انل امبانی جیل میں کیوں نہیں

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار
آج کے زمانے میں امر سنگھ جیسا دوست ملنا مشکل ہے، جن کے پاس امرسنگھ جیسے دوست ہوں، ان کا بال بھی بیکا نہیں ہوسکتاہے۔ کہاں ملتے ہیں ایسے لوگ جو دوست کے لیے پوری دنیا سے لڑ جائیں۔ امر سنگھ نے یہی کیا، سینہ ٹھونک کر کیا۔ یہ صرف امرسنگھ ہی کرسکتے ہیں۔ جن لوک پال بل کے نام پر پورا ملک اناہزارے کا ساتھ دے رہا تھا۔ حکومت ڈری ہوئی تھی، سیاسی پارٹیاں خاموش تھیں، لیڈر میڈیا سے دور بھاگ رہے تھے۔ ایسے میںلہر کے خلاف امرسنگھ کی زبردست انٹری ہوتی ہے۔ انہوں نے ایک ہی جھٹکے میں پوری تحریک کی ہوا نکال دی۔ امرسنگھ کے الزامات سے کسی کو بھی اختلاف ہوسکتا ہے، لیکن ان کی ہمت کی داد تو دینی ہی پڑے گی۔ امرسنگھ نے دوستی نبھائی ہے۔ امرسنگھ کا مقصد پرشانت بھوشن اور شانتی بھوشن کو لوک پال بل تیار کرنے والی کمیٹی سے باہر کرنا نہیں تھا۔ ان کا ایجنڈا یہ تھا کہ وہ عدالت پر ایسا دباؤ ڈالیں کہ 2جی گھوٹالے میں ان کے دوست انل امبانی پر کوئی کارروائی نہ ہو، ان کی گرفتاری نہ ہو۔ امرسنگھ کی وجہ سے انل امبانی سی بی آئی کی چارج شیٹ میں نہیں ہیں۔ امرسنگھ کا اپنے دوست انل امبانی پر یہ ایسا احسان ہے جسے وہ کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب انہوں نے شانتی بھوشن اور پرشانت بھوشن پر حملہ کیا تو لوگوں کو لگا کہ وہ کانگریس میں شامل ہونے کے لیے کوئی چال چل رہے ہیں۔ کسی کو امرسنگھ کی چال کی اصلیت کی بھنک تک نہیں لگی۔ ان کی نگاہیں کہیں اور تھیں اور نشانہ کہیں اور تھا۔ امرسنگھ نے ایک آڈیو سی ڈی کا حوالہ دیا اور جن لوک پال بل بنانے والے ماہرین قانون کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی۔ امرسنگھ کا پرشانت بھوشن پر اہم الزام یہ تھا کہ شانتی بھوشن اس ٹیپ میں یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ ان کے تعلقات جسٹس جی ایس سنگھوی سے اچھے ہیں۔ اچھا مینج کرتے ہیں۔ ایسے لوگ بدعنوانی سے کیسے لڑیںگے۔ انہیں لوک پال بل بنانے والی کمیٹی سے باہر رکھنا چاہیے۔ ان کے بیانات سے ایسا محسوس ہوا کہ امرسنگھ بدعنوانی کے خلاف تحریک چلانے والے لیڈروں کو آئینہ دکھا رہے ہیں۔ امرسنگھ کی چال کو میڈیا سمجھ نہیں سکا۔ سی ڈی اصلی ہے یا نقلی بات یہیں پر آکر ٹک گئی۔ پرشانت بھوشن دنیا کو یہ سمجھانے میں لگ گئے کہ کس طرح یہ سی ڈی نقلی ہے۔ ان کے جملوں کو الگ الگ کر کے جوڑا گیا ہے۔ کانگریس پارٹی کی بھی سمجھ میں نہیں آیا کہ امر سنگھ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ امرسنگھ کے بیانات سے ایسا لگا کہ وہ کانگریس پارٹی میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ اسی لیے وہ کانگریس کے بچاؤ میں انا ہزارے اور لوک پال بل کے لیے تحریک چلارہے ان کے حامیوں پر الزام لگا رہے ہیں۔ امرسنگھ اتنے ہی عام آدمی ہوتے تو شاید اس بلندی پر نہیں پہنچ پاتے۔
نوٹ کرنے والی بات یہ تھیکہ امرسنگھ اپنی پریس کانفرنس میں مسلسل جسٹس سنگھوی کا نام لے رہے تھے۔ وہ جسٹس سنگھوی کا نام کیوں مسلسل لے رہے تھے؟ امرسنگھ اور جسٹس سنگھوی کا رشتہ کیا ہے؟ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ جسٹس سنگھوی سپریم کورٹ میں چل رہے 2جی اسپیکٹرم گھوٹالہ کے کیس کے جج ہیں۔ اس کیس میں ملک کی بڑی بڑی ٹیلی کام کمپنیاں پھنسی ہوئی ہیں۔ کئی لوگوں کی گرفتاریاں ہوچکی ہیں۔ وزیر اے راجا کا استعفیٰ ہوچکا ہے۔ اس کیس سے انل امبانی کا نام بھی جڑا ہو اہے۔ معاملہ جسٹس سنگھوی کے کورٹ میں تھا اس لیے امرسنگھ نے اس آڈیو ٹیپ کو جاری کرکے ان پر دباؤ بنانے کی کوشش کی۔ وہ ایک تیر سے دو نشانے لگا رہے تھے۔ اس کے علاوہ جسٹس سنگھوی سے ان کا پرانا حساب کتاب بھی تھا۔
9 فروری کو سپریم کورٹ میں ایک واقعہ ہوا۔ جب وہاں امرسنگھ کی جم کر کھنچائی ہوئی۔ امرسنگھ 2006 کے فون ٹیپنگ کے معاملے میں سونیا گاندھی پر لگائے گئے الزام کو واپس لینا چاہتے تھے۔ سونیا گاندھی پر الزام لگاتے ہوئے امرسنگھ نے کورٹ کو بتایا تھا کہ برسراقتدار پارٹی اپنی طاقت کا غلط استعمال کر رہی ہے، لیکن اب وہ اس الزام کو واپس لے رہے ہیں۔ کورٹ میں ان کے وکیل کانگریس پارٹی کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی تھے۔ ان کے سامنے دو جج تھے۔ جسٹس جی ایس سنگھوی اور جسٹس اے کے گانگولی۔ امرسنگھ کے وکیل ابھیشیک منوسنگھوی نے یہ دلیل دی کہ انہوں نے اپنی نجی معلومات اور سمجھسے یہ الزام لگائے تھے، لیکن اب پتہ چل رہا ہے کہ سب کچھ فرضی ہے۔ اس پر جسٹس سنگھوی نے کہا کہ جب آپ ذاتی معلومات کہتے ہیں تو اس کا مطلب ایسی معلومات سے ہوتا ہے، جو آپ کو ذاتی طور پر معلوم ہو اور یہ وقت کے ساتھ بدل نہیں سکتی۔ عدالت نے کہا کہ اگر وہ آپ کی ذاتی معلومات تھی، تو اسے آپ خود جھٹلانہیں سکتے۔ عدالت نے یہاں تک کہہ دیا کہ آپ کی ذاتی معلومات مشتبہ ہے اور آپ کے حلف نامے نے عدالت کا وقت برباد کیا ہے۔ جسٹس سنگھوی نے کہا کہ عدالت نے آپ کے معاملے کی سنوائی شروع کی۔ کئی سال گزر چکے ہیں اور آپ کے بیانات کی بنیاد پر آپ کے معاملے کے لیے کئی گھنٹے صرف کیے گئے۔ ہم صرف انہیں پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ججوں نے ابھیشیک منو سنگھوی کو کئی بار درخواست کا وہ حصہ پڑھنے کو کہا، جس میں امر سنگھ نے کانگریس پارٹی اور اس کی صدر کے خلاف الزام لگائے تھے۔ اس دوران ابھیشیک منو سنگھوی کچھ پریشان نظر آئے۔ عدالت نے یہ بھی تبصرہ کیا کہ عدالت کو ایسے شخص کی درخواست پر سنوائی کیوں کرنی چاہیے، جو صاف ارادے سے نہیں آیا ہے۔ جسٹس سنگھوی کی عدالت میں جس طرح سے امرسنگھ کو ذلیل کیا گیاشاید وہ اسے بھول نہیں پائے۔ امرسنگھ کے سامنے یہ موقع آیا۔ انہوں نے حساب برابر کرنے اور اپنے عزیز دوست انل امبانی کو بچانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔
جب امرسنگھ نے پریس کانفرنس کی تب سی بی آئی 2جی اسپیکٹرم گھوٹالے کی دوسری چارج شیٹ تیار کر رہی تھی۔ ایسی امید لگائی جا رہی تھی کہ سی بی آئی کی دوسری چارج شیٹ میں کئی بڑے ناموں کا انکشاف ہوگا۔ انل امبانی، کنی موجھی اور ٹاٹا بھی مورد الزام ٹھہرائے جاسکتے ہیں۔ ان لوگوں کو بھی اے راجا کی طرح جیل کی ہوا کھانی پڑ سکتی ہے۔ سی بی آئی نے دو اپریل کو داخل کی گئی2جی اسپیکٹرم معاملہ کی پہلی چار شیٹ میں الزام لگایا تھا کہ سابق وزیر مواصلات اے راجا، سابق مواصلاتی سکریٹری سدھارتھ بیہورا ، راجا کے پرسنل سکریٹری آر کے چندولیہ ، شاہد عثمان بلوا اور سنجے چندرا وغیرہ نے ساز باز کر کے سوان ٹیلی کام اور یونی ٹیک گروپ کو فائدہ پہنچانے کے لئے اسپیکٹرم الاٹمنٹ کے عمل میں بے ضابطگیاں برتی تھیں۔اس چارٹ شیٹ میں ان کے علاوہ ڈی بی ریالٹی کے ڈائریکٹر ونود گوئنکا اور ریلائنس ٹیلی کام کمپنی کے گوتم دوشی، ہری نائر اور سریندر پیپرا کا نام ہے۔ 24اپریل تک سی بی آئی کو دوسری چار ج شیٹ جمع کرنی تھی۔ بدعنوانی کے خلاف ملک میں جو ماحول بنا ہے ، اور جسٹس کاپڑیا کے برتائو سے یہ امید جاگی ہے کہ بدعنوان کوئی بھی ہو اب اسے بخشا نہیں جائے گا۔ خواہ وہ کتنا بڑا بھی لیڈر ہو یا پھر صنعت کار سب کو سزا ملے گی۔ یہی وجہ ہے کہ سب کی نظر جسٹس سنگھوی ، جسٹس گانگولی اور سی بی آئی ڈائریکٹر اے پی سی سنگھ پر تھی۔
ایسا کیوں ہے کہ انل امبانی جیل کے باہر ہیں جبکہ 2جی اسپیکٹرم گھوٹالہ میںپھنسی چھوٹی کمپنیوں کے اہم مکھیا جیل کے اندر ہیں۔ رتن ٹاٹا کے خلاف بھی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ رتن ٹاٹا کا نام نیرا راڈیا ٹیپ معاملہ سے تنازعہ میں آیا تھا۔ اب جب اس معاملہ کی قلعی کھل گئی ہے تو یہی سمجھا جا سکتا ہے کہ 2جی اسپیکٹر م گھوٹالہ ایک سازش کے تحت انجام دیا گیا۔ ٹیلی کام کمپنیاں، نیرا راڈیا اور ان کے معاون اے راجا کو ہی ٹیلی کام منسٹر بنانا کیوں چاہتے تھے۔ مطلب صاف ہے کہ ان کمپنیوں کے مالکان کو یہ پہلے سے ہی پتہ تھا کہ حکومت بننے کے بعد اس وزارت میں کیا ہونے والا ہے۔ ڈی ایم کے کے سابق وزیرمواصلات دیاندھی مارن پہلے ہی اس گھوٹالہ کی بنیاد رکھ چکے تھے۔ ٹیلی کام کمپنیاں یہ چال چل رہی تھیں کہ کوئی ایسا شخص ٹیلی کام منسٹر بنے جو ان کے راستہ کا روڑا نہ بنے۔ اے راجا کو ٹیلی کام منسٹر بنانے کے پیچھے یہی رازتھا۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یو پی اے کی دوسری جماعتیں اتنی ہی معصوم ہیں کہ اس سازش کی انہیں بھنک تک نہیں لگی۔انل امبانی سے جڑا تنازعہ اور بھی گہرا ہے۔ بتایا یہ جاتا ہے کہ دونوں کے خلاف کارروائی اس لئے نہیں ہو سکتی کیونکہ وزیراعظم منموہن سنگھ اور پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئر مین مونٹیک سنگھ اہلو والیہ کا رتن ٹاٹا کے تئیں سافٹ کارنر ہے، وہیں امبانی پریوار کا سیدھا رشتہ سونیا گاندھی اور پرنب مکھر جی سے ہے۔ اس درمیان خبر یہ بھی ہے کہ انل امبانی کے بڑے بھائی مکیش امبانی بھی اب اپنے بھائی کے دفاع میں میدان میں آ گئے ہیں۔ ان سب کے باوجود اس کا کوئی امکان نہیں کہ انل امبانی بچ جائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کپاڑیا کا بدعنوانی کے خلاف جو رویہ ہے اس سے پورا سرکاری محکمہ ڈرا ہوا ہے۔کورٹ کا اس کیس میں کیسا رویہ ہے اس کی ایک مثال یہ ہے کہ کورٹ نے مرکزی حکومت کے اعتراض کو درکنار کرتے ہوئے 2جی اسپیکٹرم معاملہ میں سینئر وکیل ادے یو للت کو خصوصی سرکاری وکیل بنانے کا فرمان جاری کر دیا۔مرکزی حکومت اور انفورسمینٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)خصوصی سرکاری وکیل کی شکل میں للت کی تقرری کو لے کر ٹیکنیکل گرائونڈ پر سوال اٹھاتی رہ گئی۔ جسے سپریم کورٹ نے خارج کر دیا۔ کورٹ کو لگتا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے گھوٹالہ کی سماعت میں للت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔یہ کام بھی جسٹس جے ایس سنگھوی اور جسٹس اے کے گانگولی کی بینچ کے ذریعہ کیا گیا۔ 2جی اسپیکٹر م گھوٹالہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ کورٹ کے حکم کے تحت ہو رہا ہے۔ حکومت کی ساکھ بھی دائوں پر ہے۔ ایسے میں انل امبانی پر کارروائی کو روکنے کا طریقہ بس ایک ہی بچ گیا تھا اور وہ یہ کہ کسی طرح سے کورٹ پر دبائو ڈالا جائے۔ امر سنگھ نے یہی کام کیا۔ شانتی بھوشن اور پرشانت بھوشن کی آڑ میں انھوں نے جسٹس سنگھوی پر دبائو بنانے کی کوشش کی۔ امر سنگھ اپنے منصوبہ میں کامیاب ہو گئے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا کہ سی بی آئی کی دوسری چارج شیٹ میں نہ تو انل امبانی کا نام آیا اور نہ ہی ٹاٹا کا۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ 2جی اسپیکٹر م گھوٹالہ کی تفتیش میں سی بی آئی اور ای ڈی کا رویہ مشکوک ہے۔ سی بی آئی نے 2جی اسپیکٹرم گھوٹالہ میں بڑی مچھلیوں کو چھوڑ دیا ہے۔ سی بی آئی کی چارج شیٹ میں ریلائنس ٹیلی کام کے انل امبانی ، ایسار کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پرشانت روئیا اور ٹاٹا کا نام شامل نہیں ہے، جبکہ اس گھوٹالہ سے سب سے زیادہ فائدہ انہیں لوگوں کو ہوا ہے۔ شاہد بلوا کی سوان ٹیلی کام اور لوپ ٹیلی کام حقیقت میں ریلائنس کمیونکیشن اور ایسار گروپ کی مکھوٹا (فرنٹ) کمپنیاں ہیں۔ آر کام 2جی لائسنس پانے کی مستحق نہیں تھی۔ اس نے سوان ٹیلی کام کو فائنانس کیا۔ انل امبانی کی اس کمپنی میں50فیصد کی حصہ داری تھی۔ اس معاملہ میں سی بی آئی نے انہیں نہیں چھوا، جبکہ حقیقت میں ان کو فائدہ ملا تھا۔ وہیں ٹاٹا کو اس لئے فائدہ پہنچایا گیا کیونکہ انھوں نے تمل ناڈو کی اس این جی او کو اقتصادی مدد دی، جس کی ڈائریکٹر ڈی ایم کے کی ممبر پارلیمنٹ کنی موجھی ہیں۔ کنی موجھی کا نام چارج شیٹ میں آ گیا لیکن ٹاٹا کا نام آنا باقی ہے۔
چارج شیٹ میں امبانی اور ٹاٹا کا نام نہیں ہونے کا معاملہ اب سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ اس گھوٹالہ سے سب سے بڑا فائدہ انل امبانی کو پہنچا ہے۔ جس کمپنی میں ان کی حصہ داری ہے، وہ اس گروپ کی کمپنیوں کے چیئر مین ہیں۔رٹ میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ سی بی آئی نے انہیں بچانے کی کوشش کی اور صرف ان کے ملازمین کا نام چارج شیٹ میں شامل کیا۔مزے دار بات یہ ہے کہ یہ رٹ ایک این جی او کی طرف سے دائر کی گئی ہے اور اس کے وکیل ہیں پرشانت بھوشن اور اس کیس کی سماعت کرنے والے جج ہیں جسٹس اے کے گانگولی اور جسٹس جی ایس سنگھوی۔ اس درمیان آئی سی آئی سی آئی بینک کے ایک افسر کے بیان سے سنسنی پھیل گئی کہ اے ڈی اے جی کے چیئر مین انل امبانی اور ان کی اہلیہ ٹینا امبانی ہی 10کروڑ سے زیادہ کے چیک سائن کر سکتے ہیں۔2006-07میں انل دھیرو بھائی امبانی گروپ نے سوان ٹیلی کام کو 107کروڑ روپے ٹرانسفر کئے تھے۔ اس میں104کروڑ روپے ایک ہی چیک سے ٹرانسفر ہوئے۔ سی بی آئی کے مطابق آئی سی آئی سی آئی کے افسر امت کھوٹ نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ اتنی بڑی رقم صرف انل امبانی یا پھر ٹینا امبانی کے دستخط سے ہی ٹرانسفر ہو سکتی ہے۔ اس رٹ پر فیصلہ ہونا باقی ہے۔ کورٹ کے فیصلہ پر ہی یہ منحصر ہوگا کہ انل امبانی اور ٹاٹا پر کارروائی ہوگی یا نہیں، وہ جیل جائیں گے، یا نہیں۔ 2جی اسپیکٹر م گھوٹالہ کا کھیل ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *