آئو ملک دشمنوں کو سبق سکھائیں: انا

Share Article

سماجی کارکن انا ہزارے،ورلڈ صوفی کونسل کے چیئرمین صوفی جیلانی اور سینئر صحافی سنتوش بھارتیہ کی قیادت میں چل رہی جن تنتر یاترا 5مئی کو راجستھان کے سری p-4گنگا نگر سے شروع ہوئی۔ یہاں مقامی پارک میں انا ہزارے نے ایک عظیم عوامی ریلی سے خطاب کیا۔ یاد رہے کہ راجستھان سمیت ملک کے شمالی حصوں میں شدید گرمی پڑ رہی ہے، لیکن اس کے باوجود انا ہزارے کو سننے اور ان کی ایک جھلک پانے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود رہے۔ پروگرام شروع ہونے سے پہلے سری گنگا نگر کے معزز لوگوں نے انا ہزارے ، صوفی جیلانی اور سنتوش بھارتیہ کا خیر مقدم کیا۔ اس موقع پر ضلع کے کالیا گائوں سے آئیں خواتین نے بھی انا ہزارے کو اعزاز سے نوازا۔قابل ذکر ہے کہ کئی سال پہلے کالیا گائوں نشہ خوری کے لیے بدنام تھا۔ گائوں کے بیشتر نوجوان نشے کی گرفت میں پھنس چکے تھے، اس لیے مقامی خواتین نے اس سماجی برائی کے خلاف ایک مہم چلائی تھی۔ نتیجتاً ، آج یہ گائوں مکمل طور پر نشہ سے نجات حاصل کر چکا ہے۔گائوں کی خواتین کے مطابق ، انھوں نے نوجوان نسل کو تباہی سے بچانے کی یہ ترغیب انا ہزارے سے لی ۔
سری گنگا نگر کے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ا نا ہزارے نے کہا کہ بدعنوانی سے نمٹنے کے لیے مؤثر جن لوک پال قانون کی سخت ضرورت ہے۔ مرکزی حکومت پر نشانہ سادھتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ ملک میں بدعنوانی جڑ سے ختم ہو۔ اگر حکومت کا منشا صحیح ہوتا ، تو وہ اب تک اس قانون کو عوامی اتفاق رائے سے پاس کر چکی ہوتی، لیکن اس کی نیت میں ہی کھوٹ ہے۔ انا ہزارے نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کے تئیں بیدار ہوں، کیونکہ اب انہیں فیصلہ کن لڑائی لڑنی ہوگی۔انا ہزارے نے کہا کہ اس جن تنتر یاترا کا مقصد ملک کے لوگوں کو بیدار کرنا ہے، تاکہ وہ اپنے اپنے حقوق کے تئیں بیدار ہوں۔ انا کے مطابق، اگر پانچ مہینے کے اندر حکومت مؤثر جن لوک پال قانون پاس نہیں کرے گی، تو اس کے بعد دہلی میں جن سنسد (عوامی پارلیمنٹ) منعقد کی جائے گی۔ سینئر صحافی سنتوش بھارتیہ نے کہا کہ انا ہزارے ملک کی حفاظت کے لیے نوجوانوں سے ایک سال کا مطالبہ کر رہے ہیں، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ ملک میں جب بھی کوئی تحریک ہوئی، تو اس میں نوجوانوں کی حصہ داری اہم رہی ہے۔ اس موقع پر صوفی جیلانی نے کہا کہ جنھوں نے مہاتما گاندھی کو نہ دیکھا ہے اور نہ ہی سناہے، وہ انا ہزارے میں باپو کا عکس دیکھ سکتے ہیں۔
اس کے بعد انا ہزارے ، صوفی جیلانی اور سنتوش بھارتیہ جن تنتر یاتریوں کے ساتھ ضلع ہنومان گڑھ پہنچے۔ یہاں انھوں نے ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کیا۔ اس کے بعد ان کا کارواں سورت گڑھ پہنچا۔ا س سے پہلے انھوں نے پیلی بنگا میں بھی ایک روڈ شو کیا۔ یہاں انہیں سننے اور ان کی ایک جھلک پانے کو بے قرار ہزاروں لوگ امنڈ پڑے۔ تقریباً شام 7بجے انا ہزارے کی جن تنتر یاتراسورت گڑھ پہنچی۔ سورت گڑھ کے عوامی جلسے میں ہزاروں لوگ موجود تھے۔ انا ہزارے جیسے ہی اسٹیج پر پہنچے، لوگوں نے کھڑے ہو کر انا ہزارے زندہ باد، انا تم سنگھرش کرو، ہم تمہارے ساتھ ہیں ، جیسے نعرے لگائے۔ انا نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان سے گورے چلے گئے، لیکن کالے رہ گئے، جو ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ انھوں نے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کی خدمت کے لیے وقت ضرور نکالیں، کیونکہ ملک کو ان کی ضرورت ہے۔
جن تنتر یاترا دوسرے دن 6 مئی کو ارجن سر، راجیا سر اور مہاجن ہوتے ہوئے بیکانیر پہنچی۔بیکانیر جانے کے سلسلہ میں انا ہزارے نے کئی جگہ روڈ شو بھی کیا، جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ انہیں سننے اور دیکھنے کے لیے بیتاب نظر آئے۔ 6 مئی کی شام تقریباً ساڑھے چھ بجے انا ہزارے جن تنتر یاتریوں کے ساتھ بیکانیر پہنچے۔ بیکار نیر میں شام ساڑھے سات بجے جونا گڑھ قلعے کے سامنے انھوں نے ایک عظیم الشان عوامی جلسے سے خطاب کیا۔ ان جلسوں میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود تھے، جو انا کے خطاب پر بھارت ماتا کی جے اور وندے ماترم جیسے نعرے لگا رہے تھے۔ جن تنتر یاترا 7 مئی کو بیکانیر سے ناگور ہوتے ہوئے جودھپور پہنچی۔ جودھپور میں انا نے گاندھی میدان میں ایک عظیم الشان ریلی سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ ان کی جن تنتر یاترا نظام میں تبدیلی کے لیے ہو رہی ہے، کیونکہ موجودہ حکومت ہر محاذ پر ناکام رہی ہے۔ ان کے مطابق، ملک میں مہنگائی اور بدعنوانی کی وجہ سے عام لوگوں کا جینا دشوار ہو گیا ہے،لیکن مرکزی حکومت کو اس سے کوئی مطلب ہی نہیں ہے۔
جن تنتر یاترا 8 مئی کو جودھ پور ہوتے ہوئے بیاور پہنچی۔ بیاور پہنچنے سے پہلے انا جیتارن میں واقع پاون دھام جیتارن پہنچے۔ اس موقع پر جین مُنیوں نے ان کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔ یہاں انا نے اپنے خطاب میں کہا کہ آزادی کی ساڑھے چھ دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی ملک کے عوام کی پریشانیاں کم نہیں ہوئی ہیں۔ طلبا، نوجوانوں، کسانوں اور مزدوروں کی حالت سب سے زیادہ خراب ہے۔ ایسی صورت میں عوام کو چاہئے کہ وہ اپنے حقوق کو پہچانیں اور بدعنوان حکمرانوں اور ان کی پارٹیوں کا بائیکاٹ کریں، کیونکہ پارٹی سسٹم سے صرف اور صرف لیڈروں کو فائدہ ہوا، لیکن عوام کو کچھ بھی فائدہ نہیں ہوا۔ پاون دھام (جیتارن) سے شام چار بجے انا بیاور کی جانب روانہ ہوئے۔ بیاور میں واقع سبھاش پارک جانے میں انا کو تقریباً دو گھنٹے لگ گئے، کیونکہ پورے شہر میں لوگوں کا ہجوم ان کا خیر مقدم کرنے کے لیے آیا تھا۔ طلبا، نوجوان، خواتین، بوڑھے اور بچے سبھی انا ہزارے پر پھولوں کی بارش کر رہے تھے۔ بیاور کے عوامی جلسے کو خطاب کرتے ہوئے انا نے کہا کہ اس ملک کو جتنا انگریزوں نے لوٹا، اس سے کہیں زیادہ ہمارے لیڈروں نے لوٹا ہے۔ ان کے مطابق، جمہوریت میں عوام ہی اصلی مالک ہیں اور لیڈر عوام کے خادم ہیں، لیکن ملک میں بالکل اس کے برعکس صورتحال ہے۔ان کے مطابق، بدعنوانی پر لگام کسنے کے لیے مؤثر جن لوک پال ہونا بے حد ضروری ہے، لیکن تمام پارٹیوں کے لیڈر اس مدعے پر بہانے بازی کر رہے ہیں، کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ اگر یہ قانون بن جاتا ہے، تو ان کی جگہ پارلیمنٹ میں نہیں، بلکہ تہاڑ جیل میں ہوگی۔
جن تنتر یاترا 9 مئی کو بیاور ہوتے ہوئے بھیلواڑہ پہنچی۔ یہاں اپنے خطاب میں انا ہزارے نے کہا کہ آزادی کی دوسری لڑائی لڑنے کا وقت آ گیا ہے ، کیونکہ گزشتہ 65سالوں میں لیڈروں نے ملک کی بہتری کے بجائے صرف اپنے مفادات کی تکمیل کی ہے۔عام آدمی مہنگائی، بدعنوانی اور بے روزگاری سے پریشان ہے، لیکن اس کی سننے والا کوئی نہیں ہے۔ انا نے اس موقع پر لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی صلاحیت کو پہچانیں اور ملک دشمنوں کو سبق سکھائیں۔ اس کے بعد دس مئی کو انا کا قافلہ اجمیر پہنچا، جہاں انھوں نے ایک عظیم الشان عوامی جلسے سے خطاب کیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *