نتیش کمار ماہر سیاستداں یا ذہین وزیراعلیٰ

Share Article

damiایک طرف یو پی کی سیاست میں طوفانی تبدیلی اور دوسری طرف بہار کی نتیش حکومت میں روز سیاسی ڈرامے کا نیا منظر، ایسے حالات میںبہت مشکل ہے کہ اپنی بات کہاں سے شروع کی جائے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نہ صرف ایک منجھے ہوئے سیاسی رہنما ہیں، بلکہ وہ ایک آئیڈیالاک کے طور پر بھی تسلیم کیے جاتے رہے ہیں۔ اس میں مبالغہ اس لئے نہیں کہ انہوں نے تاحال بہت سے انقلابات دیکھے ہیں۔ ان کے سیاسی کریئر کی ابتدا جے پی تحریک تھی اور اسی دوران انہوںنے دوب کی طرح دب دب کے جینا سیکھا اور ذہنی پختگی حاصل کی ۔ اتنا ضرور ہے کہ نتیش کمار کی سیاست 1980 کی دہائی کے بعد چمکی اوراس کے بعد مسلسل وہ اپنی پختہ کارذہانت کے ثبوت دینے میں کبھی پیچھے نہیں رہے۔ جب ریل کے وزیر بنے تو اس وقت بھی انہوںنے اپنی ذہانت کا ثبوت دیا اور جب بہار میں لالو پرسادسے علیحدگی اختیار کی تب بھی وہ بہار میں اپنا قد اونچا کرنے کامیاب رہے۔ اسی طرح 2015 میں بی جے پی سے الگ ہوکر تو انہوںنے گویا مثال ہی قائم کردی اور یہ ثابت کردیا کہ انہیں اقتدار کی قطعی پروا نہیں ہے۔ ان باتوں کے علاوہ بطور وزیراعلی نتیش کمار نے بہار میں کچھ ایسے کارہائے نمایاں انجام دیئے جن کی مثال ڈھونڈے سے نہیں ملتی ہے۔ ان میں حالیہ کارنامہ یہ ہے کہ انہوںنے ریاست کو شراب نوشی سے پوری طرح پاک کردیا اور شراب بندی کی تشہیربھی اس انداز میں کی کہ جیسے انہوںنے وہ کام سرانجام دیا ہے جس سے ملک گیر حمایت انہیں مل جائے گی۔ شاید گمان غالب تھا کہ دوسری ریاستوں میں بھی شراب سازی اور شراب نوشی کو مجرمانہ فعل قرار دے دیا جائے گا۔
ذرا اور پیچھے چلیں تو ان کے اقتدار کا وہ دور بھی سامنے آتا ہے جب انہوں نے ممبران اسمبلی کوحلقہ جاتی ترقیاتی فنڈ کی فراہی سے محروم کردیا۔ اس وقت کے حالات بھی کچھ ایسے ہی تھے اور اس امر کی تشہیر بھی اسی انداز میں کی گئی کہ جیسے ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی اس حوصلہ مندانہ اقدام کی تائید کی جائے گی۔وزیراعلی نتیش کمار کے ایک اور کام پر بہار کے لوگوں کو فخر ہے کہ جب عظیم اتحاد کی تشکیل کا رجحان پیدا ہواتھا۔ اس میں لالو پرساد پیش پیش تھے۔ نتیش کمار کو بی جے پی سے الگ ہوئے تب کافی عرصہ ہوگیا تھا اور تب تک ان کے خیالات میں نمایاں تبدیلی آگئی تھی۔ 2014 میں دہلی میں عظیم اتحاد کے قیام پر آر جے ڈی، جے ڈی یو، سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے سربراہان کی میٹنگ تھی ، ہوئی اور میٹنگ کے بعد نتیش کمار بغیر کسی تاخیر کے کانگریس چیئرپرسن مسز سونیا گاندھی سے ملنے ان کی رہائش پر پہنچ گئے۔خیال کیا جاتا ہے کہ اس وقت لالو پرساد کو ان کی ملاقات کسی حد تک ناگوار گذری تھی، تاہم اس میں کوئی اعتراض کا پہلو اس لئے سامنے نہیں آیا کہ ان کا مسز گاندھی سے اخلاقی لگائو تھا اور اس کیلئے وہ کسی بھی قسم کی پابندی سے مبرا تھے۔بہرحال عظیم اتحاد کا قیام عمل میں آیا اور بہار میں بی جے پی کو منہ کی کھانی پڑی۔یہاں تک تو سب ٹھیک ٹھاک چلتا رہا اور اتحاد میں کہیں سے کان بھرائی کا کسی کو شبہ تک نہیں ہوا۔
مرکزی اقتدار کی نوٹ بندی پر جب ملک بھر میں چہ میگوئیاں ہورہی تھیں اور بعض لیڈران ہر آن خم ٹھونک رہے تھے، عین ایسے وقت میں نتیش کمار نے نوٹ بندی کی حمایت سے مخالفین کو سکتے میں ڈال دیا۔ بعد میں لالو پرساد کو صفائی دینے کی نوبت آگئی کہ اتحاد میں کوئی کمزوری نہیں آئی ہے ۔ گویا نتیش کمار کی پالیسی پر اگر سرسری نظر ڈالی جائے تو کبھی کبھی بڑا کنفیوزن پیدا ہوتا ہے کہ ان کی نقل وحرکت میں سیاست کا عنصر زیادہ ہے یا دانشمندی کا۔ اس وقت یہ سوال اس لئے اہم ہے کہ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار ملک میں سکیولر چہرے کیلئے جانے جاتے ہیں کہ وہ ہمیشہ سکیولر ازم پر قائم رہے۔ مگر حال ہی میں جب مرکزی اقتدار نے نوٹ بندی کا اعلان کیا اور ملک کے تقریباً تمام گوشوں میں نرم یا گرم نوٹ بندی مخالف ہوائیں چلیں، ان حالات میں نتیش کمار نے مودی جی کی نوٹ بندی کی حمایت کرکے سکیولر پسندوں کو گویا چونکا دیا۔ خیال رہے کہ نتیش کمار ریاست میں شراب بندی کے معاملے میں بڑے پرجوش تھے گوکہ انہیں اپنے اپوزیشن کی جانب سے بڑی مخالفت کا سامنارہا، اس وقت مودی جی نے ان کی شراب بندی کوحمایت دی اور اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ ممکن ہے اس وجہ سے نتیش کمار نے گویا مودی جی کے قرض کو نوٹ بندی کی حمایت کرکے اتار دیا ہو۔
خیر، مکرشنکرانتی کے موقع پر بغیرآپسی مشورے کے بغیر بی جے پی لیڈران کو بڑے اہتمام سے مدعو کرلیا۔ظاہر ہے، اس کی وجہ سے کانگریسی لیڈران کو پریشانی ہوئی تھی کیوںکہ اس سے کہیں نہ کہیں ان کے وقار کو ٹھیس پہنچا تھا ۔بہرحال اس بات میں بھی زیادہ دم نظر نہیںآیا اس لئے اس پر زیادہ کھینچ تان نہیں ہوئی، کیوںکہ تہوار تو تہوار ہے اور ایسے میں کسی کی دلداری کرنے میں غلط کیا ہے۔ فروری کے اواخر میں کتاب میلے کے دوران ایسے ہی ایک حیران کردینے والا واقعہ رونما ہوا اور اس واقعہ میں کچھ زیادہ شدت نظر آئی۔ وزیر اعلی نے گاندھی میدان واقع کتاب میلے میں بے ارادہ کنول کے پھول میں رنگ بھرکر یہ دیکھانے کی کوشش کی کہ پینٹنگ میں انہیں خاصی دلچسپی ہے۔سوال اٹھنا لازم تھا کہ آخر وہ کنول ہی کیوں ؟ اسی طرح گزشتہ ہفتہ جب نتیش کمار مدھیہ پردیش گئے، وہاں اپنے بلند اخلاق کا ثبوت دے کر بی جے پی کے عوامی نظام تقسیم کی طرفداری میں پارٹی کی پالیسیوں کی دل کھول کر تعریفیں کرڈالیں۔
جب اتنے سارے واقعات یکے بعد دیگرے سامنے آنے لگیں تو ظاہر ہے اتحاد کی دوسری جماعت کے سربراہان کے کان تو کھڑے ہوںگے ہی۔اس کی معقول وجہ بھی ہے، کیوں کہ حالیہ چار ریاستوں میں ہوئے انتخابی نتائج سے کم وبیش ملک کی تقریباً تمام ریاستی پالیسیوں میں ایک نیا تزلزل دیکھا جارہا ہے۔ یوپی کے سلاٹر ہائوسز کے بند ہونے پر سیاست میں آنے والے انقلاب کی دھمک سے سکیولر پسند وزرائے اعلی اپنی اپنی ریاستوں کے ضابطوں پر نظر ثانی میں لگے ہیں۔ اندازہ تو ہے کہ اس کا اثر دیر پا نہیں ہوگا اور حالات کو معمول پر آنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا، تاہم بہار میں اب بھی اتحادی جماعت میں سب سے زیادہ مضبوط لالو پرساد کا خیمہ ہی نظر آرہا ہے اور یہ بات کہیں نہ کہیں نتیش کمار کے دل میں کھٹکا پیدا کرتا ہے۔ عام لوگوں کا خیال ہے، نتیش کمار اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ لالو پرساد اپنی عادت واطور سے اڑیل رویے کے حامل ہیں اور ریاستی سیاست میں ان کی پکڑ بھی اچھی ہے۔ حالانکہ ابھی اسمبلی انتخاب کا دور تک سن گن نہیںہے،مگر ان حالات میں اگر کوئی بڑی تبدیلی آتی ہے تو وہ لالو پرساد کو باور کرانے کی کوشش تو کرسکتے ہیں کہ وہ بھی سیاست کے ایک منجھے کھلاڑی ہیں۔ رہی بات ان کی دانشوری کی، اس معاملہ میں بھلا کسی کو کیوں شبہ ہو؟ انہوںنے ممبران اسمبلی سے ترقیاتی فنڈ کو بحق خود محفوظ کر لیا اور ثابت کردکھایا کہ اس کی وجہ سے ریاست میں نسبتاً ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز ہوئی ہے۔ انہوںنے شراب بندی کے نفاذ سے ریاست میں غنڈہ گردی پر قدغن لگائے تو ظاہر ہے یہ کافی جرائتمندانہ قدم تھا۔ انہوںنے نوٹ بندی کو صحیح کہا کیوں کہ یہ ان کا ذاتی نظریہ تھا۔ مکر سنکرانتی پر اپنوں کی پروا کیے بغیر دشمنوں کوگلے لگایا، کنول میں رنگ بھر کر فنکارانہ اظہار کیا، حالیہ بجٹ سیشن کے اختتام پر بی جے پی کے سرکردہ لیڈران کو عشائیہ بھی دیئے۔ بھلا کوئی کیسے تعین کرسکتا ہے کہ وزیراعلی بہار نے کون سا ایسا کام کیا جس کی وجہ سے وہ بی جے پی کے قریب ہونا چاہتے ہیں۔ گویا ان کے خیالات سے نااتفاقی کو محض اتفاق پر ہی موقوف کیا جاسکتا ہے۔ مگر اس کے پس پردہ وہ سیاسی رقابت میں اگر ایسے اقدام کرتے ہیں تو ان کی ذہانت پر شک کیا جانا غیر فطری نہیں ہے۔ انہیں اس بات کا علم ہے کہ وہ قومی سطح پر لالو پرساد سے زیادہ شہرت یا مقبولیت کے حامل نہیں ہیں، تاہم سنجیدہ سیاست میں ان کا اپنا بھی ایک مقام ہے۔ ایسے میں بڑا سوال یہی ہے کہ نتیش کمار بنیادی طور پر سیاست داں ہیں یا ان کی سیاست میں ذہانت کا عمل زیادہ ہے۔؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *