نکسلیوں سے نمٹنے کے لئے وزیر داخلہ کی وزرائے اعلیٰ کے ساتھ اہم میٹنگ

Share Article
Centre-State synergy imperative to wipe out Naxal menace from country: Amit Shah

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے مائو نواز مسئلہ کے حل کے لئے نکسل متاثرہ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ اہم میٹنگ کی۔ اس اجلاس میں مائونوازوںکے چیلنج سے نمٹنے اور ان کے خاتمے کے لئے اب تک کی جانے والی کوششوں کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ممکنہ حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہاں وگیان بھون میں پیر کے روز مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے نکسل متاثرہ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ہوئی میٹنگ کی صدارت کی۔ شاہ کے وزیر داخلہ بننے کے بعد سے نکسل متاثرہ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ان کی یہ پہلی ملاقات ہے۔ اس اجلاس میں شامل ہونے کے لئے 10 نکسل متاثرہ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کومدعوکیا گیا تھا۔ اجلاس میں جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ رگھوور داس، بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار، اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل، مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ کمل ناتھ، آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ جگن موہن ریڈی، اور اوڈیشہکے وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک شامل ہوئے،جبکہ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے چندرشیکھر راؤ، مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی میٹنگ میں شامل نہیں ہوئیں۔ اس کے ساتھ ہی مرکزی سیکورٹی فورسز کے سربراہ اور نکسل متاثرہ ریاستوں کے اعلیٰ پولیس افسران بھی میٹنگ میں شامل رہے۔

اس میٹنگ میں کانگریس کی حکومت والی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے شامل ہونے سے سمجھا جا رہا کہ نکسل سے مقابلے میں وہ بھی مرکزی حکومت کے ساتھ ہیں۔ اجلاس میں نکسلیوں کی غیر قانونی جائیداد، انہیں ملنے والی فنڈنگ پر نکیل کسنے سمیت تمام معاملات پر بات چیت ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی نکسل متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی کاموں میں تیزی لانے پر بھی زور دیا گیا۔

Image result for An important meeting with the Home Minister's Chief Minister to deal with the Naxals
اجلاس میں چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے کہا کہ چھوٹی ریاستیں نکسل واد سے زیادہ متاثر ہیں۔ انہوں نے چھتیس گڑھ حکومت کی طرف سے ریاست میں نکسل متاثرہ علاقوں میں کئے جا رہے ترقیاتی کاموںکی تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا کہقبائلیوں کی ترقی اور انہیں خود کفیل بنانے کی سمت میں ہر ممکنہ اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ساتھ ہی ریاست میں قبائلیوں کے خلاف فرضی اور جھوٹے مقدمات کی واپسی کا عمل چل رہاہے۔

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کہا کہ بائیں بازوکی انتہا پسندی کے خلاف جنگ مرکز اور ریاستوں کی مشترکہ جنگ ہے۔ لہٰذا اس پر ہونے والے اخراجات کو دونوں کے درمیان تقسیم کر برداشت کرنا چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *