متھراکی ویٹرینری یونیورسٹی میں ’پشو آروگیہ میلہ ‘ کا افتتاح کیا

Share Article

 

– وزیر اعظم نے 150 کروڑ کی اسکیموں کا سنگ بنیا د رکھا اور افتتاح کیا

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز متھرا میں گائے پوجا کے ساتھ نیشنل اینیمل ڈیزیز کنٹرول پروگرام (این اے ڈی سی پی) لانچ کیا۔ متھرا کی ویٹرنری یونیورسٹی میں پشو آروگیہمیلے کا افتتاح اور 150 کروڑ کی اسکیموں کا سنگ بنیادرکھا اور افتتاح کیا۔ اس کے بعد وزیر اعظم مودی نے کہا کہ آج پوری دنیا ماحولیاتی تحفظ کے لئے کوشاں ہے لیکن ہمارے یہاں ماحول اور لائیواسٹاک تحفظ کی سب سے بڑی ترغیب بھگوان کرشن سے ملتی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے بدھ کے روز کہا کہ کچھ لوگوں کے کان پر اگر گائے لفظ پڑتا ہے تو ان کے بال کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اگر‘ اوم ‘ پڑتا ہے تو ان کے بال کھڑے ہو جاتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے ملک 16 ویں صدی میں چلا گیا۔ کیا دیہی معیشت کی بات بغیر لائیواسٹاک کے کی جا سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ فطرت، ماحولیات اور لائیواسٹاک ہمیشہ سے بھارت کی اقتصادیات کی جڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت اورمویشی پروری فروغ دیتے ہوئے ہم نئے بھارت کی تعمیر کی طرف آگے بڑھ رہے ہیں۔ مودی نے کہا کہ دودھ، دہی اور ماکھن کے بغیر بال گوپال کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ جانوروں کے تحفظ اور فروغ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں گائے، بھینس، بکری اور سووروں کو سال میں دو بار ٹیکے لگائے جائیں گے۔ ٹیکہ کاری والے جانوروں کو یونیک شناخت دے کر ٹیگز لگایا جائے گا۔ جانوروں کو صحت کارڈ بھی جاری کیا جائے گا۔ اس ویکسینیشن پروگرام کے تحت 51 کروڑ گائے، بھینس، بھیڑ، بکری اور سووروں کو سال میں 2 بار ٹیکے لگائے جائیں گے۔ جن جانوروں کی ٹیکہ کاریمکمل ہو جائے گی ، انہیں پشوآدھار دے کر ان کے کانوں میں ٹیگ لگایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کسانوں کی آمدنی بڑھانے میں مویشی پروری اور دوسرے کاروباری اداروں کا بھی بہت بڑا کردار ہے۔ مویشی پروری ہو، ماہی پروری ہو یا شہد کی مکھی پروری، ان پر کی گئی سرمایہ کاری زیادہ آمدنی دیتی ہے۔ اس کے لئے گزشتہ 5 سالوں میں زراعت سے منسلک دوسرے متبادل پر ہم ایک نئی پہل کے ساتھ آگے بڑھے ہیں۔ بھارت کے ڈیری سیکٹر کو توسیع دینے کے لئے ہمیں نئی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ یہ انوویشن ہمارے دیہی معاشرے سے بھی آئیں، اسی لیے آج اسٹارٹ اپ گرینڈ چیلنج کی شروع کر رہا ہوں۔ ہمیں حل تلاش کرنے ہیں کہ سبز چارے کا انتظام کس طرح ہو، انہیں بھی پرمغز غذا کس طرح ملے؟ اسی نئی ایپروچ کا نتیجہ ہے کہ 5 سال کے دوران دودھ کی پیداوار میں تقریباً 7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ کسانوں اور مویشی پروری کرنے والوں کی آمدنی میں تقریبا 13 فیصد اضافہ درج کیاگیا ہے۔ میں ملک بھر کے گاؤں گاؤں میں کام کر رہے ہرسیلف ہیلپ گروپ سے، سماجی تنظیموں سے، نوجوان گروپوںسے، خواتین اداروںسے، کلبوں سے، اسکولوں اور کالجوں سے، سرکاری اور نجی اداروں سے، ہر شخص ہر تنظیم سے اس مہم سے جڑنے کی اپیل کرتا ہوں۔

پی ایم مودی نے کہا کہ ماحولیات اور صحت سے منسلک ایک موضوع پانی کے بحران کا ہے۔ پانی کا بحران کا علاج ہے- پانی زندگی مشن۔ اس مشن کے تحت پانی کے تحفظ اور ہر گھر پانی پہنچانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس کا بہت بڑا فائدہ دیہات میں رہنے والوں کو، کسانوں کو ملے گا۔

اس سے ماں بہنوں کو سہولت ملے گی ۔پشو دھن کا معیار اور صحت سے لے کر دودھ کی مصنوعات کی ورائٹی کو توسیع دینے کے لئے جو بھی ضروری قدم تھے، وہ اٹھائے گئے ہیں۔ دودھ دینے والے جانوروں کے معیار کے لئے پہلے قومی گوکل مشن شروع کیا گیا اور اس سال ملک جانوروں کی مناسب نگرانی کے لئے کام دھینو کمیشن بنانے کا فیصلہ ہوا ہے۔

ماحولیاتی تحفظ کے بارے میں وزیر اعظم نے کہا کہ فضلہ سے کنچن کی سوچ ہی ہمارے ماحولیات کی حفاظت کرے گی۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ ہمیں اپنی عادات کو تبدیل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لئے ہم جب بھی باہر مارکیٹ میں کچھ خریدنے جائیں، تو اپنے ساتھ اپنا بیگ ضرور لے جائیں۔ ہمیں یہ کوشش کرنی ہے کہ اس سال 2 اکتوبر تک اپنے گھروں کو، اپنے دفتروں کو، اپنے کام کرنے کی جگہوں کو سنگل یوز پلاسٹک سے آزاد کریں۔ پلاسٹک کے بیگ کا سستا اور قابل رسائی متبادل کیا ہو سکتا ہے؟ ایسے متعدد موضوعات کا حل دینے والے اسٹارٹ اپ شروع کئے جا سکتے ہیں ۔ حفظان صحت جیسی خدمت پروگرام کے ساتھ ہی کچھ تبدیلی ہمیں اپنی عادات میں بھی لانی ہوگی۔ ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہم جب بھی مارکیٹ میں کچھ بھی خریداری کرنے جائیں،تو ساتھ میں کپڑے یا جوٹ کا تھیلے ضرور لے جائیں۔ پیکنگ کے لئے دکاندار پلاسٹک کا استعمال کم سے کم کریں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو پناہ اور تربیت دینے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے بھارت پوری طرح اہل ہے اور ہم نے کر کے دکھایا بھی ہے۔ مشرق میں ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مودی کا خیر مقدم کیا۔ اسٹیج پر مرکزی وزیر گری راج سنگھ، ریاستی حکومت کے وزیر سری کانت شرما، چودھری لکشمی نارائن، بی جے پی کے ریاستی صدر آزاد دیو سنگھ اور متھرا کی رہنما ہیما مالنی بھی موجود رہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *