھ نہیں سکتا یہ بات بھی غلط ہے۔ انا ہزارے کو چاہئے تھا کہ تحریک کی کامیابی کے بعد وہ کمیٹی کے لئے ایسے ایسے لوگوں کا نام آگے کرتے، جس سے نہ صرف لوک پال بل تیار ہو جاتا بلکہ پارلیمنٹ میں اسے پاس ہونے کی گارنٹی بھی مل جاتی۔ اگر اس کمیٹی میں ارون جیٹلی، سیتارام یچوری، سبرامنیم سوامی، پھالی ایس نریمن اور اروند کیجریوال ہوتے تو یہ سرکاری نمائندگی پر نہ صرف بھاری پڑتے بلکہ اسے پارلیمنٹ میں پاس کرانے کی گارنٹی بھی مل جاتی۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *